مہاراشٹر

امراوتی میں سیاسی موڑ، ایم آئی ایم کی کونسلر نے بی جے پی کو دیا ووٹ، گروپ لیڈر دیکھتے رہ گئے؛ میرابائی کامبلے کا دوٹوک بیان: ’’امیدوار اچھا لگا، اس لیے ووٹ دیا‘‘

امراوتی: (کاوش جمیل نیوز) : میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج کے بعد اب میئر کا عہدہ کس پارٹی کے حصے میں جائے گا، اس پر سیاسی حلقوں میں زبردست بحث شروع ہوگئی ہے۔ کئی جگہوں پر کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی، جس کے باعث دوسری جماعتوں کی مدد سے اقتدار قائم کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ اسی پس منظر میں امراوتی میونسپل کارپوریشن میں بھی تیزی سے سیاسی سرگرمیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایم آئی ایم کی کارپوریٹر میرابائی کامبلے نے پارٹی لائن کے خلاف جا کر بی جے پی کے میئر امیدوار کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد پارٹی قیادت نے انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایم آئی ایم کے گروپ لیڈر نے بتایا کہ: "ہم نے تمام 12 کارپوریٹروں کو پارٹی وہپ جاری کیا تھا، اس کے باوجود میرابائی کامبلے نے پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ووٹنگ کی۔ ہماری پارٹی نظریات پر چلتی ہے اور جو اس کے خلاف جائے گا اس کے خلاف کارروائی یقینی ہے۔”
دوسری جانب میرابائی کامبلے نے وضاحت دیتے ہوئے کہا:”مجھے میئر کے امیدواراچھے اور کام کرنے والے لگے، اس لیے میں نے اپنی سوچ کے مطابق ووٹ دیا۔ پارٹی نے مجھے ایسا کرنے کے لیے نہیں کہا تھا، مگر میں نے ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا۔ اگر پارٹی کارروائی کرتی ہے تو میرے پاس اور بھی راستے موجود ہیں۔” امراوتی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکیلے اقتدار قائم کرنے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ بی جے پی نے 25 نشستیں جیتی ہیں، جبکہ اکثریت کے لیے 44 کارپوریٹروں کی ضرورت ہے۔
دیگر نتائج اس طرح ہیں:
بی ایس پی: 3
شیو سینا (شندے گروپ): 3
اُبھاٹھا گروپ: 2
یووا سوابھیمان (بی جے پی اتحادی): 15
کانگریس: 15
اجیت پوار این سی پی گروپ: 11
ایم آئی ایم: 12
اس طرح ان چھوٹی پارٹیوں کا کردار "کنگ میکر” ثابت ہوسکتا ہے اور میئرکے انتخاب میں ان کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!