گورکشک کے نام پر کسانوں کو لوٹنے کا نیا کاروبار؛ مہاراشٹر بننے لگا ہے بہار ؛ راشٹروادی کانگریس کے ایم ایل اے ادریس نائیکواڑی کی اپنی ہی حکومت پر تنقید

پونے: (کاوش جمیل نیوز) : مہاراشٹر میں گورکشک کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات بڑھنے لگے ہیں۔ پونے میں گورکشکوں کی جانب سے ایم ایل اے سدابھاؤ کھوت کے ساتھ دھکا مُکی کے واقعے کے بعد، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی پارٹی کے ایم ایل اے ادریس نائیکواڑی نے اپنی ہی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
ادریس نائیکواڑی نے کہا کہ گورکشک کے نام پر ریاست میں کسانوں کے ساتھ غلط طریقے کی وصولی کرکے ظلم و ستم کا نیا کاروبار شروع ہو چکا ہے، جو مہاراشٹر کو بہار جیسا بدنام کرنے کے راستے پر لے جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف ‘موکا’ کے تحت فوری کارروائی کی جائے۔
نائیکواڑی نے کہا، "حال ہی میں مویشیوں کی نقل و حمل کرنے والے کسانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی مویشی زبردستی لے لی جاتی ہیں اور جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ ریاست کے کسانوں کے لیے ناقابل قبول ہے اور آئندہ اسمبلی اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھایا جائے گا۔”
ادھر، پونے میں واقعہ پیش آیا جب سدابھاؤ کھوت اپنے کارکنوں کے ہمراہ دوارکاداس گوشالہ گئے تو کچھ گورکشکوں نے ان کے ساتھ دھکا مُکی کی۔ کھوت نے بتایا کہ قانون کے تحت کسان جب اپنی دودھ دینے والی مویشی بیچنے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے اور مویشی زبردستی لے لی جاتی ہیں۔ پولیس اسٹیشن میں لے جانے کے بعد مویشی گوشالہ بھیج دیے جاتے ہیں اور روزانہ 200 سے 500 روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جس کا فیصلہ کئی مہینوں بعد آتا ہے۔
نائیکواڑی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مہاراشٹر میں گورکشک کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کے واقعات کو فوری طور پر روکا جائے، بصورت دیگر ریاست کی بدنامی بہار جیسی ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ مہاراشٹر کا ثقافتی ورثہ خطرے میں ہے اور حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہیے۔