مہاراشٹر کی سیاست میں AIMIM کا زبردست اُبھار، 29 میونسپل کارپوریشنوں میں 125 نشستوں پرتاریخی کامیابی؛ سید امتیاز جلیل کی قیادت میں AIMIM کی زبردست کامیابی

ازقلم: جمیل احمد شیخ
چیف ایڈیٹر کاوش جمیل
مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں اس مرتبہ جو منظرنامہ ابھر کر سامنے آیا ہے، اس نے ریاستی سیاست کے کئی پرانے انداز بدل کر رکھ دیے ہیں۔ 29 میونسپل کارپوریشنوں میں مجموعی طور پر 125 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے All India Majlis-e-Ittehadul Muslimeen (AIMIM) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پارٹی اب صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ریاست بھر میں اس کی سیاسی گرفت مضبوط اور مؤثر ہو چکی ہے۔
یہ کامیابی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی حکمتِ عملی، زمینی سطح پر مسلسل رابطہ، اور قیادت کے واضح وژن کا نتیجہ ہے۔ مہاراشٹر میں AIMIM کی تنظیمی طاقت کو مستحکم کرنے میں ریاستی صدر اور سابق رکنِ پارلیمان Syed Imtiaz Jaleel کی قیادت نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں امیدواروں کے انتخاب سے لے کر انتخابی مہم تک، ہر مرحلے پر ایک واضح سمت اور عملی منصوبہ بندی نظر آئی، جس کا براہِ راست فائدہ انتخابی نتائج میں سامنے آیا۔
انتخابی مہم کے دوران AIMIM نے مقامی مسائل کو مرکزِ نگاہ بنایا۔ شہری سہولیات، اقلیتی حقوق، تعلیم، روزگار، صحت اور بلدیاتی شفافیت جیسے موضوعات کو عوام کے سامنے مدلل انداز میں پیش کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کو نہ صرف روایتی ووٹ بینک سے حمایت ملی بلکہ نوجوانوں اور شہری متوسط طبقے میں بھی AIMIM کے لیے مثبت رجحان دیکھنے کو ملا۔
اس انتخابی ماحول کو مزید تقویت ملی پارٹی کی مرکزی قیادت کی مہاراشٹر میں بھرپور موجودگی سے۔ پارٹی کے صدر Asaduddin Owaisi اور رکنِ اسمبلی Akbaruddin Owaisi کی ریاست میں جارحانہ مگر منظم تشہیری مہم نے کارکنان میں نیا جوش بھرا اور عوامی جلسوں میں ایک خاص سیاسی فضا قائم کی۔ ان کی تقاریر میں آئینی حقوق، سماجی انصاف اور بلدیاتی خود مختاری جیسے نکات نے ووٹروں کو متاثر کیا اور پارٹی کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچایا۔
مہاراشٹر کی سیاست میں AIMIM کی یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی اب بلدیاتی سطح پر بھی ایک سنجیدہ اور مؤثر قوت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ 125 نشستوں پر کامیابی نے نہ صرف AIMIM کے حوصلے بلند کیے ہیں بلکہ ریاست کی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ عوام متبادل سیاست کو سنجیدگی سے سن رہے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ انتخابی نتائج AIMIM کی سیاسی بصیرت، مضبوط قیادت اور عوامی رابطے کی کامیاب مثال ہیں۔ آنے والے دنوں میں مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں AIMIM کا کردار مزید نمایاں ہوگا، اور یہ کامیابی مستقبل کی ریاستی سیاست کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔



