بالاپور کی اُردواسکولوں پرعبوری پابندی سے سیاسی ماحول گرم، ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر سوال! "سچ کو پریشان کیا جا سکتا ہے مگر شکست نہیں دی جا سکتی” – تعلیم کے حق کی جدوجہد جاری؛ 19 اگست کی سماعت پر سب کی نظریں!

بالاپور : بالاپور نگر پریشد کی اُردو اسکولوں میں جماعت پنجم اور ہشتم شروع کرنے کی منظوری پر امراوتی ڈویژنل کمشنر کی جانب سے عبوری پابندی عائد کیے جانے کے بعد یہ معاملہ صرف تعلیمی نہیں رہا بلکہ پورے شہر میں سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ شہر بھر میں اس فیصلے پر شدید تبصرے ہو رہے ہیں، جبکہ ہزاروں طلبہ اور ان کے سرپرست اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند نظر آ رہے ہیں۔
سابق رکن اسمبلی خطیب سید ناطق الدین کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کرتے ہوئے ڈویژنل کمشنر نے 11 جون 2026 کے اس حکم کے متعلق عبوری پابندی عائد کی، جس کے تحت نگر پریشد کی سینئر پرائمری اُردو گرلز اسکول میں جماعت ہشتم اور اُردو پرائمری اسکول فورٹ نمبر 6 میں جماعت پنجم شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 19 اگست 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔
دریں اثنا نگرادھیکشہ ڈاکٹر آفرین پروین، تعلیم کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر سامیہ شجر اور ڈاکٹر محمد فیاض انصاری سے حامیوں نے ملاقات کرکے عدالتی جدوجہد آخری مرحلے تک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر آفرین پروین نے کہا، "سچ کو پریشان کیا جا سکتا ہے مگر اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ ہم پوری قوت کے ساتھ یہ قانونی لڑائی لڑیں گے اور ان شاء اللہ انصاف حاصل کریں گے۔ یہ جدوجہد کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ غریب، محروم اور معاشی طور پر کمزور طلبہ کے حقِ تعلیم کے لیے ہے۔”
حامیوں کا الزام ہے کہ اس معاملے میں سیاسی دباؤ اور ذہنی ہراسانی کی کوششیں کی جا سکتی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل کے لیے شروع کی گئی اس جدوجہد سے وہ کسی بھی حال میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان الزامات پر متعلقہ فریق کی جانب سے خبر لکھے جانے تک کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
شہر میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اگر عبوری پابندی طویل عرصے تک برقرار رہیb تو غریب خاندانوں کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی جماعتوں کی منظوری، مستقبل میں ثانوی تعلیم کے فروغ اور مقامی تعلیمی نظام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، البتہ ان باتوں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اب پورے بالاپور کی نظریں 19 اگست کی سماعت پر مرکوز ہیں۔ یہ فیصلہ صرف دو جماعتوں کے آغاز تک محدود نہیں بلکہ اُردو میڈیم کے طلبہ کے مستقبل، حقِ تعلیم اور نگر پریشد کے تعلیمی نظام کی آئندہ سمت کے لیے بھی انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔




