ٹیپوسلطان رح کو شیواجی مہاراج کے برابر کہنے پر اپوزیشن برہم ؛ ہرش وردھن سپکال کے ریمارکس سے سیاسی ماحول میں کشیدگی

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مالیگاؤں کے نائب میئر کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر دیوار پر آویزاں ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی تھی۔ اس معاملے پر پہلے ہی تنازعہ جاری تھا کہ اب کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کے بیان نے اس بحث کو نیا رخ دے دیا ہے۔ اس بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں گرما گرمی بڑھنے کے آثار ہیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ “چھترپتی شیواجی مہاراج نے جس بہادری کے ساتھ ‘ہندوی سوراج’ کا تصور آگے بڑھایا، اسی طرح بعد کے دور میں ٹیپو سلطان نے بھی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی۔ اس معنی میں ٹیپو سلطان ایک بہادر جنگجو تھے اور انہیں شیواجی مہاراج کے ہم مرتبہ دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کبھی کسی زہریلے یا تفرقہ انگیز نظریے کو اپنایا نہیں۔”
ان کے اس بیان پر بی جے پی اور شیو سینا (شندے گروپ) کے رہنماؤں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان کیشواُپادھیائے نے کہا کہ “ہرش وردھن سپکال کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج نے مہاراشٹراورملک میں ہندوی سوراج قائم کرتے ہوئے سب کو مساوی انصاف دیا اور کسی بھی مذہب پر ظلم نہیں کیا۔ اس کے برعکس تاریخ میں ٹیپو سلطان کے دور میں کئی ہندوؤں پر مظالم کے واقعات درج ہیں۔ کانگریس ووٹ بینک کی سیاست کے لیے ٹیپو سلطان کی تعریف کر رہی ہے۔ پارٹی کو اس پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “کسی بھی لحاظ سے ٹیپو سلطان کو شیواجی مہاراج کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ شیواجی مہاراج کی تاریخ ریاست کو وقار دینے والی ہے جبکہ ٹیپو سلطان کی تاریخ میں جبر اور تبدیلیٔ مذہب کے الزامات ملتے ہیں۔ دونوں کا موازنہ کرنا کانگریس صدر کی ناسمجھی کو ظاہر کرتا ہے۔” اس بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔



