مہاراشٹر

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجودممبئی فسادات میں لاپتہ افراد کی تلاش نامکمل؛حکومت اورپولیس انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے گمشدہ افراد کے ورثاء ناانصافی کا شکار ہیں

ممبئی: 8،جنوری(یواین آئی) : ممبئی پولیس نے گزشتہ سال 31 برس بعد 1993 کے فسادات کے دوران ضمانت پر رہا ہو کر مفرور ہونے والے 65 سالہ سید نادرشاہ عباس خان کو جنوبی ممبئی کے سیوڑی سے گرفتار کیا، جسے غیر قانونی اجتماع اور اقدامِ قتل کے معاملے میں نامزد کیا گیا تھا,اس گرفتاری کو بڑے پیمانے پر نمایاں کوریج ملی، تاہم انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے کارکنوں کے مطابق ریاستی مشینری گمشدہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی تلاش کے معاملے میں وہی سنجیدگی نہیں دکھارہی ہے۔ ممبئی میں 8جنوری 1993 کو دوسرے دور کا خونریز فسادات شروع ہوگئے تھے۔جانی ومالی نقصان کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں لوگ گمشدہ ہوگئے تھے ۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد دسمبر 1992 اور جنوری 1993 کے دوران ممبئی میں پھوٹنے والے خونریز فسادات کو تین دہائیاں گزر جانے کے باوجود گمشدہ متاثرین کا سراغ نہیں مل سکا، حالانکہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال مہاراشٹر حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ گمشدہ افراد کو تلاش کرنے اور ان کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے مؤثر کارروائی کرے
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ ایک فیصلے میں مہاراشٹر حکومت کو ہدایت دی تھی کہ 93-1992 کے فسادات کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے قانونی ورثاء کو 2-2 لاکھ روپے معاوضہ اور 22 جنوری 1999 سے 9 فیصد سالانہ کے حساب سے سود ادا کیا جائے، اور یہ سارا عمل نو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے،لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔
عدالت عالیہ نے واضح کیا کہ جسٹس بی این سری کرشنا کمیشن کی سفارشات پر ریاست نے مکمل عمل نہیں کیا اور فسادات سے متاثرہ شہریوں کے باوقار زندگی گزارنے کے حق کو شدید نقصان پہنچا، اس لیے معاوضہ ان کے بنیادی حقوق کی تلافی کی ایک جزوی کوشش ہے۔صحافی جاوید جمال الدین، جو سری کرشنا کمیشن کی کارروائی کور کر چکے ہیںاور رپورٹ کا اردوترجمہ کیا ہے۔جاوید نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو تین دہائیوں میں لیا گیا ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ریاست کی ناکامی کو ریکارڈ پر لایا، مگر مداخلت کو معاوضے تک محدود رکھا، جس سے فوجداری انصاف اور ادارہ جاتی جواب دہی کے محاذ پر خلا برقرار ہے۔ان کے مطابق شہر کے مختلف پولیس تھانوں کا عملہ، "مِسِنگ” سیل اور اے ٹی ایس ٹیمیں گمشدہ افراد کے اہل خانہ کو کچی آبادیوں، تنگ گلیوں اور مضافاتی علاقوں میں تلاش تو کر رہی ہیں، لیکن تین دہائیوں کا وقفہ، نقل مکانی اور ریکارڈز کی کمی اس کام کو انتہائی دشوار بنا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق قدوائی نگر، انٹاپ ہل، دھاراوی، جوگیشوری، گوونڈی، شیواجی نگر اور اطراف کے علاقوں میں ٹیمیں متاثرہ خاندانوں کے سراغ میں سرگرم ہیں اور عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ گمشدہ افراد سے متعلق کوئی بھی معلومات فراہم کریں۔اس کے باوجود حقوقِ انسانی کے کارکن کہتے ہیں کہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود نہ مکمل فہرست تیار ہو سکی، نہ تمام مستحقین تک معاوضہ پہنچ پایا، اور سپریم کورٹ کی سخت ہدایات کے باوجود زمینی سطح پر پیش رفت انتہائی محدود ہے۔
ہری مسجدوڈالا میں پولیس کی گولی کا شکار بنےفاروق ماپکربھی ان تین دہائیوں میں انصاف سے محروم ہیں اور ہائی کورٹ میں ان کی کیا کلوزر کی سی بی آئی کی رپورٹ پر مقدمہ زیرسماعت ہے۔انہوں نے کہاکہ وڈالا قدوائی نگر،پرتکشانگرانٹاپ ہل اور کرلا میں گمشدگی کے معاملات سب سے زیادہ پیش آئے تھے،ان تین دہائیوں میں بہت سے ورثاء دوسری جگہوں پرمنتقل ہوگئے ہیں جبکہ کئی اپنے آبائی وطن لوٹ گئے ہیں۔اس لیے انہیں تلاش کرنے میں دشواری پیش آرہی ہیں۔
یواین آئی/ اے اے اے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!