مہاراشٹر:میونسپل انتخابات میں تمام سیاسی پارٹیاں کیا اکیلے چلنے کے لئے تیار ہیں؟

محمد اقلیم
ممبئی :طویل انتظار کے بعد مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان آخر کار ہو ہی گیا ہے۔ ان انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں میں گھمسان مچی ہوئی ہے۔ پارٹیوں کے اندر اور باہر ایسی ایسی حرکتیں ہورہی ہیں کہ دانتوں تلے انگلی دبانے کو جی چاہتا ہے۔ جو پارٹیاں ایک دوسرے کو پھوٹی آنکھ نہیں بھاتی تھیں وہ ایک دوسرے کو مقامی سطح یعنی بلدیاتی سطح پر گلے لگا رہی ہیں، حیرت تو اس بات پر ہےکہ پارٹی ہائی کمان بھی یہ سب دیکھنے کےباوجود خاموش ہیں، شاید ان کو ایسا محسوس ہوتا ہو کہ مقامی سطح پر تال میل کرنے یا گلے لگانے سے اعلیٰ سطح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ ایک دوسرے سے ’دوری‘ بنائے رکھتے ہوئے اپنی سیاست کی آنچ کو تیز کرتے رہیں گے۔ایم وی اے اور مہایوتی اتحاد کے اندر پارٹیوں کی صف بندی نے دوستی اور دشمنی کی لکیروں کو دھندلا کردیا ہے۔ اجیت پوار اور شرد پوار کی راشٹروادی چاند گڑھ میں سینا میں شامل ہو گئی ہے۔ چاکن، پونے میں ادھو سینا اور شندے سینا نے اتحاد بنالیا ہے۔ پال گھر میں این سی پی کے دونوں گروپ شندے سینا کے ساتھ مل کر بی جے پی سے لڑ رہے ہیں۔
بس کھلم کھلا اعلان سماج وادی پارٹی کی جانب سے آیا ہے، گذشتہ دنوں سماج وادی پارٹی ممبئی اور مہاراشٹر کے صدر و ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اعلان کردیا ہے کہ مہاراشٹر کی تمام میونسپل کارپوریشنوں میں سماج وادی پارٹی تنہا الیکشن لڑے گی۔ انہوں نے اس وقت اپنے اس درد کا بھی اظہار کیا کہ پہلے تو کچھ پارٹیاں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد بنانے کے وقت باتیں کرتی ہیں لیکن عین وقت پر وہ دھوکہ دے جاتی ہیں، اس لئے اس بار وہ ان سب چکروں میں نہیں پڑیں گے اور شروع سے ہی انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ سماج وادی پارٹی تنہا الیکشن لڑے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے لئے تو انہو ںنے اپنے امیدواروں کی تعداد بھی بتادی ہے کہ ایک سو پچیس سے ڈیڑھ سو کے درمیان ان کے امیدوار میدان میں رہیں گے۔ادھر کانگریس نے بھی کھلے عام اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔گاؤں اور ضلع کی سیاست میں بننے والے بلدیاتی اتحاد کی صورتحال بی جے پی اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ 2 دسمبر کو ہوگی۔ اس کے بعد شہری باڈی انتخابات ہوں گے، جہاں تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کی نظریں ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) پر ہیں۔ بی ایم سی انتخابات شیوسینا کی وراثت کی جنگ ہے۔ اگر بی ایم سی کھو جاتی ہے، تو یہ ادھو سینا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ بالا صاحب ٹھاکرے نے بی ایم سی میں اپنی جیت کے ساتھ مہاراشٹر میں اپنے قدم جمائے تھے ۔ بی ایم سی انتخابات کی اسکرپٹ پنچایتی انتخابات میں لکھی جارہی ہے۔ اضلاع اور قصبوں میں جو اتحاد بن رہے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایم سی انتخابات میں بی جے پی بھی اکیلے ہی اترنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ میونسپل انتخابات میں جیت کو یقینی بنانے کے لیے نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔بی جے پی، اجیت پوار کی این سی پی اور شرد پوار کی پارٹی نے اپنے ضلعی لیڈروں کو مقامی سطح پر اتحاد بنانے کی آزادی دی ہے۔ جبکہ شیو سینا نے اس کا کھلے عام اعلان نہیں کیا ہے، لیکن اس نے انہیں کھلا ہاتھ بھی دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں کئی جگہوں پر این سی پی اور شندے سینا بی جے پی کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکمران اتحاد میں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے متعلق تنازعہ بی ایم سی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔مہا وکاس اگھاڑی کا بحران اور بھی گہرا ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، اپنے بھائی راج ٹھاکرے کے ساتھ، ’مراٹھی مانوس‘ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ کانگریس ایم این ایس سے قربت کی وجہ سے پہلے ہی اتحاد چھوڑ چکی ہے۔ کانگریس کا یہ فیصلہ اہم ہے کیونکہ ایم این ایس ہندی مخالف اور شمالی ہند مخالف ہونے کی شہرت رکھتی ہے۔ اس کا ذکر گذشتہ دنوں ہونے والی ایک پریس میٹنگ میں سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر و ممبئی صدر و ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے بھی کیا تھا۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو بلدیاتی انتخابات بی جے پی کے مقابلے دیگر تمام پارٹیوں کے ہو جائیں گے، ہر پارٹی الگ الگ الیکشن لڑے گی۔



