پارتھ پوار کے زمین معاملے پر ہنگامہ ؛ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارکی ساکھ پرسوال، بی جے پی چوکس؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

ممبئی : (کاوش جمیل نیوز) : ریاست میں مقامی خود مختار اداروں کے انتخابات قریب آتے ہی حکمراں مہایوتی اتحاد میں اختلافات کی چنگاریاں بھڑکنے لگی ہیں۔ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار اس وقت سخت سیاسی دباؤ میں ہیں، کیوں کہ پارتھ پوار کے نام پر سامنے آئے ایک پونہ زمین سودے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف اپوزیشن کو حملے کا موقع دیا ہے بلکہ خود بی جے پی کے اندر بھی نئی سیاسی چالوں کی بحث تیز کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، بی جے پی نے اس پورے قضیے پر خاموش مگر محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے آئندہ انتخابات خود کے دم پر لڑنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ خاص طور پر ممبئی میٹروپولیٹن ریجن اور پونہ ڈویژن پر پارٹی نے خصوصی توجہ مرکوز کی ہے، جہاں اس وقت شیوسینا (شندے گروپ) اور اجیت پوار کی این سی پی کا اثر نمایاں ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے نتائج مہایوتی میں طاقت کے توازن پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
اسی دوران، یہ بھی اطلاع ہے کہ اجیت پوار کے گروپ نے شرد پوار کے زیر قیادت این سی پی کے ساتھ دوبارہ اتحاد کے دروازے کھولنے کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری طرف، شرد پوار کی این سی پی نے اپنے کارکنوں کو ہرسیاسی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم، زمین سودے کے تنازع کے بعد اجیت پوار پر بڑھتے دباؤ نے اس ممکنہ ملاپ کو مشکل بنا دیا ہے۔
پارتھ پوار کے نام سے جڑی کمپنی نے پونہ میں زمین خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جس پر اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وہ سرکاری زمین تھی۔ وزیراعلیٰ کے حکم پر پولیس نے فوری طور پر فائلیں ضبط کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ نتیجتاً اجیت پوار نے یہ سودا منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: “حکومت نے انکوائری کے احکامات دیے ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔”
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اجیت پوار تنازع میں گھرے ہوں۔ 2012 میں آبپاشی گھوٹالے کے الزامات کے بعد بھی وہ نائب وزیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، تاہم بعد میں انہیں کلین چِٹ مل گئی تھی۔ اس بار وہ استعفے کے بجائے شفاف انکوائری کی وکالت کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اجیت پوار اس بات سے واقف ہیں کہ ان کی سیاسی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کی “شفاف حکومت” کی شبیہ مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ اس لیے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کے بجائے سیاسی طور پر دفاعی مگر محتاط حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ زمین کا سودا منسوخ ہونے کے باوجود تحقیقات جاری رہیں گی اور اس پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوگا۔ خود اجیت پوار نے بھی یقین دلایا کہ تحقیق مکمل طور پر شفاف طریقے سے کی جائے گی۔ ان کا یہ بیان اتحادی حکومت میں اندرونی کھینچ تان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ادھر، بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ “اگر اجیت پوار اور ایکناتھ شندے دونوں حکومت سے الگ بھی ہو جائیں، تب بھی بی جے پی کے پاس 137 ایم ایل اے ہیں، اور اکثریت کا ہدف حاصل کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں۔” دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی وقت بی جے پی کے نوجوان مراٹھا چہرے مرلی دھر موہوڑ پر بھی زمین سودے کا الزام لگا ہے، جس سے پارٹی دفاعی پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ بعض سیاسی حلقے اس معاملے کو اجیت پوار اور موہوڑ کے پرانے تنازعات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
مہایوتی کے اتحادی شیوسینا (شندے گروپ)، کانگریس اور شرد پوار کی این سی پی،تینوں نے اس معاملے پر اجیت پوار کو نشانہ بنایا ہے۔ شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) کے امباداس دانوے نے زمین سودے کی تحقیقات تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کانگریس نے اجیت پوار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اجیت پوار اس نئے بحران سے خود کو کیسے نکالتے ہیں، اور آیا یہ تنازع مہایوتی کے اتحاد میں مزید دراڑیں ڈالے گا یا نہیں، یہی آنے والے دنوں کی سب سے بڑی سیاسی کہانی بن سکتی ہے۔



