مہاراشٹر

اقلیتی اسکالرشپ کے نام پر طلباء کا مالی استحصال ؛ ایک ہزار کی اسکالرشپ کے لئے دو تا تین سو روپئے کا خرچ ؛ غریب سرپرست پریشان

جالنہ:(مرزا زبیر بیگ):اقلیتی اسکالرشپ اسکیم سال 2006 میں شروع کی گئی تھی۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے اس پروگرام کا اعلان جون 2006 میں اقلیتی امور کی وزارت کے تحت کیا گیا تاکہ اقلیتوں سے متعلقہ معاملات پر زیادہ توجہ دی جائے
آج والدین کو اقلیتی اسکالرشپ کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔ پچھلے سال سے ، لاک ڈاؤن میں مبتلا والدین کو اسکالرشپ کے نام پر لوٹا جارہا ہے ، 10 روپے فارم کی فیس 150 روپے سے 200 روپے وصول کی جا رہی ہے۔ 1000 روپے کا وظیفہ حاصل کرنے کے لیے ،اور یہ بھی یقینی طور پر متعین نہیں ہے کہ 1000 روپیہ ملے گے. خاص طور پر جالنہ کے اردو میڈیم اسکول میں ، اسکالرشپ کی دکان قائم کی گئی ہے۔ جہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ اپنے ہی اسکول میں آکر اسکالرشپ کا فارم بھریں۔ اب اگر ہم اسکالرشپ کی ویب سائٹ پر گائیڈ لائن پڑھتے ہیں ، تو یہ حروف تہجی میں واضح طور پر لکھا ہے کہ "اگر طالب علم کی اسکالرشپ کی رقم پچاس ہزار سے زیادہ ہے ، تو طلباء کے لیے انکم سرٹیفکیٹ اپ لوڈ کرنا لازمی ہے ، بصورت دیگر نہیں ” . سوچئے کہ اگر ایک خاندان میں دو یا اس سے زیادہ بچے ہیں ، ان والدین کو کیا کرنا چاہیے ، مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ فارم بھرنے کے بعد تمام طلباء کو اسکالرشپ دستیاب نہیں ، پھر بھی اسکالرشپ کے نام پر لوٹ مار رکنے کا نام نہیں لے رہا. انتظامیہ ، سماجی اداروں ، سماجی کارکنان کو اس طرف توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!