دبستانِ اردو مالیگاؤں میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے کارگزار چیئرمین سید حسین اختر کی آمد، انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست میں شرکت ،اردو اکیڈمی کے انعام یافتگان میں اسناد کی تقسیم

مالیگاؤں: (خیال اثر) :اردو زبان و ادب کی تاریخ میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والے دبستانِ اردو مالیگاؤں نے کل ایک اہم ادبی لمحے کا مشاہدہ کیا جب مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کے کارگزار چیئرمین سید حسین اختر نے اس تاریخی شہر کا دورہ کیا۔ یہ محض ایک سرکاری عہدیدار کا دورہ نہیں تھا بلکہ اردو کے ایک عاشق، ادب کے قدردان اور قلمکاروں کے قدر شناس شخص کی آمد تھی، جس نے مالیگاؤں کے ادبی ماحول کو نئی توانائی عطا کردی۔ گہوارۂ اردو کہلانے والے مالیگاؤں میں سید حسین اختر کی آمد پر اہلِ ادب، شعرا، افسانہ نگاروں، اساتذہ اور صحافتی حلقوں نے جس محبت اور خلوص کے ساتھ ان کا استقبال کیا، وہ اس شہر کی زندہ ادبی روایت کا آئینہ دار تھا۔ یہاں کی گلیوں میں بکھری ہوئی اردو کی خوشبو، اہلِ قلم کی محنت اور زبان و ادب سے بے لوث وابستگی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ مالیگاؤں صرف ایک شہر نہیں بلکہ اردو تہذیب و ثقافت کا ایک روشن باب ہے۔ سید حسین اختر نے اپنے دورۂ مالیگاؤں کے دوران شہر کی نمائندہ ادبی و سماجی شخصیات سے ملاقات کی اور انجمن محبانِ ادب کی جانب سے منعقدہ افسانوی نشست میں خصوصی شرکت فرمائی۔ اس یادگار موقع پر اردو اکیڈمی کے انعام یافتہ قلمکاروں کو ان کے دستِ مبارک سے اسناد بھی تقسیم کی گئیں، جو اہلِ قلم کے لیے باعثِ افتخار اور حوصلہ افزائی کا سبب بنیں۔اعزاز حاصل کرنے والوں میں شہر کے معروف شاعر، ادیب اور نقاد محترم سلیم شہزاد کے علاوہ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے سال 2023 کے لیے منتخب تخلیقات "مہکتے پھول” از شکیل مصطفیٰ، "حرفِ گم شدہ” از ندا فاروقی (عمر فاروق عبداللطیف)، "آزادی کا امرت مہوتسو اور اردو” از اسماعیل وفا شامل ہیں، جبکہ سال 2024 کے لیے "بچے تارے ہمارے” از فریدہ نثار احمد انصاری، "یہ شہرِ حسیں اپنا” از خیال اثر (رفیق احمد)، "تبسم ہی تبسم” از ظہیر قدسی، "گل افشانیاں” از ڈاکٹر مبین نذیر اور "ریگِ ایام” از عثمان غنی اسکس کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید حسین اختر نے مالیگاؤں کی ادبی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں واقعی اردو کا ایک ایسا مرکز ہے جہاں ادب سانس لیتا ہے اور قلمکار پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی طرح شاعری، افسانہ نگاری، ادب یا صحافت سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ مالیگاؤں جیسے شہر اردو زبان کی بقا اور ترقی کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں سے ان کا تعلق پرانا ہے، لیکن اردو اکیڈمی کی ذمہ داری ملنے کے بعد یہ پہلا دورہ ہے، جو ان کے لیے انتہائی خوش آئند اور یادگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی محبت، خلوص اور ادب سے وابستگی نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے اور مالیگاؤں کی یہ محبت وہ کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔اردو اکیڈمی کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے سید حسین اختر نے کہا کہ اردو کے فروغ، ادبی سرگرمیوں کے استحکام اور قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی کے دفتر کی تعمیر و تزئین کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کو بھی اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ اردو کے فروغ کا سفر مزید مضبوط ہو سکے۔
انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست بھی اپنی ادبی اہمیت کے اعتبار سے یادگار رہی، جہاں افسانے، تخلیقی اظہار اور اردو ادب کے موجودہ منظرنامے پر گفتگو ہوئی۔ اہلِ محفل نے محسوس کیا کہ ایسے پروگرام نہ صرف ادب کو زندہ رکھتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اردو کی خوبصورت روایت سے جوڑنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
سید حسین اختر کی مالیگاؤں آمد پر تہذیب ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر شاکر شیخ، معروف افسانہ نگار و معلم عمران جمیل سر، پروفیسر مبین نذیر، ڈاکٹر اقبال برقی سر، طاہر انجم صدیقی، صدر انجمن محبانِ ادب ہارون اختر، صابر گوہر، عزیز اعجاز سر، محی الدین سر (ای ٹی وی اردو)خیال اثر، وسیم رضا خان سمیت شہر کی متعدد ادبی و سماجی شخصیات نے پرتپاک استقبال کیا۔ سید حسین اختر کا یہ دورہ دبستانِ اردو مالیگاؤں کے لیے ایک یادگار باب بن گیا۔ اس موقع نے نہ صرف اہلِ قلم کے حوصلوں کو بلند کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والے ہاتھوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مالیگاؤں کی ادبی فضا میں اس دورے کی خوشبو دیر تک محسوس کی جاتی رہے گی۔




