مہاراشٹر ٹی ای ٹی: سات سالہ ریکارڈ ٹوٹا، 11.28 فیصد امیدواراہل؛ ٹی ای ٹی کے نتائج میں تاریخی اضافہ، 50 ہزار سے زائد امیدوار کامیاب

پونے: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر اسٹیٹ ایگزامینیشن کونسل کی جانب سے منعقدہ اساتذہ اہلیتی امتحان (ٹی ای ٹی) کا نتیجہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اس امتحان میں 50,369 امیدوار اہل قرار پائے ہیں، اور اس سال کے نتیجے میں 7 سے 8 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کونسل کی کمشنر انوراڈھا اوک نے پریس ریلیز کے ذریعے نتائج کی تفصیلات فراہم کیں۔ ٹی ای ٹی امتحان 23 نومبر کو منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے لیے 4,75,669 امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے 4,46,730 امیدواروں نے عملی طور پر امتحان دیا۔ ان میں سے 11.28 فیصد یعنی 50,369 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ امتحان کی عارضی جواب کنجی 19 دسمبر کو اور حتمی جواب کنجی 12 جنوری کو جاری کی گئی تھی۔
پیپر 1: امتحان دینے والے 1,90,902 امیدواروں میں سے 21,892 اہل قرار پائے۔
پیپر 2: امتحان دینے والے 2,55,829 امیدواروں میں سے 28,477 امیدوار اہل ٹھہرے۔
اب تک ٹی ای ٹی میں کامیابی کی اوسط شرح 3.5 فیصد رہی ہے۔ اس سے قبل سب سے زیادہ نتیجہ 2018 میں 5.13 فیصد اور 2013 میں 5.02 فیصد رہا تھا۔ دیگر برسوں میں یہ شرح 2.3 فیصد سے 3.70 فیصد کے درمیان رہی۔ مزید برآں، 2018 اور 2019 کے امتحانات میں بے ضابطگیوں میں ملوث 9,537 امیدواروں کی اسناد منسوخ کی جا چکی ہیں۔ اس پس منظر میں رواں سال 11.28 فیصد کا نتیجہ ایک نمایاں اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی اہل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، نیز ترقی (Promotion) کے لیے بھی ٹی ای ٹی کی اہلیت ضروری ہے۔ اسی وجہ سے اس سال رجسٹریشن کرنے والے امیدواروں کی تعداد بڑھی، اور ٹی ای ٹی سے متعلق رہنمائی میں بھی اضافہ ہوا۔ نتیجتاً اس سال کا نتیجہ بہتر رہا، یہ بات کونسل کے صدر نندکمار بیڈسے نے بتائی۔ مزید تفصیل کے مطابق، 16 جنوری کو عارضی نتیجہ جاری کیا گیا تھا۔ عارضی نتیجے پر موصول ہونے والے اعتراضات کے بعد، پیپر 1 کے مضمون ماحولیات (پریسر اسٹڈیز) میں چند سوالات..
سیٹ A: سوال نمبر 147، سیٹ B: 149، سیٹ C: 137، سیٹ D: 132
پر اعتراضات سامنے آئے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق ان سوالات کو منسوخ کر دیا گیا ہے، ایسا امتحانی کونسل نے واضح کیا۔



