مہاراشٹراردو اکادمی کی نئی قیادت کے اعزاز میں ممبئی میں مؤثر و معنی خیز مشاورتی نشست؛ کارگذار صدر کے عہدے پر بیڑ کے جناب حسین اخترصاحب کا کیا گیا استقبال

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) : 19 نومبر: مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے نئے کارگزار صدر جناب سید حسین اختر کے اعزاز میں خلافت ہاؤس بائیکلہ میں منعقدہ تہنیتی و مشاورتی نشست نے علمی و ادبی حلقوں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا کی۔ شہر کی اہم ادبی، سماجی اور تعلیمی شخصیات کی بھرپور شرکت نے اسے ایک ہمہ جہت مشاورتی اجلاس کی حیثیت عطا کی۔
نشست کا آغاز اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان کے جامع تعارفی خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے سید حسین اختر کی علمی، ادبی اور خصوصاً بیڑ شہر میں ان کی اردو خدمات کا تفصیلی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ان کی کوششوں سے بیڑ میں شہر بھر میں اردو کی تختیاں نصب ہوئیں اور وہاں اردو ماحول مضبوط ہوا۔ فرید احمد خان نے امید ظاہر کی کہ حسین اختر پوری ریاست میں اردو کے فروغ کے لیے نئی توانائی کے ساتھ کام کریں گے۔
سابق کارگزار صدر خورشید صدیقی نے صدارت کرتے ہوئے اپنے وسیع تجربات کی روشنی میں نہایت اہم تجاویز پیش کیں۔ مشیر احمد انصاری نے بھی اپنی تجاویز تحریری شکل میں نئے کارگزار صدر کو پیش کیں۔
نشست میں مختلف مقررین نے اردو کے تعلیمی، تحقیقی اور ثقافتی فروغ کے حوالے سے متنوع نکات پیش کیے۔ ڈاکٹر علاء الدین، پروفیسر جمیل کامل، پروفیسر عالم ندوی، ایوب فریشی، شاہنواز تھانہ والا، سعید احمد خان، امتیاز خلیل، منور سلطانہ، یاسمین مقبول عالم، قمر ناز اور دیگر نمائندگان نے نوجوان نسل کی تربیت، نصابی سہولیات، ریاست گیر سطح پر اردو سکھات مراکز کے قیام اور اکیڈمی کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر آل انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین اور مدیر ’’ہندوستان‘‘ سرفراز آرزو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو اکیڈمی کو ریاستی سطح پر ایک مؤثر اور مضبوط ادارہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اردو اساتذہ کی تقرری اور بجٹ میں سنجیدہ اضافہ کیا جائے تاکہ زبان کا تعلیمی مستقبل محفوظ رہے۔
اختتامی خطاب میں سید حسین اختر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اکیڈمی تمام تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی تیار کرے گی۔ انہوں نے ممبئی کی ادبی تنظیموں سے مستقل رابطہ اور اشتراک برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ آخر میں ان کی گل پوشی کی گئی اور میمینٹو پیش کیا گیا۔
اس نشست کے کامیاب انعقاد میں فرید احمد خان (اردو کارواں)، مشیر انصاری (اردو گگن سنستھا), شکیل انصاری (نیو فیوچر فاؤنڈیشن) اور سرفراز آرزو کا مرکزی کردار رہا۔ اس کے علاوہ ادارۂ ادب اسلامی، ہفت روزہ عوامی رائے، گل بوٹے، اردو مرکز، یارانِ اردو، لنترانی میڈیا ہاؤس سمیت متعدد تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
انجمن اسلام کے ٹرسٹیان شاہنواز تھانہ والا اور فواد پاٹکا، اور تعلیمی شخصیات پرنسپل سائرہ خان، ڈاکٹر خالد احمد، وسیم شیخ اور ظفر عباس،پروفیسر جمیل کامل نے بھی اپنی موجودگی سے اجلاس کو وقار بخشا۔ نشست باہمی احترام، سنجیدہ گفتگو اور عملی تجاویز کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔



