مضامین

ناسک میں مسلم کارپوریٹ ملازمین کےساتھ جو کچھ ہورہاہے وہ بھیانک ہے !

(ندیم عبدالقدیر
فیچر ایڈیٹر،اردو ٹائمز،ممبئی
ریلائنس کے بعد ملک کی دوسری سب سے بڑی کمپنی ’ٹی سی ایس‘(ٹا ٹا کنسلٹنسی سروسز) ہے۔ اس کمپنی کا ایک کام ’بی پی او‘ ہے، جسے عام زبان میں ’کال سینٹر‘ کہا جاتا ہے ۔ اس کمپنی کا ایک کال سینٹر ناسک میں ہے۔ ۲۵؍مارچ کو دیولالی کیمپ پولس اسٹیشن میں اسی کمپنی کی ایک نوجوان ملازمہ نے شکایت درج کرائی کہ اس کے بوائے فرینڈ نے شادی کا وعدہ کرکے اس کےساتھ جنسی تعلقات بنائے اور اب وہ اپنے وعدے سے مکر گیا،یعنی شادی نہیں کررہاہے۔یہ ہے’ناسک۔ ٹی سی ایس‘ کا پورا معاملہ۔ شادی کا وعدہ کرکے جسمانی تعلقات بنانا اور پھر شادی سے مُکر جانا بہت ہی عام سا معاملہ ہے۔ مہاراشٹر میں ایک سال میں ایسے ہزاروں معاملات درج ہوتےہیں ،لیکن چونکہ ناسک میں لڑکا مسلمان تھا اور لڑکی ہندو تھی ،اسلئے ،جی ہاں! صرف اسی لئے اس معاملے کو ’لوجہاد، جنسی زیادتی کی سازش، خواتین کا جنسی استحصال، جبرا ًمذہب کی تبدیلی کا ریکیٹ وغیر ہ وغیرہ‘ سارے القاب سے نواز دیا گیا۔
حالانکہ شادی کا وعدے کرکے جسمانی تعلقات بنانے کے معاملات میں بہت کم ہی گرفتاری ہوتی ہے بلکہ اکثر معاملات میں تو بات گرفتاری تک بھی نہیں پہنچتی، لیکن ناسک معاملے میں اب تک ۸؍لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے یہ سب کے سب مسلمان ہیں اور ان میں کمپنی کی ایک خاتون مسلم ’ایچ آر‘ افسربھی ہے(جو اسکارف پہنتیہے) ۔ کیا آپ یقین مانیں گے کہکسی لڑکی سے شادی کاوعدہ کرکے شادی نہیں کرنے کے معاملے میں ایک لڑکی کو گرفتارکرلیاگیا!! ساری دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوا لیکن یہ ’کارنامہ ‘ مہاراشٹر پولس نے کردکھایا ۔شادی کا وعدہ کرکے شادی نہیں کرنے کے کیس میں ۸؍لوگوں کو گرفتار کرنے کا کام بھی صرف اسی کیس میں ہوا ہے ، ورنہ ایسے کسی بھی کیس میں ۸؍لوگوں کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا۔
پولس نے ایک لڑکے اور ایک لڑکی کے نجی معاملے کو سازش قرار دے دیا۔ اس سازش کی بنیاد صرف اور صرف اُس لڑکی کی شکایت ہے۔ اس شکایت کے بعد پولس ایسی حرکت میں آئی کہ پوچھئے نہیں۔ پولس نے کمپنی میں ملازمین کو پکڑ پکڑکر پوچھنا شروع کردیا اور اس طرح کی مزید تین شکایات درج کردیں۔
سب سے زیادہ نام ’ایچ آر‘ ندا خان کا ان کے فوٹو کےساتھ لیا جارہاہے ،اور اس کی ایک ہی وجہ ہے ، وہ یہ کہ ندا خان اسکارف پہنتی ہیں۔ حالانکہ ’ٹیم لیڈر‘ سے اوپر اسسٹنٹ منیجر ہوتا ہے ، اس سے اوپر منیجر ہوتا ہے اور اس کے اوپر پروجیکٹ ڈائریکٹر ہوتا ہے۔ اگر کچھ غلط ہورہاتھا تو اس کیلئے سب سے زیادہ اس ’کال سینٹر‘ کے اسسٹنٹ منیجر، منیجر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ذمہ دار تھے لیکن حیرت انگیز طور پر اس معاملے میں کسی کا بھی نہیں نام نہیں آرہاہے۔’ٹیم لیڈر‘ درحقیت مینجمنٹ کی درجہ بندی میں سب سے نیچے ہوتا ہے، لیکن یہاں ایسا بتایاجارہاہے کہ ’ٹیم لیڈر‘ پوری کمپنی چلا رہاتھا، کیونکہ مسلمان لڑکا ’ٹیم لیڈر ‘ ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایسے معاملات میں کمپنی کیا کرسکتی ہے ؟کمپنیوں میں لڑکوں او رلڑکیوں کے عشق عام ہیںاور اس طرح کےعشق پورے اسٹاف کے علم میں ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی لڑکی اپنے ’اعلیٰ افسران‘ یا ’ایچ آر‘ سے یہ شکایت کرے کہ میرا بوائے فرینڈ ( کمپنی کا ملازم) مجھ سے شادی نہیں کررہاہے ‘‘ ، جبکہ سب کو معلوم ہے کہ ان دونوں کےدرمیان زبردست قسم کا عشق چل رہاتھاتو کمپنی اس میں کیا ایکشن لے سکتی ہے؟ کمپنی اگر اس میں دخل اندازی کرتی ہے تو یہ لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت ہوگی اور لڑکا کہہ سکتاہے کہ کمپنی کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ مجھے کس سے شادی کرنی چاہئے۔دراصل کوئی بھی کمپنی اس طرح کے معاملات میں کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ کیا لڑکےکے ساتھ ہمبستری کرنے سے پہلے آپ نے ’ایچ آر‘ سے پوچھا تھا ؟ کیا کمپنی نے گارنٹی لی تھی کہ وہ لڑکا تم سے ہی شادی کرے گا؟ان سب کے باوجود پولس اور بھگوا بریگیڈ اسے کارپوریٹ دنیا میں ’لوجہاد‘ کے نام پر پھیلا رہےہیں۔ یہ کتنا بھیانک ہے اس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا ہے ۔ یہ کھیل مسلمانوں کو کارپوریٹ دنیا میں ملازمت سے روکنے کی بہت ہی خطرناک سازش ہے ۔ یہ معاملہ مسلمانوں میں مزید بے روزگاری پھیلانے اور پڑھے لکھے مسلمانوں کو بھی بے روزگار کردینے کا بھیانک کھیل ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں پہلے ہی بہت کم مسلمانوں کو جگہ ملتی ہے ۔ یہ گھناؤنی سازش ان ’بہت کم ‘ مسلمانو ں کو بھی پوری طرح ختم کردینے کی متعصبانہ کوشش ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!