مہاراشٹر

بالاپور میں سیاسی بھونچال: کونسلر کی رکنیت پر بحران، سماعت میں بڑا پیش رفت؛ تین اولاد ہونے کے الزام پر نااہلی کی عرضی؛ ذرائع کے مطابق ضلع کلکٹر نے ابتدائی طور پر نااہل قرار دیا، 23 جون تک آخری موقع

zakir ahmed shaikh kawish e jameel reporter balapurبالاپور: (بذریعہ ذاکراحمد) :بلدیہ کی سیاست میں ایک بار پھر بڑا موڑ سامنے آیا ہے۔ وارڈ نمبر 2 (ب) سے منتخب کونسلر محمد اکرم شیخ امام کی رکنیت کو چیلنج کرنے والی نااہلی کی عرضی پر 9 جون کو ضلع کلکٹر دفتر، اکولہ میں اہم سماعت منعقد ہوئی۔ اس معاملے نے شہر کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، بالاپور کے رہائشی محمد قیصر فاروق محمد اکبر نے بمبئی ہائی کورٹ کے وکیل معین خان کے ذریعے مہاراشٹر میونسپل کونسل، نگر پنچایت و صنعتی ٹاؤن شپ ایکٹ 1965 کی دفعہ 44 اور دفعہ 16 کے تحت ضلع کلکٹر اکولہ کے روبرو عرضی داخل کی ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کونسلر محمد اکرم شیخ امام کے تین بچے ہیں، جس کی بنا پر وہ کونسلر کے عہدے کے لیے اہل نہیں رہتے۔ عرضی گزار نے انہیں فوری طور پر نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں جوائنٹ کمشنر، میونسپل کونسل انتظامیہ و ضلع کلکٹر دفتر اکولہ کی جانب سے دونوں فریقوں کو سماعت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران دونوں جانب سے دستاویزات اور اپنے اپنے دلائل پیش کیے گئے۔
ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق، ضلع کلکٹر نے ابتدائی جانچ کے دوران متعلقہ کونسلر کو بادی النظر میں نااہل قرار دیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت کے دوران متعلقہ کونسلر کی سرزنش بھی کی۔
ذرائع کے مطابق، ضلع کلکٹر نے محمد اکرم شیخ امام کو 23 جون 2026 تک آخری موقع فراہم کیا ہے، جس کے دوران وہ از خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حتمی حکم نامہ ابھی جاری ہونا باقی ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر نااہلی سے متعلق الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف متعلقہ کونسلر کے سیاسی مستقبل پر مرتب ہوں گے بلکہ بلدیہ کی مقامی سیاست میں بھی بڑے تغیرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی معاملے سے متعلق ایک انتخابی عرضی بھی عدالت میں زیرِ سماعت بتائی جا رہی ہے، جس سے اس پورے معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب شہریوں کی نظریں 23 جون تک ہونے والی آئندہ کارروائی اور ضلعی انتظامیہ کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔
نوٹ : اس معاملے میں حتمی فیصلہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے قانونی کارروائی مکمل ہونے اور دستیاب دستاویزات کے جائزے کے بعد ہی لیا جائے گا۔ ذرائع کے حوالے سے موصولہ معلومات کی سرکاری تصدیق حتمی حکم جاری ہونے کے بعد ہی مانی جائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!