مہاراشٹر

ممبئی: اردو کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت؛ اردو کارواں کے زیرِ اہتمام اہم مذاکرہ، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں اور سماجی کارکنان کی شرکت

ممبئی: اردو کارواں کے زیرِ اہتمام ’’مہاراشٹر میں اردو کی موجودہ صورتِ حال اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے ایک اہم اور فکر انگیز مذاکرہ اوزون ٹاور، ناگپاڑہ، ممبئی میں منعقد ہوا۔ مذاکرے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، صحافیوں، اساتذہ، سماجی کارکنان اور اردو تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کرکے اردو زبان کو درپیش مسائل، چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
مذاکرے کا آغاز اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان کی افتتاحی گفتگو سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان اس وقت تعلیمی، سماجی اور انتظامی سطح پر متعدد مسائل سے دوچار ہے اور اس کے تحفظ و فروغ کے لیے محبانِ اردو کو اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انفرادی، تنظیمی، اجتماعی اور سرکاری سطح پر مربوط اور مسلسل جدوجہد ہی اردو کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
روزنامہ ہندوستان کے مدیر سرفراز آرزو نے اردو اکیڈمی کے کردار اور ترجیحات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی کے بجٹ کا ایک مؤثر حصہ اردو تعلیم کے فروغ پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ جن غیر اردو اسکولوں میں اردو اساتذہ کی ضرورت ہو وہاں اردو اکیڈمی اپنے وسائل سے اساتذہ کی تنخواہوں کا انتظام کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے تعلق سے بعض حلقوں میں پائے جانے والے تعصبات کو دور کرنے کے لیے تاریخی حقائق اور مستند دستاویزات کو سامنے لانا ضروری ہے۔
ڈاکٹر کاظم ملک نے NEP مادری زبان میں بنیادی پرائمری تعلیم کے حق کو کم از کم سرکاری میونسپل اسکولوں میں نافذ العمل کرانے کے لیے اہم نکات بیان کیے تاکہ اردو وہاں تک پہنچ جائے۔
معروف کالم نگار غلام عارف خان نے نئی نسل میں اردو سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے کے مختلف طریقوں اور ذرائع پر روشنی ڈالی، جبکہ بیڑ کے ممتاز سماجی کارکن نبیل الزماں نے اردو کے آئینی اور دستوری حقوق کے حصول کے لیے قانونی جدوجہد، عوامی بیداری اور سیاسی سطح پر مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپوزیشن اور حکومتی اراکینِ اسمبلی و کونسل کو اس جدوجہد میں شریک کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔
مذاکرے میں سید فرقان (صدر، اقلیتی شعبہ جنوبی ممبئی کانگریس)، الیاس داؤد سر (صدر آیٹا ممبئی)، خالد فتح محمد، کمال الدین مانڈلیکر (کوکن فورم)، پروفیسر جمیل کامل، مشیر انصاری (اردو گگن سنستھا)، عامر ادریسی (تاسیسی صدر AMP)، سعید خان، ڈاکٹر لکشمن شرما واحد، ڈاکٹر علاؤالدین شیخ اور شکیل انصاری (ناگپاڑہ ٹائمز) نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو زبان کے فروغ کے لیے منظم اور نتیجہ خیز سرگرمیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقل رابطے، مشاورت اور عملی اقدامات کے بغیر اردو کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے ہر ماہ کم از کم دو مشاورتی نشستوں کے انعقاد اور ایک فعال رابطہ گروپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
شرکاء نے خصوصی طور پر مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکیڈمی کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اکیڈمی کی مکمل اور مؤثر تشکیل جلد از جلد عمل میں لائی جائے تاکہ اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے اس ادارے کو فعال کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔
اس موقع پر عبدالقیوم شیخ (مہاراشٹر کالج سابق طلبہ تنظیم)، شاعر منان فراز، شاعر امتیاز گورکھپوری، شکیل رشید (مدیر ممبئی اردو نیوز)، صحافی فرحان حنیف، پرنسپل اخلاق سر (ریٹائرڈ)، قمر ناز، عثمان شیخ، عبدالباری ایم کے، توصیف کاتب اور بلال تیغی (بزم احباب فاؤنڈیشن) سمیت متعدد معزز شخصیات شریک رہیں۔
مذاکرے کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اردو زبان کے فروغ، تحفظ اور اس کے آئینی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ آخر میں فرید احمد خان نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو کارواں آئندہ بھی اس نوعیت کی سنجیدہ اور بامقصد نشستوں کا انعقاد کرتا رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!