اجیت دادا پوار کی موت کے بعد پارٹی پر قبضے کی کوشش؟ بڑے لیڈروں پرکس نےلگایا الزام ؟ پٹیل اورتٹکرے نشانے پر؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :اجیت دادا پوار کی بارامتی ایئرپورٹ پر حادثاتی موت کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایم ایل اے روہت پوار مسلسل یہ الزام لگا رہے ہیں کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک سازش ہو سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں نیشنلسٹ دھڑوں کے اتحاد میں سینئر لیڈر پرفل پٹیل اور ریاستی صدر سنیل تٹکرے رکاوٹ بن رہے ہیں۔
روہت پوار کا پٹیل اور تٹکرے کے خلاف ناراضگی مسلسل سامنے آ رہی ہے، اور اب انہوں نے ایک سنگین الزام عائد کیا ہے کہ اجیت دادا کی موت کے بعد پٹیل اور تٹکرے پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سنیل تٹکرے جلد ہی ایک پریس کانفرنس میں ان الزامات کا جواب دینے والے ہیں۔
روہت پوار نے دعویٰ کیا کہ کچھ دن پہلے انہیں اجیت دادا کی پارٹی سے متعلق کچھ دستاویزات موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 10 مارچ 2026 کو قومی صدر سنیترہ پوار نے ایک خط جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ 28 جنوری کو اجیت دادا کے حادثے کے بعد سے لے کر ان کے قومی صدر بننے تک اگر کسی نے الیکشن کمیشن سے کوئی خط و کتابت کی ہو تو اسے تسلیم نہ کیا جائے۔
روہت پوار کے مطابق، 16 فروری 2026 کو یعنی حادثے کے 18 دن بعد اجیت دادا کے گروپ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ایک خط بھیجا گیا، جس پر سنیل تٹکرے، پرفل پٹیل اور برج موہن شریواستو کے دستخط تھے۔ اس خط میں پارٹی کے آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا گیا کہ تمام اختیارات ورکنگ پریزیڈنٹ کے پاس ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معلومات سنیترہ پوار تک پہنچی ہوں گی، اسی لیے انہوں نے فوری طور پر اپنا خط جاری کیا۔
روہت پوار نے اس موقع پر پیوش گوئل کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پورے واقعے کے فوراً بعد یہ بیان سامنے آیا کہ پرفل پٹیل صدر بن گئے ہیں، جس سے شک پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب ایک منصوبہ بند عمل تھا۔ اگرچہ بعد میں پیوش گوئل نے اپنی بات کو غلطی قرار دیا، لیکن روہت پوار کے مطابق اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پٹیل اور تٹکرے پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے سنیترہ پوار کو مشورہ دیا کہ وہ محتاط رہیں کیونکہ سیاست کا ماحول خراب ہو چکا ہے اور اردگرد کے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
روہت پوار نے مزید کہا کہ اس پورے معاملے کی جانچ ہونی چاہیے کہ آیا اجیت دادا کے حادثے کے بعد پارٹی پر قبضے کی کوشش کی گئی یا پہلے سے ہی اس کی تیاری تھی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ پارٹی پر حق حاصل کرنے کے لیے نہ تو عدالت گئے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی جلدی دکھائی ہے۔
دوسری طرف اجیت پوار گروپ کے ایک سینئر لیڈر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روہت پوار صرف الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، جو خط پرفل پٹیل کے اختیارات سے متعلق ہے، وہ دراصل قانونی معاملات جیسے عدالت اور الیکشن کمیشن میں کارروائی کو سنبھالنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، اجیت پوار خود عدالت یا الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوتے تھے، اس لیے انہوں نے پہلے ہی پرفل پٹیل کو یہ اختیارات دے رکھے تھے تاکہ وہ ان کی جانب سے کام کاج سنبھال سکیں۔



