"ہمیں پڑھانے دو!” ٹی ای ٹی سختی اوردیگرمطالبات پرریاست گیراحتجاج، اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کی بھرپورشمولیت

ممبئی: (پریس ریلیز) : ریاست میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور اساتذہ کو ان کی اصل ذمہ داری یعنی تدریسی خدمات انجام دینے کا مناسب موقع فراہم کرنے کے مطالبے کے ساتھ آج 9 جولائی 2026 کو مہاراشٹر بھر میں پرائمری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری، جونیئر کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے ریاست گیر "اسکول بند” تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ مختلف اضلاع میں اسکول بند رکھ کر ضلع کلکٹر دفاتر تک عظیم الشان مورچے نکالے گئے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس، وزیر تعلیم دادا جی بھوسے اور دیگر اعلیٰ حکام کے نام مطالباتی یادداشتیں پیش کی گئیں۔ اساتذہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر واقعی طلبہ کے تعلیمی معیار میں بہتری مطلوب ہے تو اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داریوں سے آزاد کرکے انہیں مکمل طور پر تدریس کے لیے وقت فراہم کیا جائے، کیونکہ مسلسل بڑھتے ہوئے غیر تدریسی کاموں، بی ایل او ڈیوٹی، مختلف سرکاری سروے، ووٹر لسٹ کی ذمہ داریوں اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے تدریسی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
احتجاج کے دوران "اسکول بچاؤ، تعلیم بچاؤ”، "تعلیم بچاؤ، ملک بچاؤ” اور "اساتذہ کو پڑھانے دیں، طلبہ کو سیکھنے دیں” جیسے فلک شگاف نعروں کے ساتھ اساتذہ نے حکومت سے فوری مثبت فیصلوں کا مطالبہ کیا۔ اساتذہ نے واضح کیا کہ ٹی ای ٹی کے نام پر سینئر اور طویل تجربہ رکھنے والے اساتذہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہ کی جائے، ٹی ای ٹی کے موجودہ ڈھانچے میں معیاری اور عملی اصلاحات نافذ کی جائیں، سال 2010 سے قبل تقرر پانے والے تمام اساتذہ کے لیے خصوصی ٹی ای ٹی امتحان منعقد کیا جائے، جونیئر کالج سنچ مانیتا کی خامیوں کو فوری دور کیا جائے، شکشن سیوک اسکیم کو منسوخ کیا جائے، نان گرانٹ اسکولوں کو فوری طور پر 20 فیصد اضافی گرانٹ دی جائے، تمام امدادی، جزوی امدادی اور غیر امدادی اسکولوں کو موجودہ ضابطوں کے مطابق سو فیصد گرانٹ فراہم کی جائے اور اساتذہ کو ووٹر لسٹ سمیت تمام غیر تدریسی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کے بانی ساجد نثار احمد نے بتایا کہ ریاست بھر میں مختلف اساتذہ تنظیموں کی مشترکہ اپیل پر یہ تاریخی احتجاج منعقد کیا گیا، جبکہ ممبئی کے آزاد میدان میں بھی زبردست دھرنا دیا گیا، جس میں تنظیم کے ریاستی کارگزار صدر شیخ ذکی احمد، شیخ ذاکر، شبانہ شیخ، جہاں آراء اور دیگر ذمہ داران و اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ ضلع ناسک میں ساجد نثار احمد، ضلع صدر نور الٰہی، ندیم شیخ، خاتون صدر پرویزہ شیخ اور شیرین شیخ کی قیادت میں بڑی تعداد میں اساتذہ نے اسکول بند رکھ کر احتجاجی مورچے میں شرکت کی۔ کولہاپور میں ریاستی صدر رضوان چمن شیخ، ہائی اسکول ریاستی صدر انصاری عرفان، نیاز پٹیل اور فیصل پٹیل کی رہنمائی میں اساتذہ نے بھرپور انداز میں احتجاج میں حصہ لیا۔ آکولہ ضلع میں پرائمری شعبہ کی جانب سے شفیق راہی سر، وبھاگ کارگزار صدر سیف الدین سر، ضلع صدر شاہد پرویز سر، ضلع سیکریٹری رضوان قاضی سر، ضلع کارگزار صدر عابد سر، ضلع خازن زبیر سر اور ضلع نائب صدر صدام حسین سر کی قیادت میں سیکڑوں اساتذہ نے مورچہ نکالا، جبکہ ہائی اسکول شعبہ سے ریاض سر اور رضوان خان سر کی قیادت نمایاں رہی۔ امراوتی میں عقیل آفتاب، سید ثاقب علی اور ضمیر محمد نے تحریک کی قیادت کی، جبکہ دھولیہ میں توصیف شیخ اور طالب شیخ کی سربراہی میں اساتذہ نے احتجاج میں حصہ لیا۔ جلگاؤں میں محسن خان، ظہیر خان اور ذاکر شیخ کی قیادت میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے اراکین مورچے میں شریک رہے۔ ناندیڑ میں ریاستی رکن نوید قریشی، ریاستی رابطہ کار محمد ضیا الحق اور ضلع صدر محمد عبد الواسع نے احتجاج میں شرکت کی۔ پونے میں ریاستی سیکریٹری معین قمرالدین، ضلع صدر اشفاق خان اور خندمیر شیخ نے بھرپور نمائندگی کی۔ رائے گڑھ میں ضلع صدر شیخ چاند انصار شیخ اور زکریا کالسیکر نے مطالباتی یادداشت پیش کی، جبکہ رتناگیری میں ضلع صدر ہدایت نائک نے اساتذہ کے وفد کی قیادت کی۔ رتناگیری ہائی اسکول شعبہ سے ریاستی کارگزار صدر شوکت مہاٹے اور ریاستی نائب صدر مبین بدامنے کی قیادت میں سیکڑوں اساتذہ نے احتجاج میں شرکت کی۔ نندوربار میں ریاستی سیکریٹری زبیر انصاری اور ضلع صدر قاضی نوید نے مطالباتی میمورنڈم پیش کیا۔ بیڑ میں ضلع صدر محمد صدیق کی قیادت میں اساتذہ نے مورچے میں بھرپور شرکت کی، جبکہ پربھنی میں ضلع صدر سرور شریف اور تنظیمی اراکین نے تحریک میں فعال کردار ادا کیا۔ اورنگ آباد میں خان محمد اور عمران احمد شریک رہے، جبکہ ہنگولی میں ریاستی نائب صدر تجمل معیز، ریاستی رابطہ کار محمد عابد اور ضلع صدر مبین خان نے سرگرم انداز میں احتجاجی تحریک کی قیادت کی۔ واشم میں ڈویژن صدر محمد عمیر، ندیم راہی اور ضلع صدر محمد حسین دیشمکھ کی قیادت میں میمورنڈم پیش کیا گیا، جبکہ ایوت محل میں ضلع صدر محمد پیرو نے اساتذہ کی نمائندگی کی۔ بلڈھانہ میں ضلع صدر شیخ متین اور عمران سید نے مطالباتی یادداشت پیش کی، جبکہ لاتور میں محمد غوث، ناگپور میں فیروز خان اور سلیم سید نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ اسی طرح بھنڈارا، گوندیا، چندرپور، وردھا، احمد نگر سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کے عہدیداران، اراکین اور ہزاروں اساتذہ نے اسکول بند رکھ کر احتجاجی تحریک کو کامیاب بنایا۔ ریاست بھر میں اردو، مراٹھی، ہندی اور دیگر تمام میڈیم کے اساتذہ نے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تحریک میں بھرپور شرکت کی اور واضح پیغام دیا کہ جب تک اساتذہ کے جائز مطالبات منظور نہیں کیے جاتے، تب تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ آخر میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کے بانی ساجد نثار احمد نے ریاست بھر کے تمام اساتذہ، تنظیمی عہدیداران، کارکنان اور مختلف اساتذہ تنظیموں کا دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی تحریک اساتذہ کے وقار، ان کے آئینی و تعلیمی حقوق کے تحفظ اور ریاست میں معیاری تعلیمی نظام کی بحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔




