مضامین

ایپسٹن فائلز:ہزاروں معصوموں کا ریپ کر گوشت کھانے والے نئی تہذیب کے شیطانی انڈے گندے؛ اسلام کے نظامِ عفت و حیا کو’’فرسودہ خیالی‘‘ کہنے والے مغرب کا سورج غروب ہونے کو ہے

farooq ahmed aurangabadتحریر:سیدفاروق احمد سید علی
اورنگ آباد (دکن)
9823913213
زمانہ جاہلیت کے واقعات بچپن میں بارہا سنتے آئے ہیں کہ کس طرح سے بچی کی پیدائش پر سوگ منا کر اسے اپنے ہاتھوں سے ہی درگور کردیا جاتا تھا۔ جسے سن کر تب بھی بڑی تکلیف ہوتی تھی اور سوچتے تھے کہ کیسی حیوانیت بھرے لوگ تھے جو اپنی ہی اولاد کو اپنے ہاتھوں قتل کردیا کرتے تھے۔ پھر دھیرے دھیرے زمانے کی ترقی بڑھتی گئی اور یہ سننے اور دیکھنے کو ملا کہ پیدائش سے پہلے ہی مادرِ رحم میں قتل کردیا جارہا ہے۔ اور اب اس سے تھوڑا آگے بڑھتے ہیں اور ان افراد کی کارستانیوں پر نظر ڈالتے ہیں جو دنیا کو انسانیت کا درس دیتے نہیں تھکتے، اسلام اور مسلمانوں کو انسانیت کا epstieen fileدشمن ثابت کرنے پر کسی بھی حد سے گزر رہے ہیں، وہ درندگی سے آگے بڑھ کر سفاکیت پر اتر آئے ہیں۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ نئی تہذیب کے یہ بدقماش عناصر شہوت پرستی اور ہوس پرستی میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ پوری دنیا سے معصوم بچے بچیوں کو اغوا کر ان کی اجتماعی عصمت ریزی کی جاتی ہے اور پھر انہیں قتل کرکے بڑے شوق سے کھایا بھی جاتا ہے۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔ تاریخ لکھی جارہی ہے کہ انسانیت کی تذلیل میں اگر کوئی نام نہاد مہذب اور جاہلیت سے لبریز طبقہ سرفہرست ہے تو وہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی معنوی غلاظت اور گھناؤنی سازشوں سے پوری دنیا کو آلودہ کردیا ہے۔ حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کوئی شخص اتنی حد تک کیسے گر سکتا ہے۔ یقیناً وہ انسان تو ہو نہیں سکتا، ہاں انسان کے بھیس میں چھپے دجالی اور شیطانی کارندے ضرور ہوسکتے ہیں۔
یہی وہ تہذیب کے آلہ کار ہیں جنہوں نے روشن خیالی کے نام پر ایسا لبادہ اوڑھ رکھا تھا جس کے پیچھے انتہائی سفاکیت اور حیوانی جبلتوں کا غلاظت بھرا دردناک اور خطرناک کھیل کھیلا گیا، جس کے نیچے معصوم جانوں کی حرمتیں پامال ہوکر رہ گئیں۔ وہ بچے جو کائنات کے سب سے پیارے پھول ہیں ان درندوں کی ہوسناکیوں کا ایندھن بنا دیے گئے۔ تاریخ کا ایک ایسا ننگا ناچ کھیلا گیا جسے جدید جاہلیت کا وہ نوحہ کہا جاسکتا ہے جس نے انسانیت کی پیشانی پر گہرے کالے رنگ کا کلنک نما ٹیکہ لگا دیا ہے۔
آج ہر کوئی پریشان ہے اور ان کے اپنے مذہب کے افراد بھی سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہی وہ روشن تہذیب ہے جس کا ڈھنڈورا پورے عالم میں پیٹا گیا؟ جہاں اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بظاہر مقدس چہرے رات کی تاریکیوں میں معصوم جانوں کا سودا کرتے رہے۔ یہ اس زوالِ آدمیت کا نقطۂ کمال ہے جہاں علم و ہنر اور سیاست و ریاست، سب کے سب ابلیس کے آلہ کار بن گئے۔ مکر و فریب کی یہ داستان پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جب تک اخلاق کی بنیادوں پر تمدن کی عمارت استوار نہیں ہوگی، یہ جدید دور کے سفاک درندے انسانیت کے لہو سے اپنی پیاس بجھاتے رہیں گے۔
