اہم خبریں

مغربی بنگال کی سیاست میں نیا موڑ، باغیوں کی واپسی کے اشارے؛ ممتا بنرجی کے لیے اچھی خبر؟ باغی رہنماؤں کی واپسی کا امکان؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

مغربی بنگال میں دو ماہ قبل ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کو بڑا سیاسی دھچکا لگا تھا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے حکومت تشکیل دی۔ اقتدار ہاتھ سے نکلتے ہی ترنمول کانگریس میں شدید اختلافات سامنے آئے اور پارٹی میں بڑی پھوٹ پڑ گئی۔
سب سے پہلے متعدد اراکینِ اسمبلی نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے الگ دھڑا قائم کیا، جس کے بعد تقریباً 20 ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ کچھ عرصہ قبل یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ ممتا بنرجی اپنی جماعت کو کانگریس میں ضم کر سکتی ہیں، تاہم اب ایک نئی اور اہم پیش رفت نے سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ترنمول کانگریس کے باغی دھڑے نے ایک بار پھر ممتا بنرجی کی قیادت قبول کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ اس حوالے سے ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر رویندر ناتھ گھوش نے اتوار کے روز اہم بیان دیا۔
رویندر ناتھ گھوش کا کہنا ہے کہ اگر ممتا بنرجی اپنے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو فعال سیاست سے دور رکھیں تو وہ رہنما اور اراکین، جنہوں نے رتبرت بنرجی کی قیادت میں بغاوت کی تھی، ان میں سے کئی دوبارہ ترنمول کانگریس میں واپس آ سکتے ہیں اور ممتا بنرجی کی قیادت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ رتبرت بنرجی اس وقت مغربی بنگال اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں۔ ان کی قیادت میں حال ہی میں 58 اراکینِ اسمبلی نے ترنمول کانگریس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنا الگ گروپ تشکیل دیا تھا، جسے اسمبلی اسپیکر نے باضابطہ طور پر تسلیم بھی کر لیا تھا۔ بعد ازاں رویندر ناتھ گھوش بھی پارٹی چھوڑ کر اسی باغی گروپ میں شامل ہو گئے تھے۔
فی الحال ایک طرف باغی گروپ پارٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب رویندر ناتھ گھوش کے اس تازہ بیان نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں باغی گروپ کے اندر بھی اختلافات پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ ممتا بنرجی ابھیشیک بنرجی کے سیاسی کردار کے حوالے سے آئندہ کیا فیصلہ کرتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!