مہاراشٹر

بالاپور:میونسپل کونسل میں ساڑھے چار سال سے چیف آفیسر اور دو سال سے ایڈمنسٹریٹو آفیسر کا عہدہ خالی؛ ترقیاتی کام متاثر؛ گھرکُل (آئی ٹی آئی) کمپلیکس کے تعمیراتی کاموں کے معیار، فنڈ کے استعمال اور بنیادی سہولیات پر سنگین سوالات

zakir ahmed shaikh kawish e jameel reporter balapurبالاپور: (بذریعہ ذاکر احمد) :میونسپل کونسل میں گزشتہ ساڑھے چار برس سے مستقل چیف آفیسر اور دو برس سے ایڈمنسٹریٹو آفیسر کا عہدہ خالی ہونے کے باعث بلدیہ کے انتظامی امور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اہم انتظامی عہدوں کی طویل عرصے سے عدم موجودگی کے سبب ترقیاتی کاموں کی رفتار متاثر ہوئی ہے جبکہ شہری سہولیات سے متعلق کئی اہم فیصلے التواء کا شکار ہیں۔ اسی دوران گھرکُل (آئی ٹی آئی) کمپلیکس میں ہونے والے تعمیراتی کاموں کے معیار، مستحقین سے جمع کی گئی رقم کے استعمال اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے عوامی نمائندوں نے سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ مستقل انتظامی قیادت نہ ہونے کا براہِ راست اثر ترقیاتی کاموں کے معیار اور نگرانی پر پڑا ہے۔ فی الحال میونسپل کونسل قائم مقام افسران کے سہارے چل رہی ہے جس کی وجہ سے فیصلہ سازی، جوابدہی اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

گھرکُل کمپلیکس کے تعمیراتی کاموں کی جانچ کا مطالبہ
عوام نے گھرکُل (آئی ٹی آئی) کمپلیکس میں انجام دیے گئے تعمیراتی کاموں کے معیار اور تکنیکی جانچ کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں مکمل کیے گئے تعمیراتی منصوبوں کے معیار، متوقع مدتِ استعمال اور تکنیکی معیارات کی معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
متعلقہ انجینئروں سے یہ بھی وضاحت طلب کی گئی ہے کہ یہ کام کن معیارات کے مطابق انجام دیے گئے اور ان کی پائیداری کی ذمہ داری کتنے برسوں کے لیے طے کی گئی ہے۔

فی مستحق 15 ہزار روپے کی رقم پر سوال
عوامی نمائندوں کے مطابق اسکیم کے تحت غریب مستحقین سے فی کس 15 ہزار روپے جمع کرائے گئے تھے۔ اب سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ رقم کن کاموں پر خرچ کی گئی اور اس کا مکمل حساب عوام کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ اس فنڈ کے استعمال کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تعمیرات محکمہ بھی سوالوں کے گھیرے میں
میونسپل کونسل کے تعمیرات شعبہ میں تین تا چار انجینئر خدمات انجام دے رہے ہیں، اس کے باوجود ترقیاتی کاموں کے معیار پر شہریوں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں حالیہ برسوں میں تعمیر ہونے والی سڑکیں مختصر مدت میں ہی خراب ہو گئی ہیں۔ متعدد مقامات پر نالیوں کی تعمیر ناقص یا ادھوری ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں جبکہ نالیوں پر لگائے گئے ڈھکنوں کے معیار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود سڑکوں، نالیوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی حالت اطمینان بخش نہیں ہے، لہٰذا تکنیکی جانچ کر کے ذمہ دار افسران کا تعین کیا جانا چاہیے۔

پانی کی فراہمی پر بڑھتی ناراضگی
شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو لے کر بھی شہریوں میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ متعدد وارڈوں کے رہائشیوں کا الزام ہے کہ انہیں باقاعدگی سے پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ کہیں تین دن بعد تو کہیں پانچ دن بعد پانی مل رہا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ سپلائی ہونے والے پانی میں بدبو آنے اور پانی کا رنگ پیلا ہونے کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صاف پینے کا پانی فراہم کرنا بلدیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن اس ضمن میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔

انتظامی خلا کا شہری سہولیات پر اثر
ںشہریوں کا الزام ہے کہ چیف آفیسر اور ایڈمنسٹریٹو آفیسر جیسے اہم عہدے طویل عرصے سے خالی ہونے کی وجہ سے پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی مرمت، تجاوزات کے خاتمے، ٹیکس وصولی اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی جیسے امور متاثر ہوئے ہیں۔ نتیجتاً شہری مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ترقیاتی منصوبے ادھورے پڑے ہیں۔

مستقل تقرری اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ
ںشہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بالاپور میونسپل کونسل میں فوری طور پر مستقل چیف آفیسر اور ایڈمنسٹریٹو آفیسر کی تقرری کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی گھرکُل (آئی ٹی آئی) کمپلیکس کے تعمیراتی کاموں، مستحقین سے جمع شدہ فنڈ، سڑک و نالی تعمیرات اور پانی کی فراہمی سے متعلق معاملات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات بھی کرائی جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد شفاف کارروائی نہ کی گئی اور ذمہ دار افسران کا تعین نہ کیا گیا تو عوامی مفاد میں وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!