مہاراشٹر

اورنگ آباد میں آٹھ سڑکوں کی توسیع، ہزاروں تعمیرات پرانہدامی کارروائی جلد ہوگی شروع؛ توسیع کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے کارپوریٹروں کی رکنیت خطرے میں؛ سپریم کورٹ کے سخت احکامات

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :سڑکوں کی توسیع میں رکاوٹ بننے والی تعمیرات کو گرانے کی کارروائی میں مداخلت کرنے والے کارپوریٹروں کے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔ میٹنگ میں افسران کو ہدایت دی گئی کہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی دفعہ 1/10 (الف) (ڈ) کے تحت متعلقہ کارپوریٹر کو نوٹس جاری کیا جائے اور اس کے بعد کارروائی کی جائے۔ اس دفعہ کے مطابق سڑک کی توسیع یا تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کی مخالفت کرنے والے کارپوریٹر کی رکنیت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
بلدیاتی انتخابات مکمل ہونے اور 10 فروری کو میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب سے قبل میونسپل انتظامیہ الرٹ موڈ میں آ گئی ہے۔ ترقیاتی منصوبے کے تحت شہر کی آٹھ اہم سڑکوں کی توسیع کی مہم شروع کرنے کا فیصلہ پیر (دو فروری) کو پولیس انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کیا گیا۔ اس کے بعد شہر میں دوبارہ جلد ہی انہدامی کارروائیاں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میونسپل کارپوریشن نے جون اور جولائی کے دوران بھی سڑک توسیع مہم چلائی تھی، جس میں آٹھ سڑکوں پر کارروائی کرتے ہوئے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار تعمیرات کو منہدم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے یہ مہم روک دی گئی تھی، تاہم اب انتظامیہ نے دوبارہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کو کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں پولیس کے ساتھ اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں میونسپل کمشنر جی شری کانت، پولیس ڈپٹی کمشنر پنکج اتولکر، رتناکر نولے، انسداد تجاوزات محکمہ کے کنٹرول افسر سنتوش واہولے سمیت دیگر افسران موجود تھے۔
سپریم کورٹ نے میونسپل انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ سڑک توسیع کے دوران تمام قانونی عمل مکمل کیا جائے۔ اس کے مطابق سب سے پہلے متعلقہ سڑک کا ٹوٹل اسٹیشن سروے کیا جائے، متاثرہ املاک کے مالکان کو پیشگی نوٹس دیا جائے، ان کا مؤقف سنا جائے، اور اس کے بعد ہی اراضی حصول اور انہدامی کارروائی کی جائے۔
مزید ہدایت دی گئی کہ کارروائی کی تاریخ اور دن میونسپل اور پولیس انتظامیہ کی سہولت کے مطابق طے کیا جائے اور مہم شروع کرنے سے آٹھ دن قبل پولیس کو اطلاع دی جائے۔ انہدامی کارروائی کے دوران مکمل ویڈیو ریکارڈنگ بھی لازمی کی گئی ہے۔ اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اپنے اپنے وارڈوں میں کارپوریٹروں کے ذریعے عوام کو دیئے گئے وعدوں کا کیا ہوگا.کیا وہ صرف ایک چناوی جملے ہونگے جو کارپوریٹروں نے عوام سے اس تجاوزات کی کاروائی سے بچانے کی امید جتائی تھی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!