مہاراشٹر

مالیگاؤں میں اقتدار کی جنگ تیز؛ میئر ریس سے اے آئی ایم آئی ایم باہر، شندے گروپ کا ماسٹر پلان؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

مالیگاؤں: (کاوش جمیل نیوز) :مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی سیاست میں گزشتہ 3–4 دنوں کے دوران زبردست ڈرامائی موڑ دیکھنے کو ملے ہیں۔ اسی پس منظر میں منگل کو ایک بار پھر ’ہائی وولٹیج‘ سیاسی منظرنامہ سامنے آیا۔ بی جے پی اور کانگریس کے غیر متوقع اتحاد کا تجربہ ناکام ہونے کے بعد شیوسینا شندے گروپ نے اچانک سرگرمی تیز کرتے ہوئے میئر کے عہدے کے حصول کے لیے چالیں چلنا شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے میئر کے لیے امیدوار ہی نہ دینے کا فیصلہ کر کے سب کو چونکا دیا ہے۔ اگرچہ اے آئی ایم آئی ایم اور شیوسینا شندے گروپ کے قائدین سرکاری طور پر کچھ کہنے سے گریزاں ہیں، تاہم میونسپل کارپوریشن میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کے ایک ساتھ آنے کے امکانات پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔
منگل کو میئراورڈپٹی میئر کے عہدوں کے لیے نامزدگی فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ آخری دن شیوسینا شندے گروپ کی جانب سے لَتا گھوڑکے نے میئر کے لیے، جبکہ نریندر سونونے اور نیلیش کاکڑے نے ڈپٹی میئر کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے۔ اسلام پارٹی کی طاہرہ شیخ نے بھی میئر کے لیے نامزدگی داخل کی ہے، تاہم بتایا جا رہا ہے کہ یہ محض ڈمی امیدوار ہیں۔
پیر کو سیکولر فرنٹ کی جانب سے اسلام پارٹی کی نسرین بانو شیخ خالد نے میئر کے لیے، جبکہ سماجوادی پارٹی کے شانِ ہند نے ڈپٹی میئر کے لیے نامزدگی داخل کی تھی۔ منگل کو سماجوادی پارٹی کے مستقیِم ڈگنیٹی نے بھی ڈپٹی میئر کے لیے کاغذات جمع کرائے۔
21 نشستیں رکھنے والی اے آئی ایم آئی ایم کی جانب سے میئر کے لیے امیدوار اتارے جانے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بے چینی تھی، مگر پارٹی نے میئر کے عہدے کے لیے نامزدگی ہی داخل نہ کر کے الٹ پلٹ بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم آخری دن پارٹی نے ڈپٹی میئر کے لیے امیدوارمیدان میں اتارا ہے۔ رکنِ اسمبلی مولانا مفتی اسماعیل کے صاحبزادے حافظ عبداللہ نے ڈپٹی میئر کے لیے نامزدگی داخل کی ہے۔ اب شہر بھر کی نظریں اس بات پر ہیں کہ ڈپٹی میئر کے لیے اے آئی ایم آئی ایم کون سی حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے۔
گزشتہ جمعہ کو بی جے پی کے 2 اور کانگریس کے 3 ارکان،کل 5 نے مل کر ’بھارتیہ وکاس اگھاڑی‘ کے نام سے گروپ تشکیل دیا تھا، مگر بی جے پی قیادت نے اس گروپ کو منظوری نہیں دی، جس کے بعد پیر کو دونوں گروپوں کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ اس کے اگلے ہی دن منگل کو شیوسینا شندے گروپ اچانک میونسپل سیاست میں فعال ہو گیا اورمیئر و ڈپٹی میئر دونوں عہدوں کے لیے نامزدگیاں داخل کر دیں۔
موجودہ صورتِ حال میں میئر کے لیے 3 جبکہ ڈپٹی میئر کے لیے 5 امیدوار میدان میں ہیں، جس سے مقابلہ انتہائی سنسنی خیز ہو گیا ہے۔ عددی حساب کے مطابق سیکولر فرنٹ کے اپنے 40 ارکان ہیں، کانگریس کے 3 ارکان کی حمایت سے یہ تعداد 43 تک پہنچ جاتی ہے، جو واضح اکثریت ہے۔
اگر شندے گروپ (18 نشستیں) اور اے آئی ایم آئی ایم (21 نشستیں) مل کر انتخاب لڑتے ہیں تو مجموعی تعداد 39 بنتی ہے۔ ایسے میں 2 نشستیں رکھنے والی بی جے پی کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ اگر بی جے پی شندے گروپ کی حمایت کرتی ہے تو تعداد 41 تک پہنچ سکتی ہے، اور یوں سیکولر فرنٹ (43) کے مقابلے میں شندے گروپ (41) کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اگر بی جے پی غیر جانبدار رہتی ہے تو سیکولر فرنٹ کے لیے اقتدار کا راستہ مزید ہموار ہو جائے گا۔
اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ اکثریت کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ شندے گروپ نے عین وقت پراقتدار کے حصول کی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اب سب کی نگاہیں شندے گروپ کے رہنما اور ریاستی وزیرِتعلیم دادا بھوسے پرمرکوزہیں کہ وہ اس موقع پرکون سا ’ماسٹر اسٹروک‘ کھیلتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!