مضامین

مسجد میں بچوں کی شرارت – کل کے محافظِ دین

تحریر: ذاکر احمد شیخ، بالاپور
قلم: اوّل
مساجد صرف عبادت گاہیں ہی نہیں بلکہ تربیت، تہذیب اور روحانی ارتقاء کے مراکز بھی ہیں۔ آج کے اس پُرفتن دور میں جب بچے موبائل، ٹی وی اور انٹرنیٹ کی رنگینیوں میں کھوئے رہتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی بچہ ان سب کو چھوڑ کر مسجد کا رخ کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے باعثِ مسرت اور امید کی کرن ہے۔ اگر مسجد میں آنے والے بچے کبھی نادانی میں شور کریں، ادھر اُدھر دوڑیں یا کوئی معمولی شرارت کر بیٹھیں تو ہمیں سختی کے بجائے نرمی، محبت اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہی بچے کل ہمارے معاشرے کے معمار اور دین کے محافظ بنیں گے۔
قلم: دوم
بچوں کی فطرت کھیل کود اور تجسس سے بھرپور ہوتی ہے۔ مسجد کا ماحول ان کے لیے نیا اور پُرکشش ہوتا ہے، اس لیے ان سے مکمل خاموشی اور بالغوں جیسا سنجیدہ رویہ توقع کرنا مناسب نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انہیں پیار سے سمجھائیں، اچھے اخلاق کے ساتھ نماز اور آدابِ مسجد سکھائیں۔ نرمی سے کی گئی رہنمائی ان کے دلوں میں مسجد کی محبت پیدا کرے گی، جب کہ سختی اور ڈانٹ انہیں مسجد سے دور کر سکتی ہے۔ آج اگر ہم نے ان معصوم دلوں کو جوڑ لیا تو کل یہی بچے دین کے سچے خادم اور معاشرے کی روشن امید بن کر اُبھریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!