مہاراشٹر

آکوٹ: سیاسی شرمندگی: بی جے پی،ایم آئی ایم اتحادچند گھنٹوں میں ٹوٹا ؛ مقامی لیڈروں پرکارروائی کی تلوار

اکولہ: (کاوش جمیل نیوز) :سیاست میں کب کیا ہو جائے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ حال ہی میں منعقدہ نگر پریشد اور نگر پنچایت انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کئی مقامات پر بی جے پی کے امیدوار نگر ادھیکش (صدرِ بلدیہ) منتخب ہوئے ہیں۔
اسی دوران آکوٹ نگر پریشد میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے بی جے پی کے مقامی لیڈروں نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اس اتحاد پر شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی پر سخت تنقید کی۔ چاروں طرف سے تنقیدی حملوں کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اکوت کے بی جے پی مقامی لیڈروں کو سخت کارروائی کی وارننگ دی۔
ادھر اس معاملے پر ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اور سابق رکنِ پارلیمان سید امتیاز جلیل نے بھی کھل کر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایم آئی ایم کسی بھی حال میں بی جے پی کے ساتھ نہیں جا سکتی۔ ان کے اس بیان کے بعد پارٹی کے اندر بھی بے چینی پیدا ہو گئی تھی۔
وزیر اعلیٰ کے انتباہ کے بعد بی جے پی نے ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد توڑنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اسی کے ساتھ پارٹی ذرائع کے مطابق، نگر پریشد میں ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کرنے والے ذمہ دار عہدیداروں کو بی جے پی کی جانب سے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔
اس صورتحال کے باعث آکوٹ کے بی جے پی رکن اسمبلی پرکاش بھارساکلے، شہر صدر، انتخابی انچارج، گروپ لیڈر اور دیگر اہم عہدیداروں پر کارروائی کی تلوار لٹک رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!