مہاراشٹر: شہری قلعے فتح، مہایوتی کی تاریخی جیت؛ 29 مہانگر پالیکاؤں کے نتائج نے بدل دیا سیاسی نقشہ ؛ مکمل تفصیلات کے ساتھ پڑھیں رپورٹ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر کی سیاست میں بلدیاتی انتخابات 2026 نے ایک بڑا منظرنامہ واضح کر دیا ہے۔ ریاست کی تمام 29 مہانگر پالیکاؤں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ مجموعی طور پر 23 مہانگر پالیکاؤں میں مہایوتی کو واضح برتری حاصل ہوئی، جس میں بی جے پی اورایکناتھ شندے کی شیوسینا شامل ہیں۔ دوسری طرف ٹھاکرے برادران کی سیاسی حکمتِ عملی زمینی سطح پر کامیاب ثابت نہ ہو سکی اور شیوسینا (ادھوٹھاکرے) ایک بھی مہانگر پالیکا اپنے نام نہ کر سکی۔ کانگریس کو واحد بڑی کامیابی لاتور میں ملی۔
ذیل میں ہر مہانگر پالیکا کے نتائج کی تفصیلی صورتِ حال پیش ہے:
ممبئی مہانگر پالیکا (BMC)
227 نشستوں والی ملک کی سب سے امیر کارپوریشن میں مہایوتی نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی تقریباً 90 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بنی، شندے شیوسینا کو 22 نشستیں ملیں۔ یو بی ٹی-ایم این ایس اتحاد کو تقریباً 71، کانگریس کو 13، اے آئی ایم آئی ایم کو 6 اور ایم این ایس کو 8 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس نتیجے کے ساتھ ممبئی میں شیوسینا کا 30 سالہ اقتدار ختم ہو گیا۔
پونے مہانگر پالیکا (PMC)
165 نشستوں والی اس کارپوریشن میں بی جے پی نے 90 نشستیں جیت کر مکمل کنٹرول حاصل کیا۔ این سی پی کو 20 اور کانگریس-یو بی ٹی اتحاد کو تقریباً 10 نشستیں ملیں۔
کلیان-ڈومبیولی مہانگر پالیکا (KDMC)
122 نشستوں میں شندے شیوسینا 51 اور بی جے پی 48 نشستوں کے ساتھ آگے رہیں۔ یو بی ٹی 8، ایم این ایس 4 اور کانگریس 2 نشستوں پر سمٹ گئی۔
ٹھانے مہانگر پالیکا (TMC)
131 نشستوں میں شندے شیوسینا 39 کے ساتھ سرفہرست، بی جے پی 24، این سی پی (شردپوار) 5 اور این سی پی (اجیت پوار) 4 نشستیں حاصل کر سکی۔
نوی ممبئی مہانگر پالیکا (NMMC)
111 نشستوں میں بی جے پی 72، شندے شیوسینا 28 اور یو بی ٹی 2 نشستیں۔ کانگریس و این سی پی کا کھاتہ نہیں کھلا۔
وسئی-ویرار مہانگر پالیکا (VVMC)
115 نشستوں میں بہوجن وکاس اگھاڑی (BVA) نے 71 نشستوں کے ساتھ غلبہ حاصل کیا، بی جے پی کو 48 نشستیں ملیں، دیگر بڑی جماعتیں صفر رہیں۔
پنویل مہانگر پالیکا (PMMC)
78 نشستوں میں بی جے پی 24 پر کامیاب رہی، شندے شیوسینا 2 پر آگے اور 22 نشستیں دیگر کے پاس گئیں۔
ناگپور مہانگر پالیکا (NMC)
151 نشستوں میں بی جے پی نے 100 سے زائد نشستوں پر برتری حاصل کی، کانگریس کو 33 اور یو بی ٹی کو 2 نشستیں ملیں۔
پمپری-چنچوڑ مہانگر پالیکا (PCMC)
128 نشستوں میں بی جے پی 84 کے ساتھ مضبوط، مشترکہ این سی پی کو 37 اور شندے شیوسینا کو تقریباً 7–10 نشستیں ملیں۔
ناسک مہانگر پالیکا (NMC)
122 نشستوں میں بی جے پی 71، شندے شیوسینا 26، یو بی ٹی 15 اور کانگریس 3 نشستوں پر محدود رہی۔
کولہا پور مہانگر پالیکا (KMC)
81 نشستوں میں کانگریس 34 کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بنی، تاہم بی جے پی (26) اور شندے شیوسینا (15) کے ساتھ مہایوتی کو مجموعی اکثریت حاصل ہوئی۔
سولاپور مہانگر پالیکا (SMC)
102 نشستوں میں بی جے پی نے 87 نشستیں جیت کر یکطرفہ کامیابی حاصل کی۔
امراوتی مہانگر پالیکا (AMC)
87 نشستوں میں کوئی واضح اکثریت نہیں؛ بی جے پی 25، کانگریس 15، این سی پی 10 اور دیگر 31 نشستیں۔
جالنہ مہانگر پالیکا (JMC)
65 نشستوں میں بی جے پی 41، شندے شیوسینا 12 اور کانگریس 9 نشستوں پر کامیاب رہی۔
میرا-بھایندر مہانگر پالیکا (MBMC)
95 نشستوں میں بی جے پی نے 67 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی؛ کانگریس 13 اور شندے شیوسینا 2 نشستوں پر رہی۔
الہاس نگر مہانگر پالیکا (UMC)
78 نشستوں میں بی جے پی 37 اور شندے شیوسینا 36 نشستوں کے ساتھ تقریباً مکمل قبضہ، کانگریس کو صرف ایک نشست۔
بھیونڈی-نظام پور مہانگر پالیکا (BNMC)
90 نشستوں میں کانگریس 30 کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی، بی جے پی 22، شندے شیوسینا 12 اور این سی پی (شرد) 12؛ معلق صورتِ حال۔
اورنگ آباد مہانگر پالیکا (CSMC)
115 نشستوں میں بی جے پی 58 کے ساتھ فاتح، اے آئی ایم آئی ایم 33، شندے شیوسینا 12 اور یو بی ٹی 6 نشستیں۔
سانگلی-مرج-کوپواڑ مہانگر پالیکا (SMKMC)
78 نشستوں میں بی جے پی 39، کانگریس 18، این سی پی (اجیت) 16، این سی پی (شرد) 3 اور شندے شیوسینا 2 نشستیں۔
مالیگاؤں مہانگر پالیکا (MMC)
84 نشستوں میں اسلام پارٹی 35 کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی، اے آئی ایم آئی ایم 20، شندے شیوسینا 18، کانگریس 3 اور بی جے پی 2 نشستیں۔
احمد نگر مہانگر پالیکا (AMC)
68 نشستوں میں این سی پی (اجیت) 27، بی جے پی 25 اور شندے شیوسینا 10 نشستوں کے ساتھ نمایاں رہیں۔
جلگاؤں مہانگر پالیکا (JMC)
75 نشستوں میں بی جے پی 46، شندے شیوسینا 22، یو بی ٹی 5 اور این سی پی (اجیت پوار) 1 نشست پر کامیاب رہی۔
خلاصہ:
ان نتائج نے واضح کر دیا کہ شہری سیاست میں مہایوتی کا پلڑا بھاری رہا، بی جے پی نے سب سے زیادہ مہانگر پالیکاؤں میں برتری ثابت کی، جبکہ یو بی ٹی کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ نتائج آنے والے اسمبلی انتخابات کے لیے بھی اہم اشارہ سمجھے جا رہے ہیں۔



