تعلیم و روزگار

اب اُردو میڈیم اسکولوں پراُردو میڈیم اساتذہ کا ہی تقرر ہوگا؛ اکھل مہاراشٹراُردو شکشک سنگھٹنا کی کاوشیں ثمرآور

بلڈھانہ: (بذریعہ ذوالقرنین احمد) : اردو میڈیم اسکولوں پرغیر اُردو داں و غیر اُردو میڈیم اساتذہ کے تقرر کی اپنی گزشتہ غلطی سے رجوع کرتے ہوئے حکومتِ مہاراشٹر نے آئندہ سے اُردو میڈیم اسکولوں پر صرف اُردو داں اور اُردو ذریعۂ تعلیم سے آراستہ امیدواروں کا ہی تقرر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس ضمن میں آج ریاستی حکومت کی جانب سے حکومتی قرارداد (GR) کا باضابطہ اجرا عمل میں آیا۔ واضح رہے کہ کل مہاراشٹر اُردو اساتذہ تنظیم (اکھل مہاراشٹر اُردو شکشک سنگھٹنا AMUSS) کی جانب سے اس سلسلے میں مسلسل نمائندگی اور قانونی چارہ جوئی کی جارہی تھی جو آج ثمر آور ہوئیں۔
تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے پوترا پورٹل کے ذریعے ریاست بھر کے ضلع پریشد، مہانگر پالیکا، نگر پریشد وغیرہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر ٹی ای ٹی اور ٹی اے آئی ٹی کی بنیاد پر اہل امیدواروں کے تقررات عمل میں لائے جاتے ہیں۔ سال ۲۰۱۷ء اور سال ۲۰۲۲ء میں منعقدہ ٹی اے آئی ٹی میں محولہ نشانات کی بنیاد پر ریاست کے مختلف میڈیم کے اسکولوں پر ہزاروں اساتذہ کے تقررات عمل میں آئے۔ اردو میڈیم اسکولوں پر بھی یہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ لیکن ریاستی حکومت نے تعلیمی قوانین اور تعلیمی پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے اُردو میڈیم اسکولوں پر بڑی تعداد میں غیر اردو داں امیدواروں کا معلمین کی بحثیت سے تقرر کردیا۔ مراٹھی، انگریزی اور ہندی زبانوں کے مضمون معلمین کی حیثیت سے نیزسبھی سیمی انگلش-اردو میڈیم پرائمری اسکولوں پر اور سیمی انگلش اعلیٰ تحتانی اکولوں کے سائنس و ریاضی کے معلمین کے طور پر تقریباً ۲۵۰ مراٹھی و دیگر میڈیم سے فارغ غیر اُردو داں امیدواروں کو چور دروازے سے اُردو میڈیم اسکولوں میں داخل کیا گیا۔ اس سے جہاں ایک طرف اُردو میڈیم سے تعلیم یافتہ سیکڑوں اہل امیدوار ملازمت سے محروم رہے وہیں دوسری طرف اُردو میڈیم اسکولوں کے ہزاروں طلبہ کا ناقابلِ تلافی تعلیمی نقصان ہوا اور مسلسل ہورہا ہے۔ کیوں کہ غیر اُردو داں معلم کسی بھی مضمون کے بنیادی تصورات سے بچوں کو روشناس کرانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ وہ اردو داں طلبہ کے سوالات اور ان کے اشکالات کو بھی سمجھ نہیں پاتے۔ حکومت کی جانب سے کی گئی اس دیدہ و دانستہ نا انصافی کے خلاف اکھل مہاراشٹر اُردو شکشک سنگھٹنا کی جانب سے اول روز سے ہی احتجاج کیا جارہا ہے۔ اب تک حکومتی سطح پر اس ضمن میں مسلسل نمائندگی اور قانونی چارہ جوئی کی جاتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور محکمۂ تعلیمات کی جانب سے ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور گول مول جواب دے کر معاملے کو نپٹانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اکھل مہاراشٹر اُردو شکشک سنگھٹنا نے ہار نہیں مانی اور اس معاملے میں حکومت کا مسلسل تعاقب جاری رکھا۔ اس ضمن میں AMUSS کی جانب سے تنظیم کے ریاستی سیکرٹری شیخ ضمیر رضا نے اردو میڈیم کے امیدواروں کے ساتھ مل کر ایڈوکیٹ عزیز سر کے ذریعے بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں ریاستی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہوا ہے جس کی اب تک کئی شنوائیاں ہوچکی ہیں لیکن ہر بار حکومت عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ ایک حلف نامے میں حکومت نے اپنی اس غلطی کو الجھن کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے معاملے سے پلہ جھاڑنے کی کوشش بھی کی تھی۔ آخر کار حکومت کو اپنی غلطی ماننی پڑی اور پوتر مرحلہ دوم کی سلیکشن لسٹ میں ایک بھی غیر اُردو داں امیدوار کا انتخاب نہیں کیا گیا اور ۲۰ جنوری ۲۰۲۶ء کو ریاستی حکومت کے محکمۂ تعلیمات کی جانب سے باضابطہ ایک حکم نامہ(جی آر) جاری کرتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ آئندہ سے شکشک بھرتی کے تحت اُردو میڈیم اسکولوں پر غیر اُردو میڈیم اساتذہ کے تقررات نہیں کیے جائیں گے۔ اس سرکاری حکمنامے کے اجرا کے بعد اُردو میڈیم تعلیمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر طرف سے اکھل مہاراشٹر اُردو شکشک سنگھٹنا کے ذمہ داران کو مبارکبادیاں پیش کی جارہی ہیں اور ان سے اظہارِ تشکر کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی سیکرٹری شیخ ضمیر رضا نے ریاستی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ کامیابی اکھل مہاراشٹر اردو اساتذہ تنظیم کی مسلسل، سنجیدہ اور اصولی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ان شاء اللہ اب اُن تمام غیر اردو اساتذہ کے بارے میں بھی خصوصی کوشش کی جائے گی جو اس وقت اردو اسکولوں میں تعینات ہیں نیز اُردو میڈیم جونیئر کالج پر بھی غیر اُردو داں امیدواروں کا تقرر نہ ہو اس کے لیے حکومت اور عدالت دونوں سے مطالبہ کیا جائے گا تاکہ اردو میڈیم کی شناخت، معیارِ تعلیم اور طلبہ کے حق کا مکمل تحفظ ہو سکے۔ اردو تعلیم کے تحفظ اور فروغ کی یہ ایک مضبوط پیش رفت ہے۔ اس معاملے تنظیم کے ریاستی ترجمان جاوید خان کی خصوصی پیش رفت رہی۔ ریاستی صدر شیخ حنیف نے تنظیم کے تمام ذمہ داران، اُردو میڈیم امیدوار، اساتذہ اور حامیوں کو مبارکباد پیش کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!