مضامین

کم عمری میں موبائل کا بے جا استعمال بچوں کی جسمانی نشوونما، ہارمونل توازن اور نفسیات پر خاموش حملہ

dr ahmed urooj mudassir akolaازقلم: ڈاکٹر احمد عروج مدثر (اکولہ)
7875836830
ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ آنکھ کھولتے ہی ماں کے چہرہ کے ساتھ ساتھ موبائل کے فلش کو دیکھتا ہے۔ بچے کی پیدا ہوتے ہی بچے کی تصویر موبائل کی اسکرین پر ایسے نمودار ہوتی ہے گویا وہ بھی نو ماہ سے منتظر تھی۔آج ماں کی گود میں بچے کہانی نہیں، ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ بعض والدین اس غیر اخلاقی حرکت کو موجبِ امتیاز بنا کر پیش کرتے ہیں کہ ہمارا بچہ اسلامی ویڈیوز دیکھ کر پُرسکون ہوتا ہے۔ بچے انگلی پکڑ کر چلنا سیکھنے سے پہلے اسکرول کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ پیدائش کے پہلے دن سے ایک سال کی عمر تک کبھی کبھی بچوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے، نیند نہیں آتی، رات بھر بچے روتے ہیں، چڑچڑ کرتے ہیں تو ڈاکٹرز کچھ ایسے ڈراپس دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کو نیند آتی ہے۔ یہ طبی طریقہ ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ بچوں کے لئے درکار مقدار میں یہ نیند کی دوائیں sedative ہوتی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں افیون پتھر پر گھس کر سوئی کی نوک کے برابر بچوں کو دیتے تھے تاکہ ان کی بے چینی ختم ہو اور وہ سو جائیں۔ کورکھا سماج میں ماں رات میں بچے کو دودھ پلانے سے پہلے بھنگ پیتی تھی تاکہ بچے کو بھی نشہ آئے اور وہ سو جائے۔ ان تمام روایتی طریقوں سے ایک ہزار گنا خطرناک بچے کو پُرسکون کرنے یا خاموش کرنے کے لئے موبائل دینا ہے۔ موبائل کا استعمال بظاہر یہ ترقی ہے، مگر حقیقت میں یہ بچپن کی فطری ساخت پر ایک خاموش یلغار ہے، جس کا اندازہ والدین کو بہت دنوں بعد ہوتا ہے۔
کمی عمری انسانی زندگی کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں جسم کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں، دماغ کے نیٹ ورک بنتے ہیں، ہارمونل نظام (Hormonal System) اپنی ترتیب پاتا ہے، اور نفسیاتی سانچہ تشکیل پاتا ہے۔ اس عمر میں کھیل، دوڑ، مٹی، درخت، سوال، گفتگو اور جذباتی ربط وہ قدرتی غذا ہے جس سے انسان وجود میں توازن آتا ہے۔ مگر اسکرین (Screen) اس پورے فطری عمل کو آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے بدل دیتی ہے۔
اسی فطری تقاضے کی سب سے خوبصورت تصویر ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ میں ملتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے، انہیں کندھوں پر بٹھاتے تھے، ان کے ساتھ دوڑتے تھے، ان کی بات پوری توجہ سے سنتے تھے، اور ان کی نفسیات و جذبات کا غیر معمولی لحاظ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حسنؓ یا حسینؓ آپ کی پیٹھ پر سوار ہو گئے، آپ ﷺ نے سجدہ طویل کر دیا تاکہ بچہ خود اترے (صحیح بخاری)۔ یہ محض شفقت کا منظر نہیں، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام بچے کو خاموش رکھنے کے حق میں نہیں، بلکہ اس کے فطری اظہار، جسمانی حرکت اور جذباتی اطمینان کا محافظ ہے۔ نبی ﷺ کا بچوں کے ساتھ یہ رویہ دراصل اس حقیقت کی تربیت ہے کہ صحت مند جسم اور متوازن نفس کا راستہ گود، کھیل اور تعلق سے ہو کر گزرتا ہے، اسکرین سے ہو کر نہیں۔
طبی تحقیق بتاتی ہے کہ اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں جسمانی حرکت (Physical Activity) کم ہو جاتی ہے۔ اس کا براہِ راست اثر گروتھ ہارمون (Growth Hormone) پر پڑتا ہے۔ گروتھ ہارمون بنیادی طور پر گہری نیند (Deep Sleep)، کھیل اور جسمانی سرگرمی کے دوران زیادہ خارج ہوتا ہے۔ مسلسل موبائل استعمال کرنے والے بچوں میں نیند کی بے قاعدگی، موٹاپا یا دبلا پن، کمزور پٹھے، آنکھوں کی تھکن، گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نیز اپنی عمر سے کہیں زیادہ غیر مناسب جملوں کا سیکھنا بچوں کی معصومیت کے ساتھ ساتھ نفسیات پر ایک ایسا حملہ ہے جس کا علاج ممکن نہیں ہو پاتا۔ یہ علامات نہیں، آئندہ زندگی کے خطرے کے اشارے ہیں۔
ہارمونل توازن انسانی شخصیت کا خاموش نگہبان ہوتا ہے۔ بھوک، نیند، موڈ، توجہ، بلوغت اور جذباتی استحکام سب اسی نظام سے جڑے ہیں۔ اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی (Blue Light) دماغ میں میلاٹونن (Melatonin) جیسے اہم ہارمون کو متاثر کرتی ہے، جو نیند اور ذہنی سکون کا بنیادی ذمہ دار ہے۔ نتیجتاً بچہ مسلسل چوکنا (Overstimulated) رہتا ہے، جس سے بے چینی، چڑچڑاپن، عدمِ توجہ (Attention Deficiency) اور جذباتی بے ترتیبی جنم لیتی ہے۔
نفسیاتی سطح پر موبائل بچوں کو ایک مصنوعی دنیا (Virtual World) کا عادی بنا رہا ہے، جہاں ہر خوشی فوری، ہر خواہش ایک کلک پر اور ہر دلچسپی بغیر محنت کے دستیاب ہے۔ اس کے نتیجے میں صبر، انتظار، برداشت اور جذباتی بلوغت کمزور پڑ رہی ہے۔ کھیل کے میدان ویران ہو رہے ہیں اور اسکرین کے کمرے آباد۔
ایک نہایت خطرناک پہلو احساسِ محرومی (Sense of Deprivation) کا بڑھنا ہے۔ سوشل میڈیا (Social Media) پر دکھائی جانے والی چمکتی زندگیاں، فلٹر شدہ چہرے اور بناوٹی مسکراہٹیں بچے کے لاشعور میں مستقل تقابل (Comparison) پیدا کرتی ہیں۔ وہ اپنی حقیقت کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، اور یہ احساسِ کم تری (Inferiority Complex) آہستہ آہستہ اضطراب (Anxiety)، اداسی (Depression) اور خود اعتمادی کی کمزوری میں بدلنے لگتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے بچے digital gadgets کو روانی سے چلاتے ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ YouTube کہاں ہے، اسے کیسے کھولتے ہیں، اس پر search کیسے کرتے ہیں، game apps کہاں ہیں اور کس طرح کھیلتے ہیں، لیکن وہی بچے لوگوں سے ملنے میں شرماتے ہیں، جھجھکتے ہیں، اور اپنے جذبات جلدی express نہیں کر پاتے۔ درحقیقت بچوں کی ضد کو مکمل کرنے، ان پر توجہ نہ دینے اور انہیں موبائل کا عادی بنا کر ان کا جو قتل کیا گیا ہے، یہ اسی کا انجام ہے۔
بطور کاؤنسلر میں اکثر یہ دیکھتا ہوں کہ مسئلہ بچوں کی ضد نہیں، اسکرین پر انحصار (Screen Dependency) ہے۔ مسئلہ نافرمانی نہیں، جذباتی بھوک (Emotional Hunger) ہے۔ مسئلہ ذہانت کی کمی نہیں، توجہ کی بربادی (Attention Erosion) ہے۔ موبائل بچے کو خاموش تو رکھ دیتا ہے، مگر مضبوط نہیں بناتا۔ مصروف تو کر دیتا ہے، مگر متوازن نہیں بناتا۔
یہ بات دل میں بٹھانے کی ہے کہ موبائل بذاتِ خود برائی نہیں، مگر کمی عمری میں اس کا بے جا، بے وقت اور بے مہار استعمال ایک خاموش طبی و نفسیاتی حملہ ہے۔ اصل ذمہ داری موبائل چھیننا نہیں، بلکہ بچپن لوٹانا ہے۔
قرآنِ مجید اولاد کو محض نعمت نہیں بلکہ امانت اور آزمائش قرار دیتا ہے: ” اِنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ” ۔۔۔۔۔ اور رسول اللہ ﷺ نے والدین کے کردار کو محض پرورش نہیں بلکہ ذمہ داری اور جواب دہی سے جوڑا: ” کُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ” (بخاری، مسلم)
بچہ اگر اسکرین کے حوالے کر دیا گیا تو یہ محض تربیتی کوتاہی نہیں رہے گی، یہ ایک امانت کے ضائع کرنے کا نام ہوگا، جس کا حساب صرف اسکول میں نہیں، رب کے حضور بھی دینا ہوگا۔

