حضرت عائشہ:ؓ وہ واحد ہستی جن کی پاکیزگی کی گواہی خود قرآن نے دی; (۱۷ رمضان حضرت عائشہؓ کے وصال پر خصوصی مضمون)

ڈاکٹر شعیب قمرالدین ہاشمی
قرآن کریم میں کئی آیات ایسی ہیں جو براہ راست یا بالراست طور پر صحابہ یا صحابیات کی شان میں یا ان کی وجہ سے نازل ہوئی ہیں لیکن کلام اللہ میں صرف ایک ہی صحابی حضرت زیدؓ کے نام سے آیت نازل ہوئی ہے۔اسلامی تاریخ کی عظیم المرتبت شخصیات میں اگر کسی خاتون کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کی پاکیزگی اور عظمت کی گواہی خود قرآنِ مجید نے دی، تو وہ ہستی اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ قرآن کریم میں اگرچہ آپؓ کا نام صراحتاً مذکور نہیں، لیکن متعدد آیاتِ مبارکہ براہِ راست آپؓ کی حیاتِ طیبہ سے متعلق ہیں۔ ان میں بالخصوص سورۃ النور، سورۃ النساء اور سورۃ التحریم شامل ہیںجن کا تعلق تین بنیادی واقعات سے ہے۔۱۔ واقعۂ افک (سورۃ النور)۲۔ تیمم کی رخصت (سورۃ النساء:۴۳)۳۔ واقعۂ تحریم (سورۃ التحریم:ایک تا۵)۔
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسلامی تاریخ کی اُن عظیم المرتبت شخصیات میں سے ہیں جن کی علمی، دینی اور اخلاقی خدمات کا اعتراف خود عہدِ نبویؐ میں کیا گیا۔ آپؓ نہ صرف رسول اکرم ﷺ کی زوجۂ مطہرہ تھیں بلکہ فقہ، حدیث، تفسیر اور دینی مسائل میں آپؓ کی آراء کو صحابۂ کرامؓ کے نزدیک بھی غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ عظیم المرتبت ہستی ہیں جن کی پاکیزگی، عظمت اور رفعتِ شان کی گواہی خود قرآنِ مجید نے دی ہے۔ آپؓ کی حیاتِ طیبہ علم، تقویٰ اور بصیرت کا حسین امتزاج تھی لیکن تاریخِ اسلام کا ایک نہایت اہم واقعہ ایسا بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف آپؓ کی برأت و پاکدامنی کا اعلان فرمایا بلکہ قیامت تک کے لیے آپؓ کی عظمت کو قرآن کا حصہ بنا دیا۔یہ معاملہ ’واقعۂ افک ‘کے نام سے معروف ہے جس کے پس منظر میں سورۂ نور کی متعدد آیات نازل ہوئیں۔
واقعۂ افک ایک سخت ترین آزمائش بھی اور امت کیلئے رہنمائی بھی( سورۃ النور آیت نمبر11تا26)
اسلامی تاریخ کا ایک نہایت دردناک مگر سبق آموز واقعہ ’’واقعۂ افک‘‘ ہے۔۵ ہجری میں غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی پر پیش آنے والے اس واقعہ میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبی بن سلول نے ماںحضرت عائشہؓ پر تہمت اور بہتان کا طوفان کھڑا کیا۔جب یہ من گھڑت خبر مدینہ میں پھیل گئی تو ایک ماہ تک رسول اللہ ﷺ کے گھر میں اضطراب کی کیفیت رہی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نازک مرحلے پر سورۃ النور کی آیات (11 تا 26) نازل فرما کر حضرت عائشہؓ کی مکمل برأت کا اعلان کیا۔آیات قرآنی کے شان نزول اورتفسیر ابن کثیر میں اس واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے۔
امام زہری سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب بھی کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈال لیتے جس کے نام کا قرعہ نکل آتا وہ آپ ﷺکے ساتھ جاتیں۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ ایک غزوہ کی طرف روانگی پر آپﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا تو میرے نام کا قرعہ نکل آیا پس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں روانہ ہوگئی ۔ یہ پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔ چنانچہ میں اپنے ہودج میں اونٹ پر سوار کر دی جاتی اور جہاں رکنا ہوتا وہاں اتار دی جاتی یہاں تک کہ رسول اللہ اپنے غزوہ سے فارغ ہوئے اور واپسی کا ارادہ فرمایا ۔ ہم مدینہ کے قریب تھے کہ ایک رات آپﷺ نے کوچ کرنے کا حکم فرمایا جب انہوں نے کوچ کا اعلان کیا تو میں ( حاجت کے ارادے سے ) چلی اور لشکر سے آگے نکل گئی۔ جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی اور واپس سواری کی طرف بڑھی تو میں نے اپنے سینے کوٹٹولا تو میرا منکوں کا ہار غائب تھا میں واپس آئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی اور اس کی تلاش میں رک گئی۔
