بالاپور کے سابق فضائیہ افسر نے مہاراشٹر مذہبی آزادی قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا; بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا دعویٰ، ناگپور بنچ میں سماعت متوقع

بالاپور : بالاپور کے رہائشی اور بھارتی فضائیہ کے سابق افسر محمد قیصر فاروق نے حکومتِ مہاراشٹر کے نافذ کردہ مہاراشٹر مذہبی آزادی ایکٹ 2026 کی آئینی حیثیت کو بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں چیلنج کیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے بمبئی ہائی کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ معین عمران خان مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ قانون ہندوستانی آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی جیسے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ درخواست گزار کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کے لیے سرکاری اطلاع، انتظامی جانچ اور عوامی اعتراضات کی شرط فرد کی ذاتی آزادی میں غیر ضروری مداخلت ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2026 میں مہاراشٹر اسمبلی اور قانون ساز کونسل سے منظور ہونے والے اس قانون کا مقصد زبردستی، دھوکہ دہی، لالچ یا دباؤ کے ذریعے ہونے والی مذہب کی تبدیلی کو روکنا بتایا گیا ہے۔ قانون کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کا خواہش مند شخص 60 دن پہلے ضلع کلکٹر کو تحریری اطلاع دے گا، جسے عوامی طور پر ظاہر کیا جائے گا اور موصول ہونے والے اعتراضات کی جانچ کی جائے گی۔
قانون میں یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ مذہب کی تبدیلی کے 21 دن کے اندر متعلقہ شخص کو ضلع کلکٹر کے سامنے اعلامیہ جمع کرانا ہوگا۔ اس کے علاوہ زبردستی، دھوکہ، لالچ، غلط بیانی یا صرف شادی کی بنیاد پر ہونے والی مذہب کی تبدیلی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے لیے قید اور جرمانے کی دفعات موجود ہیں۔
درخواست میں آئینِ ہند کے آرٹیکل 14، 21 اور 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قانون شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے، اس لیے اس کی آئینی جانچ ضروری ہے۔
فی الحال یہ معاملہ بمبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں زیرِ سماعت ہے۔ عدالت آئندہ سماعت میں دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد مناسب قانونی کارروائی اور فیصلہ کرے گی۔




