تعلیم و روزگار

۲۰۱۱ سے قبل مقررہ اساتذہ کو TET میں ممکنہ بڑی رعایت – ہزاروں اساتذہ کے لیے راحت کی امید!

بالاپور: (ذاکر احمد) :ریاست میں تعلیمی میدان سے جڑی ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے ہزاروں اساتذہ کے دلوں میں نئی امید کی شمع روشن کر دی ہے۔ ۲۰۱۱ سے قبل مقرر کیے گئے اساتذہ کو TET (ٹیچر اہلیتی امتحان) کی شرط میں ممکنہ رعایت دیے جانے پر سنجیدگی سے غور شروع ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ۲۰۱۱ سے قبل ہونے والی تمام تقرریاں اُس وقت کے نافذ قوانین اور سرکاری ضابطوں کے مطابق انجام دی گئی تھیں، جبکہ اس دور میں TET امتحان لازمی نہیں تھا۔ اسی بنیاد پر یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ بعد میں نافذ ہونے والے قوانین کو ماضی کی تقرریوں پر لاگو کرنا کس حد تک منصفانہ ہے؟
*حکومتی سطح پر اس مسئلہ پر عدالتی فیصلوں، سرکاری قواعد و ضوابط اور اساتذہ کے طویل تدریسی تجربے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر یہ رعایت منظور ہو جاتی ہے تو ہزاروں تجربہ کار اساتذہ کو بڑا قانونی اور پیشہ ورانہ تحفظ حاصل ہوگا، جس سے تعلیمی نظام میں استحکام اور تجربے کی قدر کو بھی فروغ ملے گا۔
اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی حلقوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تجربے، خدمات اور قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منصفانہ اور انسانی بنیادوں پر مبنی فیصلہ کیا جائے۔ اب تمام اساتذہ کی نظریں حکومت کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں، اور امید کی جا رہی ہے کہ ایسا فیصلہ سامنے آئے گا جو لاکھوں خاندانوں کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!