مہاراشٹرمیں جبراً مذہب تبدیلی پرسخت قانون کی تیاری؛ 7سال قید اور5 لاکھ جرمانہ کی تجویز؛ مہاراشٹردھرم سواتنترادھینیم 2026 کو کابینہ کی منظوری

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مہاراشٹر میں جبراً مذہب تبدیل کرانے کے معاملات پرسخت کارروائی کے لیے ریاستی حکومت نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ریاستی کابینہ نے "مہاراشٹر دھرم سواتنتر ادھینیم 2026” کے نام سے ایک نئے قانون کی تجویزکو منظوری دے دی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے مطابق اگر کسی شخص کو دباؤ ڈال کر، لالچ دے کر یا دھوکہ دے کر مذہب تبدیل کرایا گیا تو اس کے لیے 7 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا مقرر کی جائے گی۔
ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے گزشتہ کچھ عرصے سے لو جہاد اور جبراً مذہب تبدیل کرانے کے واقعات میں اضافے کا الزام لگاتے ہوئے سخت قانون کی مانگ کی جا رہی تھی۔ اسی پس منظر میں حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
اس مجوزہ قانون کے مطابق اگر کوئی شخص اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے 60 دن پہلے متعلقہ انتظامیہ کو اس کی اطلاع دینا لازمی ہوگا۔ اس کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت درخواست دینا ہوگی اور مذہب تبدیل کرنے کی وجہ بھی واضح طورپربتانی ہوگی۔
اسی طرح مذہب تبدیل کرنے کے بعد 25 دن کے اندر اندر اس کی سرکاری رجسٹریشن کرانا بھی لازمی ہوگا۔ اگر مقررہ فارم میں درخواست نہ دی گئی ہو یا قانونی طریقہ کار مکمل نہ کیا گیا ہو، یا پھر متعلقہ شخص پر دباؤ یا لالچ کا شبہ ہو تو انتظامیہ اس مذہب تبدیلی کی اجازت دینے سے انکار کر سکتی ہے۔
ریاستی کابینہ کی منظوری کے بعد اب اس بل کو ریاستی اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ دونوں ایوانوں سے منظوری ملنے کے بعد اسے صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون ریاست میں نافذ ہو جائے گا۔
اس سے قبل اتر پردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، گجرات، ہماچل پردیش اور راجستھان جیسے کئی بی جے پی حکومت والے ریاستوں میں بھی مذہب تبدیلی مخالف قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں۔ مہاراشٹر میں بھی ایسا قانون لانے کا وعدہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے پہلے ہی کیا تھا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون نافذ ہونے کے بعد لو جہاد اور جبراً مذہب تبدیل کرانے کے معاملات پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے گی۔



