ناگپورکے فہیم خان یاد ہے یا بھول گئے؛ اُن کا گھر ٹوٹا، حوصلہ نہیں: ناگپورمیں AIMIM کےٹکٹ پرفہیم خان کے خاندان کی آرایس ایس کے اثردارعلاقہ میں جمہوری فتح ؛ ناگپورمیں ناانصافی کے خلاف عوامی فیصلہ؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ازقلم: جمیل احمد شیخ
مدیراعلیٰ:کاوش جمیل
9028282166
ناگپور کی مقامی سیاست میں فہیم خان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ وقت کے ساتھ محض ایک فرد یا ایک خاندان تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ پورا معاملہ سیاسی رویّوں، جماعتی وابستگی اور عوامی ردِعمل کی ایک مضبوط مثال بن کر ابھرا۔ جب فہیم خان کے گھر پر بلدیاتی کارروائی کے تحت انہدام کیا گیا تو سرکاری طور پر اسے غیر قانونی تعمیر کے خلاف اقدام بتایا گیا، لیکن مقامی سطح پر اس کارروائی کو ایک ایسے سیاسی کارکن کے خلاف سخت اور غیر متوازن رویّے کے طور پر دیکھا گیا جو عوامی مسائل کو مسلسل اٹھاتا رہا تھا۔
اس مشکل مرحلے میں جس پہلو نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، وہ AIMIM کا غیر متزلزل ساتھ تھا۔ جماعت نے فہیم خان کو تنہا چھوڑنے کے بجائے قانونی، سیاسی اور اخلاقی ہر سطح پر ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ قیادت اور کارکنان نے معاملے کو عوامی سطح پر اجاگر کیا اور یہ واضح پیغام دیا کہ AIMIM اپنے کارکنوں کو دباؤ، ناانصافی یا مشکل حالات میں اکیلا نہیں چھوڑتی۔ یہی موقف اس واقعے کو ایک شخصی مسئلے سے نکال کر اجتماعی شعور اور جماعتی سیاست کے دائرے میں لے آیا۔
گھر توڑے جانے کے بعد ناگپور کے مختلف علاقوں میں اس واقعے پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ لوگوں نے اسے اپنے تجربات اور مقامی سطح پر طاقت کے غیر مساوی استعمال سے جوڑ کر دیکھا۔ اس دوران فہیم خان کے لیے عوامی ہمدردی میں اضافہ ہوا اور AIMIM کے اس مؤقف کو تقویت ملی کہ بلدیاتی نظام میں بھی انصاف اور برابری کی آواز ضروری ہے۔ جماعت کی مستقل موجودگی اور کارکنوں کی سرگرمیوں نے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔
اسی پس منظر میں بعد کے بلدیاتی انتخابات سامنے آئے، جہاں فہیم خان کی اہلیہ علیشہ فہیم خان AIMIM کے ٹکٹ پرانتخابی میدان میں اتریں۔ یہ فیصلہ محض ایک امیدوارکھڑا کرنے کا اعلان نہیں تھا بلکہ اسے ایک علامتی قدم کے طور پر دیکھا گیا، جس میں ایک خاندان کے ساتھ پیش آنے والی سختی کا جواب جمہوری طریقے سے دیا گیا۔ انتخابی مہم کے دوران یہ تاثر نمایاں رہا کہ جس جماعت نے مشکل وقت میں ساتھ دیا، عوام نے اسی پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انتخابی نتائج نے اس اعتماد کو فیصلہ کن شکل دی۔ علیشہ فہیم خان کی جیت صرف ایک نشست کی کامیابی نہیں رہی، بلکہ اس کی سب سے بڑی علامتی اہمیت یہ تھی کہ یہ فتح RSS کے مضبوط اثر والے علاقے میں حاصل ہوئی۔ ناگپور جیسے شہر میں، جہاں بعض حلقے طویل عرصے سے ایک خاص نظریاتی شناخت کے لیے جانے جاتے رہے ہیں، وہاں AIMIM کی امیدوار کا کامیاب ہونا ایک غیر معمولی سیاسی واقعہ مانا جا رہا ہے۔ اس نتیجے نے یہ واضح کر دیا کہ مقامی سطح پر ووٹر اب صرف روایت یا دباؤ کے بجائے اپنے تجربات، مسائل اور انصاف کے احساس کی بنیاد پر فیصلہ کرنے لگا ہے۔
آج ناگپور کی سیاست میں فہیم خان کے ساتھ پیش آیا واقعہ، AIMIM کا مستقل اور واضح ساتھ، اور پھر علیشہ فہیم خان کی RSS کے اثر والے علاقے میں کامیابی ایک مکمل سیاسی داستان کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ داستان اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جب جماعت کارکن کے ساتھ کھڑی ہو، اور عوام ناانصافی کے خلاف ووٹ کی طاقت استعمال کریں، تو مقامی سیاست میں بھی ایسی تبدیلی آ سکتی ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوتا۔



