خشک سالی کی سنگین صورتحال، کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے فوری مالی امداد دی جائے؛بارش کی طویل قلت سے خریف کی فصلیں تباہی کے دہانے پر؛ مبینہ نقلی بیج سے 1211 ہیکٹر رقبہ متاثر ہونے کا دعویٰ؛آزاد فاؤنڈیشن کی کسان ایکشن کمیٹی کا وزیرِ اعلیٰ کے نام تحصیلدار کے توسط سے محضر

بالاپور: (ذاکراحمد) :بارش کی مسلسل قلت، خریف کی فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات اور مبینہ نقلی بیجوں کی فراہمی کے سبب ضلع اکولہ کے کسان شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔ کسانوں کے ان مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے آزاد فاؤنڈیشن اکولہ کے زیرِ اہتمام کسان ایکشن کمیٹی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ مہاراشٹر دیویندر فڑنویس کے نام تحصیلدار بالاپور کے توسط سے محضر پیش کیا گیا۔ محضر میں ضلع اکولہ میں فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کرنے اور متاثرہ کسانوں کو فی الفور مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کسان ایکشن کمیٹی کے مطابق ضلع میں بارش کی غیر مساوی تقسیم کے باعث زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔ محضر میں بتایا گیا ہے کہ ماہِ اگست کے دوران اکولہ تعلقہ میں صرف 16 فیصد، بالاپور میں 16 فیصد، اکوٹ میں 16 فیصد، تیلہارا میں 18 فیصد جبکہ مرتضیٰ پور میں 21 فیصد بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماہِ ستمبر میں بھی خاطر خواہ بارش نہ ہونے کے سبب کسانوں کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
45 روز تک بارش کا طویل وقفہ، فصلوں پر تباہی کا سایہ
کسانوں کا کہنا ہے کہ بارش میں تاخیر کے باعث بوائی کا عمل متاثر ہوا اور تقریباً 45 روز تک بارش نہ ہونے سے کھیتوں میں کھڑی فصلیں پانی کی شدید قلت کا شکار ہوگئیں۔ قدرتی آفت کی اس صورتحال میں کسانوں کے سامنے فصلوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ آئندہ زرعی موسم کی تیاری کا بھی بڑا سوال کھڑا ہوگیا ہے۔
مبینہ نقلی بیج نے بڑھائی کسانوں کی پریشانی
محضر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ معروف کمپنیوں کے نام پر مبینہ طور پر نقلی یا ناقص بیج فراہم کیے جانے کے باعث ضلع میں تقریباً 1211 ہیکٹر زرعی رقبہ متاثر ہوا ہے۔ کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس صورتحال سے 10 ہزار سے زائد کسان دوبارہ بوائی کے خطرے سے دوچار ہیں۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ نقلی بیج فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ کسانوں کو ان کے نقصان کا مناسب معاوضہ دیا جائے۔
قرض معافی اور فصل بیمہ اسکیم میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ
کسان ایکشن کمیٹی نے حکومت کی قرض معافی اسکیم کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ محضر میں کہا گیا ہے کہ سابقہ قرض معافی اسکیموں سے محروم رہنے والے کئی کسان مختلف تکنیکی وجوہات کی بنا پر نئی اسکیم کے فوائد سے بھی محروم ہیں۔ ایسے تمام مستحق کسانوں کے معاملات کی فوری یکسوئی کرتے ہوئے انہیں قرض معافی کا فائدہ دیا جائے۔
اسی طرح وزیرِ اعظم فصل بیمہ اسکیم میں کسانوں کو درپیش تکنیکی دشواریوں کو فوری طور پر دور کرتے ہوئے مستحق کسانوں کو مکمل بیمہ تحفظ اور فصلوں کے نقصانات کا معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کسان ایکشن کمیٹی کے چار اہم مطالبات
▪ فی ایکڑ 50 ہزار روپے فوری مالی امداد دی جائے۔
▪ ضلع اکولہ میں فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کیا جائے۔
▪ قرض معافی سے محروم کسانوں کو فوری طور پر اسکیم میں شامل کیا جائے۔
▪ مبینہ نقلی بیج فراہم کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرکے کسانوں کے نقصانات کی پابجائی کی جائے۔
▪ آئندہ ربیع موسم کے لیے مفت بیج فراہم کرنے کے سلسلے میں فوری اقدامات کیے جائیں۔
▪ وزیرِ اعظم فصل بیمہ اسکیم میں شامل کسانوں کو 100 فیصد بیمہ تحفظ فراہم کیا جائے۔
کسان ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کے ان مطالبات پر محض کاغذی کارروائی نہ کی جائے بلکہ فوری طور پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ کمیٹی نے انتباہ دیا ہے کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کسانوں کو راحت فراہم نہ کی گئی تو ضلع اکولہ کے کسان متحد ہوکر وسیع پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
محضر پیش کرتے وقت کسان گوپال امباداس پوہرے، زبیر احمد، امول مالی، وجے سنگھ ٹھاکر، مشیرالحق، عبدالشیہباز، سمدھان سُلکر، ابھیشیک سُلکر، سُہاس پرگھرکر، سُہاس پرہرموڑ، دگڑو پرہرموڑ سمیت متعدد کسان نمائندگان موجود تھے۔




