پاتورپرائمری ہیلتھ سینٹر کے انتظام پرسنگین سوالات؛ معمولی علاج کے مریضوں کو بھی اکولہ ریفر کرنے کا الزام، 108 ایمبولینس کے استعمال پرعوام میں تشویش

بالاپور: پاتور کے پرائمری ہیلتھ سینٹر کی طبی خدمات پر مقامی شہریوں اورمریضوں کے اہل خانہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا الزام ہے کہ ایسے مریض جن کا علاج مقامی سطح پر ممکن ہے، انہیں بھی اکولہ کے سرکاری اسپتال ریفر کیا جا رہا ہے، جس سے مریضوں کو غیر ضروری ذہنی، جسمانی اور مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق، مرکز میں موجود واحد 108 ایمبولینس کا استعمال معمولی نوعیت کے مریضوں کو بھی اکولہ منتقل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ایمبولینس زیادہ تر وقت مصروف رہتی ہے۔ ایسے میں سانپ کے ڈسنے، دل کا دورہ پڑنے، سڑک حادثات یا دیگر ہنگامی حالات میں فوری ایمبولینس دستیاب نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حال ہی میں ایک کمسن بچے کے کان میں کیڑا چلا جانے کے بعد اسے پاتور پرائمری ہیلتھ سینٹر لایا گیا، مگر مقامی علاج کرنے کے بجائے اسے فوری طور پر 108 ایمبولینس کے ذریعے اکولہ کے سرکاری اسپتال بھیج دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد شہریوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایسے معاملات کا علاج مقامی سطح پر ممکن ہے تو مریضوں کو غیر ضروری طور پر ریفر کیوں کیا جا رہا ہے؟
ڈاکٹروں اور طبی افسران کی غیر حاضری کا بھی الزام
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹر، میڈیکل آفیسر اور تعلقہ ہیلتھ آفیسر (THO) کی باقاعدہ موجودگی نہ ہونے کے باعث مرکز کا نظام زیادہ تر دیگر عملے کے سہارے چل رہا ہے، جس سے طبی خدمات کا معیار متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
شہریوں نے محکمۂ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے اور اگر کسی قسم کی کوتاہی پائی جاتی ہے تو فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ اس معاملے پر محکمۂ صحت اور متعلقہ افسران کے سرکاری مؤقف کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ تمام حقائق واضح ہو سکیں۔




