مضامین

سوشل میڈیا ڈیٹاکس کیوں ضروری ہے؟

تحریر: نکہت انجم ناظم الدین
عصر حاضر میں انسان بظاہر باہری دنیا سے جتنا جڑتا جارہا ہے خود سے اتنا ہی دور ہوتا جا رہا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ہاتھ موبائل کی طرف بڑھتا ہے اور رات کو نیند آنے سے پہلے آخری نظر بھی اسکرین پر پڑتی ہے۔ یہ ایک معمول بن چکا ہے۔ ایک ایسی عادت جسے ہم نے زندگی کا حصہ سمجھ لیا ہے حالانکہ یہی عادت آہستہ آہستہ ہمارے ذہنی سکون، جذباتی توازن اور اندرونی خوشی کو کمزور کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔جیسے رابطہ، معلومات اور مافی الضمیر کی آزادی وغیرہ لیکن اسی کے ساتھ اس نے ہمیں ایک ایسے شور بھی میں دھکیل دیا ہے جہاں خاموشی اور سکون نایاب ہو گئے ہیں۔انسانی دماغ فطری طور پر سکون اور توازن چاہتا ہے لیکن مسلسل اسکرین پر نظریں جمائے رکھنا، ایک کے بعد ایک ویڈیوز دیکھنا، لاتعداد پوسٹس اور تبصرے پڑھنا۔ ان تمام سرگرمیوں کی وجہ سے دماغ کو ایک لمحے کے لیے بھی آرام نہیں مل پارہا ہے۔ نتیجتا ہم بغیر کسی واضح وجہ کے بھی تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ تھکن جسمانی نہیں ہے بلکہ ذہن اور جذبات کی تھکن ہے۔ انسان چڑچڑا ہوتا جارہا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بےچینی محسوس کررہا ہے اور اس کی توجہ بکھرنے لگی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو مصروف تو سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت میں مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو مکمل طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی۔ ہر طرف مسکراتے چہرے، کامیابیوں کے جشن، تقاریپ، خوبصورتی اور خوشیوں کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن ان کے پیچھے کی محنت، وسائل، مسائل اور کمزوریاں نہیں دکھائی جاتیں۔ خواتین جب روزانہ ایسی زندگیوں کو دیکھتی ہیں تو وہ لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا موازنہ ان سے کرنے لگتی ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ شاید وہ پیچھے رہ گئی ہیں، شاید ان کی خوشی کم ہے، شاید وہ اتنی کامیاب یا خوبصورت نہیں ہیں جتنے باقی لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو بے چینی کی وجہ بن جاتا ہے اور وقت کے ساتھ احساسِ کمتری میں بدل جاتا ہے۔
مسئلہ صرف یہیں تک نہیں ہے۔ سوشل میڈیا نے ہماری خوشی کو دوسروں کی رائے سے بھی جوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک تصویر یا خیال شیئر کرنے کے بعد ہم لاشعوری طور پر اس کے ردِعمل کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر تعریف ملے تو خوشی ہوتی ہے، اگر کم توجہ ملے تو دل میں ایک خلش رہ جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ انسان اپنی قدر کا اندازہ اوروں کے رویّے سے لگانے لگتا ہے۔ یہ کیفیت خطرناک ہے کیونکہ اس میں ہم اپنی خودی کو اوروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ اس نے میرا اسٹیٹس لائک نہیں کیا۔ اس نے اسٹوری دیکھ کر بھی مبارکباد نہیں دی۔ اس نے ایسے کیوں کیا؟ اس نے ویسے کیوں نہیں کیا؟ غرض کئی طرح کے سوالات اور الجھے ہوئے رویوں کا شکار ہوکر ہم اپنی ذہنی صحت خود برباد کرتے ہیں۔ اوروں کی پسند اور ان کے ویلیڈیشن کے اسیر ہوکر زندگی کو مایوس کن بنا لیتے ہیں۔رشتوں پر بھی اس کا اثر واضح نظر آتا ہے۔ ہم ایک ہی جگہ بیٹھے ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر کہیں اور ہوتے ہیں۔ گھر میں موجودگی کے باوجود توجہ اسکرین پر ہوتی ہے۔ بات چیت کم ہو گئی ہے، احساس کی گہرائی کم ہو گئی ہے اور وہ چھوٹے چھوٹے لمحے جو رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں، آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں۔ والدین بچوں سے دور ہورہے ہیں۔ بچے والدین سے دور ہورہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے پوری دنیا تو "گلوبل ویلیج” میں بدل گئی ہے لیکن ایک کمرے میں بیٹھے افراد کے درمیان میلوں کے فاصلے ہوگئے ہیں۔یہ فاصلے لڑائی جھگڑے سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ خاموشی سے پیدا ہوئے ہیں اور یہی ان کی سب سے خطرناک وجہ ہے۔اسی طرح وقت کا ضیاع بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ ایک خاموش نقصان ہے۔ وہ وقت جو ہم اپنے آپ کو بہتر بنانے، کچھ نیا سیکھنے یا اپنے پیاروں کے ساتھ گزار سکتے تھے، وہ غیر محسوس طریقے سے اسکرین کی نذر ہو جاتا ہے۔ چند منٹ کی عادت گھنٹوں میں بدل جاتی ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم نے اپنی زندگی کا کتنا قیمتی حصہ صرف غیر ضروری سرگرمیوں میں گزار دیا اور کھل کر جی بھی نہیں پائے۔
ایسی صورتحال میں سوشل میڈیا ڈیٹاکس ایک ضرورت بن کر سامنے آیا ہے۔سوشل میڈیا ڈیٹاکس سوشل میڈیا کو مکمل طور پر چھوڑ دینے پر اصرار نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے تعلق کو متوازن بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہم جب شعوری طور پر یہ طے کرتے ہیں کہ ہم کب اور کتنی دیر سوشل میڈیا استعمال کریں گے تو آہستہ آہستہ اس کے اثرات سے آزاد ہونے لگتے ہیں۔ کچھ وقت کے لیے اسکرین سے دوری دماغ کو سکون دیتی ہے، دل کو ہلکا کرتی ہے اور ہمیں خود کے قریب لے آتی ہے۔جب ہم اس ڈیجیٹل شور شرابے سے باہر نکلتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اصل زندگی اسکرین کے اندر نہیں ہے بلکہ اس کے باہر ہے۔ وہ لمحے جو پہلے نظرانداز ہو جاتے تھے، اب قیمتی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ سرگرمیاں انجام دینا، کتابیں پڑھنا، کسی اپنے سے بات کرنا، خاموشی سے کسی کارنر میں بیٹھ کر اپنی چائے یا کافی سے لطف اندوز ہونا، اپنے خیالات کو جرنلز میں لکھنا یا کوئی بھی تخلیقی سرگرمی کو انجام دینا۔ یہ سب چیزیں دوبارہ معنی رکھنے لگتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم خود کو اوروں سے نہیں بلکہ اپنے پچھلے ورژن سے میچ کرنا سیکھ لیتے ہیں اور یہی شخصی ترقی کی علامت ہے۔
بلاشبہ سوشل میڈیا اپنی جگہ ایک مفید ذریعہ ہے لیکن جب یہ ہماری سوچ، ہمارے جذبات اور ہماری خوشی پر حاوی ہونے لگے تو رک کر سوچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ڈیٹاکس یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کنٹرول کو واپس اپنے ہاتھ میں لیں۔ ہم ٹکنالوجی کو استعمال کریں نہ کہ وہ ہمیں استعمال کرنے لگ جائے۔ زندگی کا حسن اس میں پوشیدہ نہیں کہ ہم دیگر لوگوں کی زندگی کو کس نطریے سے دیکھتے ہیں اور کس قدر اپنی زندگی کا موازنہ ان سے کرتے ہیں بلکہ اس میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو کتنے بھرپور طریقے سے جیتے ہیں۔کبھی کبھی خود سے جڑنے کے لیے دنیا سے تھوڑا سا دور ہونا پڑتا ہے اور یہی دوری ہمیں دوبارہ اپنے قریب لے آتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!