کجاوہ کسنے والوں نے میرے ہو دج کو اٹھایا اور اُسے اونٹ پر باندھ دیا جس پر میں سوار تھی وہ یہی گمان کرتے رہے کہ میں اس میں موجود ہوں۔ عورتیں ان دنوں نازک اندام ہوا کرتی تھیں موٹی اور پر گوشت نہ ہوتی تھیں اور بہت کم کھانا کھا تی تھیں لہذا ان لوگوں نے ہودج کو اٹھاتے اور باندھتے وقت اس کے وزن کی کمی کو محسوس نہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ میری عمر بھی ابھی کم تھی۔ پس انہوں نے اونٹوں کو کھڑا کیا اور چل پڑے اور مجھے وہ ہار لشکر کے گزرنے کے بعد ملا چنانچہ میں ان کے پڑاؤ کی جگہ آئی تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ پکار سننے والا لہٰذا میں اس جگہ چلی گئی جہاں میں ( دوران پڑاؤ ) موجود تھی۔ میں نے سوچا کہ لوگ جب مجھے گم پائیں گے تو واپس میری تلاش میں نکلیں گے۔ اس دوران میں بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھے نیند آگئی اور میں سوگئی۔ صفوان بن معطل سلمی ذکوانی جو لشکر سے پیچھے رک گئے تھے رات کے آخری حصہ میں وہاں سے چلے اور صبح میری جگہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی انسان سو رہا ہے چنانچہ میرے پاس آئے جب مجھے دیکھا تو فوراً پہچان گئے کیونکہ انہوں نے پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ جب انہوں نے مجھے دیکھا تو اناللہ پڑھی جس سے میں بیدار ہوگئی اور میں نے اپنے چہرے کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم انہوں نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ ہی میں نے سوائے انا للہ کے کوئی کلمہ ان کی زبان سے سنا۔ انہوں نے اپنے اونٹ کو بٹھا کر اس کے اگلے پاؤں کو دبایا تو میں سوار ہوگئی پھر یہ مجھے سوار کر کے آگے آگے چلے یہاں تک کہ ہم ان کے پڑاؤ ڈالنےکے بعد ٹھیک دو پہر کے وقت لشکر میں پہنچ گئے ۔ (اس کے بعد جو افتر اپردازی کی گئی سوئی گئی ) اور جو ہلاک ہوا سو ہوا ۔اور جس نے سب سے بڑا حصہ لیا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔
جب ہم مدینہ پہنچے تو میں واپسی کے بعد مہینہ بھر بیمار رہی لوگ میرے بارے میں تذکرے کرتے تھے لیکن مجھے اس کے متعلق کچھ خبر نہ تھی البتہ مجھے اس بات سے کچھ شبہ ہوتا تھا کہ میں تکلیف میں جو آپ ﷺکا لطف و کرم دیکھا کرتی تھی وہ اب نظر نہیں آتا ۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آکر سلام کرتے اور بس اتنا فرماتے کیسی ہو۔ یہ بات مجھے بہت غمگین کرتی لیکن مجھے اس شر کے متعلق خبر نہ تھی یہاں تک کہ میں مرض سے ٹھیک ہونے کے بعد ام مسطح کے ساتھ قضائے حاجت کے لئے نکلی۔حاجت سے فراغت کے بعد واپس آرہے تھے کہ ام مسطح کا پاؤں چادر میں اڑ کر لڑکھڑا گیا تو اس نے کہا مسطح ہلاک ہو۔ میں نے اس سے کہا تو نے بہت بڑی بات کہی کیا ایسے شخص کو برا کہتی ہو جو بدر میں حاضر ہوا ہو۔ اس نے کہا کیا تجھے معلوم نہیں وہ کیا کہتا ہے؟ میں نے پوچھا کیا کہتا ہے؟ تو اس نے مجھے اہل افک کے بارے میں ساری بات سنائی اس سے میرا مرض اور زیادہ بڑھ گیا۔ جب میں گھر واپس آئی تو میرے پاس رسول اللہﷺ تشریف لائے اور فرمایا کیسی ہو۔ میں نے کہا آپ ﷺ مجھے میرے والدین کے پاس جانے کی اجازت مرحمت فرما دیں۔ آپ کہتی ہیں میرا ارادہ تھا کہ میں ان سے صحیح اور یقینی صورتحال معلوم کروں۔ آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی اور میں اپنے والدین کے پاس آگئی میں نے اپنی والدہ سے پوچھا اے امی جان یہ لوگ کیا بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا اے بٹیا اپنے اوپر بوجھ نہ ڈال اللہ کی قسم بہت کم کوئی سوکنوں والی خوبصورت عورت آدمی کے پاس (اطمینان وسکون سے ) رہتی ہے کہ اس کی سوکنیں اس پر باتیں نہ بنائیں۔ میں نے کہا سبحان اللہ ( بڑے تعجب کی بات ہے ) لوگ تو ( میرے بارے میں ) یہ، یہ بات کر رہے ہیں۔ آپ کہتی ہیں پھر میں تمام رات صبح تک روتی رہی کہ میرے آنسو بالکل نہ رکھتے تھے اور نہ ہی میں سوئی ۔ پھر صبح بھی روتی رہی۔