▪️ والدین کے لیے دس نکاتی فارمولا
1. اسکرین کے واضح اوقات طے کریں (Screen Time Limits) اور خود بھی اس کی پابندی کریں۔
2. سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل مکمل بند کروائیں (Digital Curfew)۔
3. روزانہ کھیل اور جسمانی سرگرمی کو لازم بنائیں (Daily Physical Play)۔
4. کھانے کے وقت اسکرین کو مکمل ممنوع قرار دیں (No Screen at Meals)۔
5. بچوں کے ساتھ روزانہ بات چیت کا وقت مقرر کریں (Daily Conversation Time)۔
6. کہانی، کتاب اور سوال و جواب کو معمول بنائیں (Reading & Storytelling)۔
7. بچوں کو سوشل میڈیا سے حتی المقدور دور رکھیں (Delay Social Media Exposure)۔
8. ان کے جذبات کو سنیں، صرف مصروف نہ کریں (Emotional Availability)۔
9. خود موبائل کے محتاط استعمال کا نمونہ بنیں (Role Modeling)۔
10. مسئلہ بڑھ جائے تو ماہرِ نفسیات یا کاؤنسلر سے ضرور رجوع کریں (Professional Counseling)۔
اگر بچپن موبائل کے حوالے کر دیا گیا تو جوانی علاج گاہوں میں گزرے گی۔
اور اگر آج شعور، توازن اور حدود قائم کر لی گئیں تو کل ایک صحت مند جسم، متوازن ذہن اور مضبوط شخصیت ہماری نسل کا سرمایہ ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!