مضامین

گھمنڈ میں ہستیاں ڈوب جاتی ہے

وجاہت فیردوس انیس العظیم
بڈنیر بھولجی ناندورا

گھمنڈ! گھمنڈ ایک ذہنی بیماری ہے-انسان کے پاس اگر اسکی ذہنی استعداد سے زیادہ کچھ آجاۓ تو وہ اس پر گھمنڈ کرنا شروع کردیتا ہے-اب آپ سوچ رہے ہونگے ذہنی استعداد اور گھمنڈ کا کیا تعلق !
تو تعلق کچھ اس طرﺡ کا ہے کی اگر گھمنڈ کرنے والے کی ذہنی استعداد اتنی ہوتی کہ وہ یہ سمجھ پاتا کہ جو کچھ اسے ملا ہے اور وہ اس پر گھمنڈ کر رہا ہے تو یہ اسے اللّہ نے عطا کیا ہے -اور اللّہ چاہے تو اس میں اور اضافہ کردے یا اسے اس سے چھین لے.یہ اللّہ کے اختیار کی چیز ہے-اور اللّہ کی عطا کی ہوئ چیزوں پر گھمنڈ نہیں شکر ادا کرنا چاہیے۔
انسان بڑا نادان ہے وہ اپنی صلاحیتوں، اور عہدوں کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے-اور سب کے ساتھ اپنے عہدوں کی بنیاد پر رد عمل کرتا ہے’
جیسے ..اسکے عہدے سے بڑا کسی اور شخص کے پاس کوئ عہدہ ہے تو وہ اس سے زیادہ عزت اور مرتبہ والا .پھر اس کے اخلاق جو بھی ہو جیسے بھی ہو وہ اسے برداشت کرلیتا ہے -کیونکه وہ اس سے عہدے میں جو بڑا ہے-
اور وہی دوسری طرف با اخلاق شخص ہو کوئ ,وہ بہت ساری صلاحتیوں کا مالک ہو,لیکن وہ کسی عہدے پر فائـــز نا ہو تو اس کی ہمارے پاس کوئ اہمیت نہیـــــں ہوتی-

دور حاضر، میں لوگوں کو ایک بخار چڑھا ہوا ہے-اسٹیٹس کا بخار !
کہ سماج میں ہمارا اور دوسروں کا کیا اسٹیٹس ہے -اور کہاں اور کسے ہم کب نیچا دکھا سکتے ہیں-اور کہاں گھمنڈ کرسکتے ہیں’
بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ جب ہم ہمارا Idol,بناتے ہے تو وہاں بھی عہدے دیکھتے ہیں. کوئ یہ نہیـــــــں دیکھتا کہ اس کے اخلاق کیا ہے,اس کی حقیقتی صلاحیتیں کیا ہیں.ہم کچھ نہیں دیکھتے -ہم دیکھتے ہیں تو بس کہ وہ کہاں اور کس مقام پر کھڑا ہے!
ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اللّہ تکبر کو پسند نہیـــــــں کرتا-
عزازیل جس نے اللّہ کی اتنی عبادت کیا -پر کس وجہ سے فرشتے سے شیطان بنا دیا گیا –
صرف اور صرف تکبر….
اسکے تکبر نے اسے عزازیل سے ابلیس بنا دیا-
جب اللّہ تعالٰی اسے اسکے تکبر کی سزا دے سکتا ہے تو پھر ہم کیا ہے…..
نا ہم اتنے عبادت گزار ہیں .اور نا ہی ہمیں ہمارے ایمان پر پختگی حاصل ہے. ہم تو چوبیس گھنٹے اپنے نفس کی غلامی کررہے ہوتے ہیں –
جو تکبر گھمنڈ ہیں نا یہ گناه کبیـــرہ ہےیہ ایک سنگین جرم ہے.اور اللّہ تعالٰی ہمیں ہمارے تکبر کی سزا کچھ اس طرح سے دےگا کہ ہمیں قیامت کے دن چیونٹیوں کے ںرابر بنادےگا پھر ہمیں جہنم کا عزاب دے گا-
جب ہمیں پتا ہے کہ ہماری زراسی شان و شوکت ,ہماری انا ,ہمارے رویے ,ہمارا غرور و گھمنڈ ہمیں اتنی بڑی سزا دلواسکتے ہیں ,ہماری آخرت برباد کرسکتے ہیں .تو پھر بھی ہم گھمنڈ کرنا کیوں نہیں چھوڑتے!

نا بڑی میں ہوں اور نا آپ ہے -اور نا ہی وہ لوگ جن کے پاس دولت اور بڑے بڑے عہدے ہیں-
ہم میں سے کوئ بڑا نہیں ہیں-

بڑا ہے تو صرف اللّہ-اس کی زات بڑی ہے ,اسکا مرتبہ بڑا ہے,وہی عظیم الشان ہے ,وہی بلند مرتبے والا بھی-
پھر میری اور آپکی کوئ اوقات نہیں کہ ہم گھمنڈ کریں،اور ہمارے رویوں سے لوگوں کو تکلیف دے یا نیچا دکھاے-
ظاہر سی بات ہے کہ آپ آپکے اس رویے کے ساتھ دنیا کی نظروں میں بڑے بھی بن جائے, آپ کو دکھاوے کی ہی سہی تھوڑی بہت یا بہت زیادہ عزت بھی مل جاۓ-
لیکن آخرت کا کیا!
وہاں کیا جواب دے گے جاکر!
اللَّهَ کے آگے کسی کا گھمنڈ نہیں چلتا-
تاریخ گواہ ہے کے اللَّهَ نے گھمنڈ کرنے والوں کو خاک کیا ہے-
پھر وہ فرعون ہو یا شدادہر کسی کا انجام بہت ہی بھیانک اور عبرت ناک ہوا ہے –
گھمنڈ ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان اپنے آپ کو خود تباہ کرلیتا ہے-گھمنڈ کی وجہ سے انسان آخـــرت میں صرف اور صرف ذلیل و خوار ہی ہونگا-

اور کسی نے کیا خوب کہا ہے –
"طوفان میں کشتیاں اور گھمنڈ میں ہستیاں ڈوب جاتی ہے”

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!