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں پورا دن روتی رہی میرے آنسو خشک نہ ہوتے تھے اور نہ میں سوتی تھی۔ میرے والدین خیال کرتے تھے کہ اس قدر رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا۔ اس دوران کہ وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں مسلسل رو رہی تھی کہ انصار کی ایک عورت نے مجھ سے ملاقات کی اجازت چاہی میں نے اسے اجازت دے دی وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ اسی دوران اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور (میرے پاس) بیٹھ گئے اور اس شرانگیز گفتگو کےکہے جانے سے اب تک آپ ﷺ میرے پاس نہ بیٹھتے تھے اور ایک ماہ اسی طرح گزر گیا کہ میرے بارے میں آپ ﷺ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی۔ جب آپ ﷺ بیٹھے تو خطبہ پڑھا پھر فرمایا عائشہ مجھے تمہارے بار ے میں یہ بات پہنچی ہے اگر تم اس سے بری ہو تو ضرور اللہ تم ہمیں بری فرمادے گا اور اگر تم نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس سے توبہ کرو کیوں کہ جب بندہ گناہ کا اعتراف کرتاہے تو اللہ گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے اور توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرفرمالیتے ہیں( اوراسے معاف فرمادیتے ہیں)۔
آپؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول الله ﷺ نےابھی بات مکمل نہیں فرمائی کہ میرے آنسوخشک ہوگئے یہاں تک کہ میں نے اپنے چہرے پر ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد محترم سےکہاآپ ؓ میری طرف سےرسول اللہ کو ان کی بات کا جواب دیں۔ انہوں نےکہا میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو کیا جواب دوں۔ میں اس وقت (بھولی بھالی) نو عمر لڑکی تھی۔ میں نے بہت زیادہ قرآن نہیں پڑھا ہوا تھا میں نے کہا اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ آپ لوگوں نے یہ بات سنی اور آپ کے دلوں میں پختہ ہوگئی اور آپ نے اس کو سچا جانا۔ اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو آپ اس کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس کام کا اعتراف کرلوں حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ میری تصدیق کر دیں گے اللہ کی قسم میں اپنی اور آپ لوگوں کی مثال سوائے اس کے جو ابو یوسف ( حضرت یعقوب علیہ السلام) نے کہا اور کچھ نہیں پاتی۔’اچھا صبر ( کہ وہی) خوب ہے اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔‘
آپؓ کہتی ہیں کہ پھر میں جا کر اپنے بستر پر لیٹ گئی اور اللہ کی قسم میں اس وقت جانتی تھی کہ میں بری ہوں اور اللہ تعالی میری برأت ظاہر فرمائے گا لیکن مجھے یہ قطعاً گمان نہ تھا کہ میرے بارے میں وحی نازل ہوگی جو ( تا قیامت ) پڑھی جائے گی اور میری شان میرے ہاں اس سے بہت حقیر تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں وحی نازل فرمائے جس کی تلاوت کی جائے ۔ ہاں البتہ میں یہ امید رکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کوئی خواب دکھائی دے گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ میری براءت ظاہر فرمادے گا۔ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ نے ابھی اپنے گھر واپسی کا قصد بھی نہ کیا اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺپر وحی نازل فرمادی اور آپﷺ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی جو وحی کے وقت طاری ہوتی کہ آپ ﷺپسینے میں شرابور ہو جاتے حتی کہ سردی کے دن بھی آپ ﷺسے وحی کے ثقل کے باعث موتیوں کی طرح پسینے کے قطرے ٹپکتے ۔ جب رسول اللہ ﷺسے وحی کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ مسکرائے اور آپ ﷺ کی زبان مبارک سے جو پہلا کلمہ نکلا وہ یہ تھا’خوشخبری ہواے عائشہ اللہ کی قسم اللہ نے تیری برأت ظاہر کر دی۔ ‘میری والدہ نے مجھ سے کہا حضورﷺکی طرف کھڑی ہو۔ میں نے کہا میں ان کے سامنے نہیں کھڑی ہوں گی اور نہ ہی ان کی تعریف بیان کروں گی بلکہ اللہ ہی کی ذات کی حمد بیان کروں گی جس نے میری برأت بیان فرمائی ۔
( جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ہے تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو ، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سر انجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے۔جب تم نے اسے سنا تھا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے دلوں میں اپنے (بھائی بندوں) کے لیے اچھا گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ تو صریح بہتان ہے؟انہیں چاہیے تھا کہ اس پر چار گواہ لاتے، پھر جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو اس بات میں جس میں تم پڑ گئے تھے تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔جب تم اپنی زبانوں سے اسے نقل در نقل بیان کرنے لگے اور اپنی زبانوں سے وہ بات کہنے لگے جس کا تمہیں کچھ علم نہ تھا، اور تم اسے معمولی بات سمجھنے لگے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی (سنگین) بات تھی۔خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری تھی۔سورۃ النور آیت ۱۱ تا ۱۵)
حضرت عائشہؓ کی شان میں نازل سورۃ النور کی مذکورہ آیات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی عزت کی حفاظت خودفرماتا ہے۔ واقعۂ افک نے یہ اصول سکھایا کہ معاشرہ افواہوں سے نہیں، تحقیق اور انصاف سے چلتا ہے۔آج سوشل میڈیا کے دور میں جب کردار کشی چند لمحوں کا کھیل بن چکی ہے، ہمیں سورۃ النور کی ان آیات کو یاد رکھنا ہوگا۔ بغیر تحقیق کےخبر پھیلانا، کسی کی عزت پر انگلی اٹھانا اور بہتان تراشی کرنا قرآن کے واضح احکام کی خلاف ورزی ہے۔
تیمم کی رخصت حضرت عائشہؓ کی برکت (سورۃ النساءآیت نمبر43)
جس طرح غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی کے وقت حضرت عائشہؓ کا ہار گم ہوگیا تھا اسی طرح ایک اور سفر کے دوران حضرت عائشہ ؓکا ہار گم ہوگیا جس کی تلاش کیلئے قافلہ روک دیا گیا تھا اور پانی میسر نہ تھانماز کا وقت آیا تو صحابہ کرامؓ پریشان ہوئے۔یہی واقعہ مسلمانوں کیلئے رحمت و برکت کا فیصلہ ثابت ہوا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء ( اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھ مل لو ۔ بیشک اللہ تعالٰی معاف کرنے والا بخشنے والا ہے ۔آیت 43) میں تیمم کی اجازت عطا فرمائی۔یہ محض ایک واقعہ نہیں تھا بلکہ شریعتِ اسلامی میں آسانی اور سہولت کا اصول متعین ہوا۔ اس واقعہ کی تفصیل قرآن و حدیث کی روشنی میں اس طرح ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار واپس کر دینے کے وعدے پر مستعار لیا تھا وہ سفر میں کہیں گم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھونڈ نے کے لیے آدمی بھیجے انہیں ہار مل گیا لیکن نماز کا وقت اس کی تلاش میں ہی آ گیا اور ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ انہوں نے بے وضو نماز ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اس کی شکایت کی۔ اس پر تیمم کا حکم نازل ہوا۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ام المؤمنین ! آپ کو جزائے خیر دے اللہ کی قسم جو تکلیف آپ کو پہنچتی ہے اس کا انجام ہم مسلمانوں کے لیے خیر ہی خیر ہوتا ہے ۔(صحیح بخاری:336)
ٍبخاری میں ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم اپنے کسی سفر میں تھے بیداء میں یا ذات الجیش میں میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا جس کے ڈھونڈنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع قافلہ ٹھہر گئے۔ اب نہ تو ہمارے پاس پانی تھا ، نہ وہاں میدان میں کہیں پانی تھا ۔لوگ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میری شکایتیں کرنے لگے کہ دیکھو ہم ان کی وجہ سے کیسی مصیبت میں پڑ گئے ، چنانچہ میرے والد صاحب میرے پاس آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے تھے ، آتے ہی مجھے کہنے لگے ، تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو روک دیا اب نہ تو ان کے پاس پانی ہے ، نہ یہاں اور کہیں پانی نظر آتا ہے۔ الغرض مجھے خوب ڈانٹا ڈپٹا اور اللہ جانے کیا کیا کہا اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کچوکے بھی مارتے رہے ، لیکن میں نے ذرا سی بھی جنبش نہ کی کہ ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل واقع ہو ۔ ساری رات گزر گئی صبح کو لوگ جاگے لیکن پانی نہ تھا ، اللہ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی اور سب نے تیمم کیا۔
