اورنگ آباد میں 14 لاکھ کی مبینہ رشوت! پولیس ملازم کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل؛ متعلقہ اہلکارمعطل، انسپکٹرکا تبادلہ

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :ریاستی پولیس محکمہ کی ساکھ کو متاثرکرنے والا ایک نہایت چونکا دینے والا واقعہ شہراورنگ آباد سے سامنے آیا ہے۔ شہر کے تاریخی لینیاں (غاروں) کے علاقے میں جاری غیر قانونی کھدائی پر کارروائی نہ کرنے کے بدلے مبینہ طور پر 14 لاکھ روپے رشوت لینے کا دعویٰ کرنے والی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے فوری طور پر بڑی کارروائی کی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، اورنگ آباد کے لینیاں علاقے میں گزشتہ کئی دنوں سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی کھدائی جاری ہونے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ الزام ہے کہ اس غیر قانونی سرگرمی پر پردہ ڈالنے اور متعلقہ مافیا کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے لیے ایک پولیس انسپکٹر نے اپنے رائٹر (محرر) کے ذریعے 14 لاکھ روپے کی رشوت طلب کی۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک شخص کو نوٹوں کی بڑی گڈیاں گنتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص پولیس کا ملازم ہے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پولیس حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ خاکی وردی میں مبینہ بدعنوانی کا یہ منظر عام پر آنا عوام میں شدید غم و غصے کا سبب بن رہا ہے۔ اگرچہ ویڈیو کی صداقت کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم ابتدائی طورپرمعاملہ نہایت سنگین تصور کیا جا رہا ہے، جس سے پولیس محکمہ کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پولیس کمشنر نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے ویڈیو میں نظر آنے والے متعلقہ پولیس ملازم کو معطل کر دیا ہے، جبکہ اس کیس سے نام جڑے پولیس انسپکٹر کا تبادلہ بھی کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شہر میں بحث و مباحثہ تیز ہو گیا ہے، اور غیر قانونی کھدائی کے تانے بانے کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں، اس کا انکشاف اب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔



