ریاست میں اقلیتی طلبہ کے داخلے کے لیے انفرادی اقلیتی سرٹیفکیٹ لازمی نہیں: حکومتِ مہاراشٹر کی وضاحت؛ کسی بھی اہل طالب علم کو صرف سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی بنیاد پر داخلے سے محروم نہ رکھا جائے: ساجد نثار احمد

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) : حکومتِ مہاراشٹر کے محکمہ اقلیتی ترقی نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ریاست کی کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلے کے وقت اقلیتی طلبہ سے انفرادی اقلیتی سرٹیفکیٹ یا اقلیتی سند کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ11138 کے بانی ساجد نثار احمد نے کہا کہ اس اقدام سے ہزاروں اقلیتی طلبہ کو بلاوجہ پیش آنے والی دشواریاں ختم ہوں گی اور انہیں بروقت داخلہ مل سکے گا۔ساجد نثار احمد نے کہا کہ حکومتِ مہاراشٹر نے مسلم، عیسائی، سکھ، بودھ،پارسی,جین برادریوں کو اقلیتی طبقہ قرار دیا ہے۔ حکومت کی موجودہ پالیسی کے مطابق ان برادریوں کے افراد کو الگ سے کوئی انفرادی اقلیتی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جاتا۔ اس کے باوجود بعض تعلیمی ادارے ایسے سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کر رہے تھے، جس کی وجہ سے طلبہ اور سرپرستوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ یکم جولائی 2013 کے حکومتی فیصلے کے مطابق اسکول چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ (LC)، داخلہ رجسٹر یا اسکول کے ریکارڈ میں درج مذہب یا مادری زبان، متعلقہ مذہبی رہنما یا رجسٹرڈ ادارے کی جانب سے جاری کردہ تصدیقی سند، یا والدین کا حلف نامہ (Affidavit) اقلیتی ہونے کے معتبر ثبوت کے طور پر قابلِ قبول ہیں۔ لہٰذا کسی بھی اہل طالب علم کو صرف انفرادی اقلیتی سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی بنیاد پر داخلے سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ساجد نثار احمد نے تمام سرکاری، امداد یافتہ اور غیر امداد یافتہ تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ان واضح احکامات پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی طالب علم یا اس کے سرپرست سے اب بھی غیر ضروری طور پر انفرادی اقلیتی سرٹیفکیٹ طلب کیا جاتا ہے تو وہ متعلقہ تعلیمی حکام سے فوری شکایت کریں تاکہ طلبہ کے تعلیمی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ اقلیتی ترقی کی سیکریٹری ڈاکٹر مادھوی کھوڑے چاورے نے بھی متعلقہ تعلیمی ڈائریکٹوریٹس کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی اہل اقلیتی طالب علم کو صرف سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی کی بنیاد پر داخلے سے محروم نہ رکھا جائے اور حکومت کے جاری کردہ رہنما اصولوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے.





