سبز رنگ پرسیاست: دوہرا معیار اور اصل سوال

سید فاروق احمد قادری
ملک میں اس وقت سبز رنگ کو لے کر جو سیاست کی جا رہی ہے، وہ دن بدن گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کو ایک نیا بہانہ مل گیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ جماعت ہے جس کے کارکن اور لیڈر نویٹن رانا سرِعام مسلمانوں کو ’’پاکستان جاؤ جیسے نعرے لگا کر، بھگوا کے نام پر نفرت کو ہوا دیتے رہے ہیں، اور اس پر کبھی قومی یکجہتی کو خطرہ نہیں مانا گیا۔
حال ہی میں ایک نئی منتخب نمائندہ مجلس اتحاد مسلمین شیخ سحر ممبرا حالانکہ پارٹی کا نشان ہر جھنڈا ہے اور اس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ میں پورے ممبرا کو ہرا کر دوں گی اس میں کوئی پارٹی کے خلاف نہ مذہب کے خلاف بولا لیکن شر پسندوں نے اسے مذہبی رنگ دے دیا حالانکہ پارٹی کے سربراہ امتیاز جلیل نے اس بات کی تشریح کر دی سحر نے بھی اس کی تشریح قبل اذ کی شر پسندوں کی شکایت پر پولیس اسٹیشن میں یف ار درج کیا گیا ایسا لگ رہا ہے ، جسے جان بوجھ کر مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر بھگوا سیاست ہو سکتی ہے توسبز رنگ پر اعتراض کیوں؟ کیا جھنڈوں کے رنگ بھی اب مذہب سے ناپے جائیں گے؟
یہ معاملہ نہ قوم کے خلاف ہے، نہ آئین کے خلاف۔ یہ صرف سیاسی وابستگی اور اظہارِ رائے کا حق ہے، مگر افسوس کہ اسے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے رنگ جیسے ناموں کو اچھال کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی کے اپنے لیڈروں کے بیانات پر ہمیشہ خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ رنگ کون سا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ نفرت کی سیاست کب ختم ہوگی؟اور کیا آئین سب کے لیے ایک جیسا ہے یا صرف منتخب لوگوں کے لیے؟یہ بحث قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ رنگوں کے نام پر سماج کو بانٹنے کے لیے۔



