مہاراشٹر

اساتذہ کی ریاست گیر تحریک کا حکومت پرگہرا اثر؛ ٹی ای ٹی مستثنی سمیت اساتذہ کے اہم مطالبات پرحکومت مثبت! وزیرِتعلیم دادا جی بھوسے کی یقین دہانی

ممبئی: (نامہ نگار) :ریاست گیر اساتذہ دھرنا و احتجاج کے بعد حکومت نے تحریک کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ تعلیم جناب دادا جی بھوسے کی ٹیچر ایم ایل سی ،و شکشک آمدار کے ساتھ اہم میٹنگ منعقد کی،اس ضمن میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے ساجد نثار احمد نے بتایا کہ اساتذہ کے مختلف مطالبات پر مثبت یقین دہانیاں کرائی گئیں۔میٹنگ میں ٹی ای ٹی کا معاملہ سرفہرست رہا۔ وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے خط و کتابت کی ہے اور دیگر ریاستوں کے قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سال 2013 سے قبل مقرراساتذہ کو ٹی ای ٹی سے استثنا (چھوٹ) دینے کے معاملے پر مثبت موقف رکھتی ہے،ایس ائی ار، اور بی ایل او کی ذمہ داریوں کے دوران اساتذہ کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی اور غیر ضروری کارروائیوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیرِ تعلیم نے یقین دلایا کہ محکمۂ مال کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے سخت ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ کسی استاد کی توہین نہ ہو، نیز BLO کی ذمہ داری مستقل طور پر اساتذہ سے واپس لینے کے لیے بھی حکومت سنجیدہ اقدامات کرے گی۔میٹنگ میں سنچ مانیتا کے ضوابط پر آئندہ اساتذہ تنظیموں کے ساتھ مزید مشاورت اور ضروری اصلاحات، 100 یا اس سے زائد طلبہ والی ضلع پریشد اسکولوں میں ترقی یافتہ ہیڈ ماسٹر کے عہدے منظور کرنے، ترقیوں میں سروس سینیارٹی اور حکومت کی جانب سے دی گئی ٹی ای ٹی مہلت کو مدنظر رکھنے اور جماعت ششم تا ہشتم کے تمام اساتذہ پر گریجویٹ ٹیچر کے ضوابط نافذ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔وزیرِ تعلیم دادا جی بھوسے نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ہفتے کابینہ اجلاس کے دن محکمۂ تعلیم اور متعلقہ محکمۂ کے اعلیٰ افسران کے ساتھ مشترکہ میٹنگ منعقد کرکے ان تمام نکات پر عملی فیصلے کیے جائیں گے۔میٹنگ میں شکشک آمدار گیانیشور مہاترے، وکرم کالے، جینت آسگاونکر، شری کانت دیش پانڈے اور کشور دراڑے سمیت مختلف اساتذہ تنظیموں کے نمائندگان شریک تھے۔اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 کے بانی ساجد نثار احمد نے اس سلسلے میں کہا کہ اساتذہ کی ریاست گیر تحریک کے نتیجے میں حکومت نے اساتذہ کے مطالبات پر مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اپنی یقین دہانیوں کو جلد عملی جامہ پہناتے ہوئے اساتذہ کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل نکالے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!