اقتدار کی بساط پرآخری چال؟ کلّیان، ڈومبیولی میں میئرکی کرسی، اتحادیوں کی کشمکش اوربدلتی وفاداریاں

کلّیان: (کاوش جمیل نیوز) :ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن میں بلدیاتی انتخابات کے بعد جو سیاسی منظرنامہ ابھرا ہے، وہ صرف ایک میئر کے انتخاب تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ کشمکش اب طاقت، انا، اتحادی سیاست اور مستقبل کی حکمتِ عملی کی علامت بن چکی ہے۔ انتخابی نتائج کے ساتھ ہی واضح ہو گیا تھا کہ مہایوتی کو عددی برتری حاصل ہے، مگر اسی برتری نے اندرونی اختلافات کو بھی جنم دیا، جس کا مرکز میئر کا عہدہ بن گیا۔
انتخابات میں شندے گروپ کی شیوسینا سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، جب کہ بی جے پی نے بھی مضبوط تعداد کے ساتھ اپنی موجودگی درج کرائی۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (UBT) کو عوامی سطح پر دھچکا لگا اور پارٹی محدود نشستوں تک سمٹ کر رہ گئی، جبکہ مہاراشٹر نونرمان سینا نے چند سیٹیں جیت کر خود کو طاقت کے توازن میں ایک ممکنہ فیکٹر کے طور پر پیش کیا۔ بظاہر یہ تصویر صاف تھی کہ اقتدار مہایوتی کے پاس ہے، مگر سوال یہ تھا کہ اس اقتدار کی علامت یعنی میئر کی کرسی کس کے حصے میں آئے گی۔
شندے گروپ کا موقف ابتدا ہی سے سخت رہا ہے کہ سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کی بنیاد پر میئر ان کا حق ہے۔ دوسری طرف بی جے پی، جو ریاستی سطح پر اقتدار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، یہ ماننے کو تیار نہیں کہ شہری سیاست میں اسے ثانوی کردار دیا جائے۔ یہی اختلاف رفتہ رفتہ پسِ پردہ گفت و شنید سے نکل کر کھلے سیاسی دباؤ میں تبدیل ہوتا گیا۔ اجلاس، ملاقاتیں اور اندرونی مشاورتیں ہوئیں، مگر اتفاقِ رائے اب تک سامنے نہیں آ سکا۔
اسی دوران ایم این ایس کی اچانک سرگرمی نے سیاسی بساط کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ شندے گروپ کو حمایت دینے کے اشاروں نے نہ صرف عددی کھیل کو بدلنے کی صلاحیت پیدا کی بلکہ بی جے پی پر دباؤ بھی بڑھا دیا۔ اگر یہ حمایت باضابطہ شکل اختیار کر لیتی ہے تو میئر کا پلڑا شندے گروپ کی طرف واضح طور پر جھک سکتا ہے، جس کے سیاسی اثرات صرف KDMC تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مہاراشٹر کی مجموعی سیاست میں بھی اس کی گونج سنائی دے گی۔
ادھر ادھو ٹھاکرے گروپ کی شیوسینا کے لیے یہ مرحلہ سب سے زیادہ کٹھن ثابت ہو رہا ہے۔ انتخابی ناکامی کے بعد پارٹی میں بے چینی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ دو منتخب کارپورٹرز کے اچانک غیر رابطہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں، جن پر قیادت کو نوٹس جاری کرنے پڑے۔ اس صورتحال نے دلبدل، وفاداریوں میں تبدیلی اور سیاسی سودے بازی کی افواہوں کو مزید ہوا دی، جس سے پارٹی کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
سیاسی رسہ کشی کا اثر میونسپل انتظامیہ پر بھی صاف نظر آ رہا ہے۔ میئر اور اسٹیڈنگ کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر کے باعث ترقیاتی منصوبے، بجٹ سے متعلق فیصلے اور شہری سہولیات کے اہم امور التوا کا شکار ہیں۔ عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ اقتدار کی لڑائی میں شہری مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، جب کہ شہر کو فوری فیصلوں اور مستحکم قیادت کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر کلّیان–ڈومبیولی اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اقتدار تو تقریباً طے ہے، مگر اختیارات کی تقسیم اور سیاسی انا کی جنگ نے حتمی فیصلہ روک رکھا ہے۔ آنے والے دنوں میں جیسے ہی میئر کے انتخاب کا اعلان ہوگا، یہ واضح ہو جائے گا کہ مہایوتی کے اندر طاقت کا توازن کس سمت جھکتا ہے اور KDMC میں ترقی اور سیاست کا سفر کس راہ پر گامزن ہوگا۔ فی الحال اتنا طے ہے کہ یہ محض ایک بلدیہ کی کہانی نہیں، بلکہ مہاراشٹر کی سیاست میں بدلتے اتحاد اور نئی صف بندیوں کی واضح جھلک ہے۔



