روزہ: جسم، روح، دل، نفس، عقل اور ضمیر میں توازن اور ہم آہنگی کا ذریعہ

ڈاکٹر قاضی رفیق راہی
رمضان المبارک اور سنت روزوں کی روشنی میں روزہ کی حقیقت کو سمجھنا ایک عظیم نعمت ہے۔ قرآن پاک فرماتا ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے والوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورۃ البقرہ: 183)
حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزہ ایک ڈھال ہے۔ یہ ڈھال جہنم کی آگ سے بھی بچاتی ہے اور شیطان کی وسوسوں سے بھی۔
روزہ صرف پیٹ بھوکا رکھنے کا نام نہیں، بلکہ جسم، نفس، قلب، روح، عقل اور ضمیر کو اللہ کی طرف موڑنے کا کامل نظام ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ اپنی کتاب "احیاء علوم الدین” کے باب "اسرار الصّیام” میں فرماتے ہیں کہ روزہ دو بڑی خواہشات (کھانے اور جنسی) کو توڑتا ہے، شیطان کی راہیں تنگ کرتا ہے اور دل کو نورانی بناتا ہے۔ آئیے اس موضوع کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
انسانی وجود کا اسلامی تصور: متعدد اجزاء کا توازن
علم کلام اور تصوف میں انسان کو ایک پیچیدہ ساخت سمجھا جاتا ہے۔ امام راغب اصفہانی اپنی "مفردات القرآن” میں نفس، قلب، روح اور عقل کی تعریف کرتے ہیں۔ امام غزالی "عجائب القلب” میں فرماتے ہیں:
جسم: مادی حصہ، جو اللہ کا امانت ہے۔ روزہ اسے غلامی سے آزاد کرتا ہے۔
نفس: قرآن پاک فرماتا ہے: اور جو اپنے رب کے مقام سے ڈرے اور نفس کو خواہش سے روکا۔ (سورۃ النازعات: 40)
مراحل: نفس امّارہ (بے شک نفس برائی کی طرف حکم دینے والا ہے- سورۃ یوسف:53)، نفس لوّامہ (اور میں قسم کھاتا ہوں اس نفس لوامہ کی – سورۃ القِیامہ:2) اور نفس مطمئنہ (اے مطمئن نفس!)۔ روزہ اسے امّارہ سے مطمئنہ بناتا ہے۔
– قلب: حدیث مبارکہ: بات سمجھ لو کہ جسم میں ایک ٹکڑا گوشت ہے، اگر وہ ٹھیک ہو تو پورا جسم ٹھیک ہو جائے اور اگر وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہو جائے، سمجھ لو وہ قلب ہے۔** (صحیح بخاری)
روح: قرآن: سو جب میں نے اسے ٹھیک کر لیا اور اس میں اپنی روح پھونک دی تو اس کے آگے سجدہ میں گر جاؤ۔ (سورۃ الحجر:29) روزہ اسے ظاہر کرتا ہے۔
عقل: غزالی کے نزدیک عقل نفس پر حاکم ہے، روزہ اسے صاف کرتا ہے۔
ضمیر: نفس لوّامہ کا ہی دوسرا نام، جو گناہ پر سرزنش کرتا ہے۔
ابن قیم جوزیہ "مداریج السّالکین” میں فرماتے ہیں کہ روزہ نفس کی قوت کم کرتا ہے، قلب کو صاف کرتا ہے اور شیطان کو بھگاتا ہے۔
قرآنی و حدیثی بنیاد: رمضان اور سنّت روزے
رمضان: سورۃ البقرہ (2:183-187) میں روزہ کی حکمت بیان ہوئی۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ تقویٰ نفس کی تربیت ہے۔ حدیث قدسی: ابن آدم کے ہر عمل کا بدلہ اسے مل جاتا ہے سوائے روزے کے، وہ میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا۔ (ترمذی)
سنّت روزے:
پیر و جمعرات: اعمال پیر اور جمعرات کو پیش کیے جاتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال مجھ پر پیش ہوں جبکہ میں روزہ رکھے ہوئے ہوں۔ (مسند احمد)
ماہ میں تین دن (13،14،15 تاریخ): ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا پورے ڈھال کی مانند ہے۔ (صحیح مسلم)
یعنِی رمضان سالانہ تربیت ہے، سنّت روزے ہفتہ وار توازن۔
تزکیۂ نفس اور قلب کی پاکیزگی
امام غزالی فرماتے ہیں: روزہ خواہشات کمزور کرتا ہے اور قلب کو مضبوط بناتا ہے۔ "كَسْرُ الشَّهْوَتَیْنِ” میں ہے کہ زیادہ کھانا قلب کو سیاہ کرتا ہے۔ قشیری رحمہ اللہ "رسالۃ القشیریہ” میں روزے کی تین قسمیں بتاتے ہیں: ظاہری، قلبی اور روحانی۔
ابن قیم: بھوک خواہش کی آگ بجھاتی ہے اور بندے کے دل کو روشن کرتی ہے۔ روزہ غریبوں سے ہمدردی بھی سکھاتا ہے، جو قلب کی نرمی ہے۔
جسمانی، ذہنی اور روحانی فوائد
جسم: رمضان میں کولیسٹرول، بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، سوزش دور ہوتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ہفتہ وار روزے (جیسے پیر و جمعرات) آٹو فیجی (Autophagy) کا عمل تیز کرتے ہیں، جو جسم کے خراب خلیات کو صاف کر کے نئے خلیات بناتا ہے، موٹاپا کم کرتا ہے، قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور دل کی صحت بہتر بناتا ہے۔
عقل: جدید تحقیق کے مطابق روزہ بی ڈی این ایف (دماغی نشوونما کار یا Brain Derived Neurotrophic Factor) نامی ہارمون کی سطح بڑھاتا ہے۔ یہ ہارمون دماغ کے خلیوں (نورونز) کی نشوونما، نئے رابطوں کی تشکیل اور مرمت میں مدد دیتا ہے، جس سے یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت، توجہ اور دماغی لچک بہتر ہوتی ہے۔
روح: روزہ اللہ کی صفت الصَّمَد سے مشابہت ہے، جو نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے۔
عملی ہدایات عام مسلمانوں کے لیے
نیت خالص: ہر روزہ تقویٰ اور تزکیۂ نفس کے لیے ہو۔حفاظتِ حواس: حدیث میں درج ہے، جس نے بے حیائی کی باتیں اور اعمال چھوڑ دیے نہ تو اللہ کو اس کے کھانے پینے کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ (صحیح بخاری) اعتدالِ افطار: غزالی کا فتویٰ: زیادہ کھانا روزہ ضائع کرتا ہے۔ سنّت روزے: ہفتے میں دو (پیر جمعرات)، ماہ میں تین۔ بیماری میں فدیہ دیں (اور جن پر اس کی طاقت ہو ان پر فدیہ ہے – البقرہ:184)۔ نماز ذکر جوڑیں: قیام، تلاوت، دعا سے مکمل فائدہ۔
روزہ توحید کی زندگِی
روزہ جسم کو فرمانبردار، نفس کو مطمئن، قلب کو نورانی، روح کو آشکار، عقل کو روشن اور ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ رمضان دھوئے، سنّت روزے سنوارے رکھیں۔ اللہ ہمیں عظیم روزوں کا طلبہ بنائے۔ آمین!