بات دراصل یوں ہے کہ ان دنوں ایپسٹن فائلز کا چرچا زبان زدِ عام ہے جس میں نئی تہذیب کے تمام تر چہرے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ جی ہاں! ایپسٹن جیفری ایک بدنام زمانہ ارب پتی امریکی شخص تھا، جو ایک انتہائی امیر فائنانسر تھا، یا یوں کہیے کہ وہ ایک ایسا ایجنٹ تھا جس کے دنیا بھر میں موجود نام نہاد بااثر سیاستدانوں، شاہی خاندانوں، بزنس ٹائیکونز اور مشہور شخصیات سے قریبی تعلقات تھے۔ اور انہی مشہور شخصیات کو یہ ایپسٹن کم عمر لڑکے لڑکیاں جنسی ہوس کی تسکین کے لیے سپلائی کیا کرتا تھا۔ اس دوران وہ ایک ایسی شخصیت بن چکا تھا جس نے پیسہ، طاقت اور بلیک میلنگ کے ذریعے اپنا ایک الگ جہاں آباد کر رکھا تھا۔ اس شخص نے اپنا خود کا ایک جزیرہ خرید رکھا تھا جسے اس نے ’’لٹل سینٹ جیمز‘‘ نام دے رکھا تھا۔ وہاں ایک عالیشان محل، نیلے گنبد والی ایک عجیب و غریب عبادت گاہ نما عمارت اور کئی خفیہ تہہ خانوں پر مشتمل عمارت بنی ہوئی تھی۔ اسی جزیرے پر ایپسٹین اپنے نجی طیارے "لولیتا ایکسپریس” کے ذریعے دنیا بھر سے بااثر لوگوں کو لاتا تھا اور وہاں ان جنسی درندوں کو پیاس بجھانے کے مواقع فراہم کرتا تھا۔
اس کے اس طریقہ واردات میں وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کی سب سے خاص شریکِ کار اور دستِ راست غزلین میکسویل شامل تھی جو خود ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ جو غریب گھرانوں کی یا ماڈلنگ کی شوقین کم عمر لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر نشانہ بنایا کرتی تھی۔ انہیں مختلف حیلے بہانوں اور مادی لالچوں یا "مساج” اور "تعلیمی وظائف” کے نام پر بلایا جاتا اور دھما کر انہیں کچھ رقم دی جاتی اور مزید لڑکیوں کو لانے پر مجبور کیا جاتا۔ ان کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جاتی اور ان لڑکیوں کو ایپسٹین کے نجی جزیرے، نیویارک کے محل اور فلوریڈا کے گھروں میں طاقتور لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا۔ ایپسٹین لوگوں کی نفسیاتی کمزوریوں کو بھانپ کر انہیں اپنے قابو میں کرتا تھا اور پھر انہیں ایسے کاموں پر مجبور کرتا جہاں سے واپسی کا راستہ نہیں ہوتا تھا۔ بس یہی سارے کارناموں کا نام ایپسٹن فائلز ہے جس میں اس نیٹورک سے جڑے تمام لوگوں کے ای میلز، ویڈیوز، فوٹوز اور رابطوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فائلز کم و بیش 60 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل ہیں، حال ہی میں ان فائلز کے کچھ صفحات عام عوام کے لیے سلسلہ وار نشر کیے گئے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام شیطانی چیلوں کی کرتوتیں منظرِ عام پر کیسے آئیں؟ کئی سالوں کی خاموشی کے بعد، 2019 میں نیویارک ٹائمز اور دیگر اخبارات کی رپورٹنگ نے اس کیس کو دوبارہ زندہ کیا اور جیفری ایپسٹن کو کم عمر لڑکیوں کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق اس نے جیل میں خودکشی کر لی، لیکن تحقیقات بتاتی ہیں کہ دنیا کے جتنے نام نہاد بااثر افراد تھے، ایپسٹن نے ان سب کے خلاف فائلیں، تصاویر، ویڈیوز اور تمام ای میلز تیار کر رکھی تھیں جو اب منظر عام پر آ رہی ہیں۔ بتایا تو یہ بھی جارہا ہے کہ وقتاً فوقتاً یہ فائلیں کھلتی رہیں گی اور اسرائیل اسے اپنے مفاد میں استعمال کرتا رہے گا، اور دنیا بھر کے نام نہاد معززین کے سیاہ کارنامے یکے بعد دیگرے بے نقاب ہوتے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق ان فائلوں میں ڈونلڈ ٹرمپ، جارج بش، بل کلنٹن، بل گیٹس، بن سلمان، دامودر مودی، ایلان مسک، رچرڈ ڈاکنز، لارنس کراس، باراک اوباما، اسٹیفن ہاکنگ، شیخ محمد بن زید، پرنس اینڈریو اور سابق امریکی صدر جوبائیڈن سمیت ہزاروں نام نہاد لوگ شامل ہیں جن کے نام سامنے آتے جارہے ہیں۔ یہ ہیں وہ نام نہاد ہیومن رائٹس چارٹرز، حقوقِ نسواں اور بچوں کے حقوق کے دعویدار جن کی حیوانیت دنیا پر آشکارا ہوچکی ہے۔
عزیز قارئین کرام! مغرب کی یہ درندگی صرف ایپسٹین کے جزیرے تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے کلیساؤں کے تقدس سے لے کر ہالی وڈ کے ایوانوں اور بی بی سی کے اسٹوڈیوز تک ایک سرطان کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وہ بے غیرت طبقہ ہے جس نے آزادیِ نسواں کا ڈھول بجا کر عورت کو ہوس کا مال بنایا اور بچوں کے حقوق کی آڑ میں ان کی معصومیت کا کاروبار کیا۔ ان کی پوری تاریخ ادارہ جاتی منافقت کی وہ داستان ہے جہاں درندوں کو قانون کا تحفظ حاصل ہے اور مظلوموں کو خاموشی کا کفن پہنا دیا جاتا ہے۔ مغرب کی یہ ’’مہذب جاہلیت‘‘ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں، یہ تو اس زہریلے نظام کا منطقی انجام ہے جس نے ’’آزادی‘‘ کے نام پر ابلیسیت کی چادر اوڑھی اور ’’عقل‘‘ کے نام پر ضمیر کو ذبح کر دیا۔
دراصل یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ مغرب نے انسان کو صرف ایک "مادی وجود” سمجھ لیا اور اسے وحیِ الٰہی کی قید سے آزاد کر کے خواہشاتِ نفس کا بندہ بنا دیا۔ جب معاشرے سے خدا کا خوف اور جوابدہی کا تصور ختم ہو جائے، تو وہاں "ایپسٹن جزیرے” ہی آباد ہوتے ہیں۔ اسلام کا نظامِ عفت و حیا جسے یہ لوگ بوجھ سمجھتے تھے، دراصل وہی انسانیت کی بقا کا ضامن ہے۔ وہ حیا جو آنکھ سے شروع ہو کر کردار پر ختم ہوتی ہے، وہی ان معصوم کلیوں کی محافظ ہے۔یہ درندگی ، یہ ہوس ، اور یہ معصوم کلیوں کا استحصال یہ سب اس مغرب کا اصل چہرہ ہے جو اپنی کراہت کوکھوکھلے پتلوں پردنیا کی چمک دمک دکھا کر پیش کرتا رہتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مغرب کی تاریخ تو ایسی ہزاروں’’ایبسٹین فائلوں‘‘ سے بھری پڑی ہے۔جس کے کچھ صفحات آج ہماری نظروں کے سامنے پیش کئے گئے۔
آپ دیکھنا بہت جلد مغرب کا سورج غروب ہوکر رہے گا اور اس کی ماند پڑتی دھندلاتی آخری شعاعیں خود ہی اپنی غلاظت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرکے رہیں گی اور ان کی اپنی تہذیب بھی بالآخر انجام کو پہنچ کر رہے گی۔ وقت گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے فطرت کے قوانین کو چیلنج کیا ہے، وہ خود اپنے ہی بنائے ہوئے جہنم کا ایندھن بنا ہے۔ ایپسٹن فائلز صرف چند ناموں کی فہرست نہیں، بلکہ اس باطل نظام کی موت کا سرٹیفکیٹ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!