جلگاؤں: منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے پولیس افسران کی خصوصی تربیت؛ پیٹ-این ڈی پی ایس قانون کی دفعات اور تفتیشی طریقۂ کار پر تفصیلی رہنمائی
جلگاؤں: 11/ جون: (معین قاضی): ضلع میں بڑھتے ہوئے منشیات (نارکوٹکس) سے متعلق جرائم پر مؤثر قابو پانے اور پولیس افسران کو متعلقہ قوانین سے باخبر رکھنے کے مقصد سے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دفتر، جلگاؤں میں ایک خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں سے خصوصی تربیت حاصل کرنے والے ضلع دھولیہ کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر (اے پی آئی) نلیش مورے نے افسران کو تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔
ورکشاپ کے دوران منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری قانونی نکات، تفتیشی طریقۂ کار، شواہد جمع کرنے کے اصول اور عدالتی کارروائی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ خصوصاً پیٹ-این ڈی پی ایس ایکٹ 1988 (منشیات اور نفسیاتی اثر رکھنے والے مادّوں کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کا قانون) کی مختلف دفعات اور اس کے مؤثر استعمال کے بارے میں افسران کو آگاہ کیا گیا۔
ماہرین نے بتایا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد منشیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام اور معاشرے کو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ قانون کے تحت ایسے افراد کو، جن کے مستقبل میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کا خدشہ ہو، احتیاطی حراست میں رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ قانون جرم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد سزا دینے کے بجائے ممکنہ جرائم کی روک تھام کے لیے ایک احتیاطی اقدام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ورکشاپ میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور مجاز افسران کو حاصل احتیاطی نظر بندی کے اختیارات، نظر بندی کی مدت، مشاورتی بورڈ کے کردار اور این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 اور پیٹ-این ڈی پی ایس ایکٹ 1988 کے درمیان موجود بنیادی فرق کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
اس موقع پر مختلف عدالتی فیصلوں اور مثالوں کی روشنی میں افسران کو بتایا گیا کہ منشیات سے متعلق مقدمات کی تفتیش کو کس طرح مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور ملزمان کو قانونی سقم کی بنیاد پر عدالتوں سے آسانی سے ریلیف نہ ملے، اس کے لیے کن احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے۔
شرکاء نے امید ظاہر کی کہ اس تربیتی پروگرام سے پولیس افسران کو قانون کی باریکیوں سے بہتر آگاہی حاصل ہوگی، جس کے نتیجے میں مستقبل میں منشیات کے خلاف تفتیشی اور احتیاطی کارروائیاں مزید مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔