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوبکر کے گھرانے والو ! یہ کچھ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں، اب جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہی ہار مل گیا ۔مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ ذات الجیش سے گزرے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یمنی خر مہروں کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا تھا اور گم ہو گیا تھا اس کی تلاش میں یہاں ٹھہر گئے ساری رات آپ کے ہم سفر مسلمانوں نے اور آپ نے یہیں گزاری صبح اٹھے تو پانی بالکل نہیں تھا ، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر پاک مٹی سے تیمم کر کے پاکی حاصل کرنے کی رخصت کی آیت اتاری اور مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر زمین پر اپنے ہاتھ مارے اور جو مٹی ان سے لت پت ہوئی اسے جھاڑے بغیر اپنے چہرے پر اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور ہاتھوں کے نیچے سے بغل تک مل لی ۔ (سنن ابوداود:320) ابن جریر کی روایت میں ہے کہ اس سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر سخت غصہ ہو کر گئے تھے لیکن تیمم کی رخصت کے حکم کو سن کر خوشی خوشی اپنی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہنے لگے تم بڑی مبارک ہو مسلمانوں کو اتنی بڑی رخصت ملی۔ پھر مسلمانوں نے زمین پر ایک ضرب سے چہرے ملے اور دوسری ضرب سے کہنیوں اور بغلوں تک ہاتھ لے گئے ۔(ابن کثیر)
سورہ نور اور سورہ النسا کی ان آیات پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ دونوں سفر کے دوران حضرت عائشہؓ کے گلے کا ہار گم ہوگیاتھا۔ ایک مرتبہ خود حضرت عائشہؓ کو ہار مل گیا جبکہ دوسرے سفر میں ہار کو ڈھونڈنے کیلئے قافلہ روکنا پڑا تھا جس کی وجہ سے انہیں ان کے والد نے باتیں سنائی تھیں لیکن سفر میں اس تاخیر کی وجہ سے مسلمانوں کو تیمم جیسی سہولت اللہ نے عطا فرمائی۔
گھریلو معاملات کی اصلاح (سورۃ التحریم: آیات 1 تا 5)
ازواجِ مطہرات کی زندگی بھی انسانی جذبات سے خالی نہ تھی۔ ایک گھریلو واقعہ کے پس منظر میں سورۃ التحریم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں اصلاح، توازن اور گھریلو نظام کی نزاکتوں کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ ان آیات میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کا ذکر آتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ گھر کا ماحول بھی وحی کی روشنی میں سنور سکتا ہے،حسد یا جذبات اگر ہوں بھی تو اصلاح ممکن ہےاورنبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کا مقام امت کی ماؤں کا ہے۔
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں : بعض تو کہتے ہیں یہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ ؓ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ (سنن نسائی:3411،قال الشیخ البانی:صحیح)
صحیح بخاری میں ہے کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ ! آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا ۔ چنانچہ ہم نے یہی کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہوں کہ نہ پیوں گا یہ کسی سے کہنا مت “ ۔ (صحیح بخاری:4912)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا آپس میں خفیہ مشورہ صحیح بخاری کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان الفاظ میں مروی ہے کہ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا ، عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی ، تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کی انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا ، میں نے کہا : خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی ۔ چنانچہ میں نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس جب آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے نہیں ، تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے ، مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا ، میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی ، پھر اے صفیہ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا ۔ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے ، ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا ہے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی ، لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ، میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا ، پھر صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا ، پھر جب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے شہد کا شربت پلانا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس کی حاجت نہیں “ ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا میں نے کہا خاموش رہو ۔‘‘ (صحیح بخاری: 5268)
مولانا سید سلیمان ندوی اپنے کتاب سیرت عائشہؓ میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ عام انسانوں کا واقعہ ہوتا تو یہ کوئی ایسی بات نہ تھی ، لیکن یہ ایک شارع اعظم کا فعل تھا، جس کی ایک ایک بات پر بڑ بڑے بڑے قانور ڑے قانون کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔ اس لیے خدائے پاک نے اس پر عتاب فرمایا اور سورہ تحریم کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔(1 اے نبی! آپ کیوں ایسی چیز کو حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟ آپ اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہیں، اور اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ (2) اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کا کفارہ دینا (واجب) کر دیا ہے، اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے، اور وہی علم و حکمت والا ہے۔(3) اور جب نبی نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کی، پھر اس (بیوی) نے اس کو (دوسری بیوی کو) بتا دیا، اور اللہ نے نبی کو اس کی خبر دے دی، تو نبی نے اس (راز) کا کچھ حصہ (اس بیوی کو) جتلا دیا، اور کچھ سے چشم پوشی کی۔ پھر جب اس کو (اس بیوی کو) بتایا، تو وہ بولی: آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ آپ نے فرمایا: مجھے علیم و خبیر نے خبر دی۔ (4) اگر تم دونوں (عائشہؓ اور حفصہؓ) اللہ کے حضور توبہ کرو تو (بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل کج ہو چکے ہیں، اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو (یاد رکھو) اللہ اس کا مددگار ہے، اور جبرائیل، اور نیک مؤمنین، اور فرشتے سب اس کے مددگار ہیں۔(5) ممکن ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دے تو اس کا رب تمہیں تم سے بہتر بیویاں دے دے: مسلمان، مومن، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے رکھنے والیاں، بیوہ اور کنواریاں۔سورۃ التحریم آیت ۱ تا۵)
حضرت عائشہؓ کے بارے میں نازل ہونے والی مذکورہ آیات قرآنی نہ صرف آپؓ کے مقام و مرتبہ کی قرآنی شہادت ہیں بلکہ اسلامی معاشرے کے لیے اخلاقی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بغیر تحقیق کے کسی خبر کو پھیلانا کس قدر سنگین جرم ہے اور بہتان تراشی نہ صرف فرد کی عزت کو مجروح کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی توازن کو متاثر کرتی ہے۔17 رمضان المبارک کو یومِ وصال اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم قرآن کے ان ابدی احکامات کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں اور معاشرے کو افواہوں، بہتان تراشی اور کردار کشی جیسے فتنوں سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یہی حضرت عائشہؓ کی سیرت سے حقیقی استفادہ اور ان کے مقامِ عظمت کا عملی اعتراف ہے۔



