اسلام آباد کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران خودکش دھماکہ، 31 افراد جاں بحق، ایمرجنسی نافذ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک ہولناک خودکش بم دھماکہ پیش آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی شیعہ مسجد قصرِ خدیجۃ الکبریٰ کے باہر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق جبکہ 170 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے فوراً بعد شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مسجد اور اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تاحال کسی تنظیم یا فرد نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
HTN ورلڈ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے مسجد کے گیٹ پر خودکش دھماکہ کیا۔ ریسکیو ٹیمیں اور پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اور CDA اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ PIMS کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت پر اسپتال میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورولوجی ڈیپارٹمنٹس کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً تین ماہ قبل، 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کے G-11 علاقے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی عمارت کے باہر بھی خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس میں 12 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد پاکستان نے بھارت پر الزامات عائد کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم بھارت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ پاکستان جھوٹے بیانیے گھڑ کر اپنے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور داخلی سیاسی عدم استحکام کو چھپانے کے لیے بھارت پر بے بنیاد الزامات لگاتا ہے۔



