دوست دشمن ، دشمن دوست! سیاست کے سبھی راستے اقتدار کی طرف؛ مہانگرپالیکا الیکشن سے پہلے مہاراشٹرمیں سیاسی شطرنج تیز؛ پڑھیں کاوش جمیل کی اسپیشل رپورٹ

اسپیشل رپورٹ کاوش جمیل
سیاست کے راستے اور گلیاں کبھی دیواریں کھڑی کرکے بند نہیں کی جاتیں، بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں،یہ ایک مشہور قول ہے۔ مہاراشٹر کی سیاست نے بھی کچھ ایسا ہی رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں 2019 کے بعد سے اتحاد و اختلاف کی ایسی سیاسی جھولیں دکھائی دے رہی ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہوگیا ہے کہ کون کس کے ساتھ ہوگا اور کب منظر بدل جائے گا۔ سخت مخالف ایک ساتھ آتے نظر آرہے ہیں اور پرانے دوست ایک دوسرے کے مدِمقابل کھڑے ہیں۔ ایسے میں مہاپالیکا اور ضلع پریشد کے انتخابی موسم میں کئی مقامات پر دشمن دوست اور دوست دشمن بنتے دکھائی دے سکتے ہیں۔
گزشتہ 18 برسوں کی تلخی بھلا کر رواں سال مئی میں اُدھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے ورلی ڈوم میں مراٹھی کے مسئلے پر ایک ساتھ آئے۔ اس موقع پر راج ٹھاکرے نے کہا تھا کہ جو کام بالا صاحب ٹھاکرے سے بھی نہ ہوسکا، وہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کر دکھایا۔ اُدھو ٹھاکرے نے بھی اعتماد ظاہر کیا تھا کہ اگر ہم اکٹھے آئے ہیں تو اکٹھے رہیں گے۔ اس اعتماد کی جھلک بدھ کے روز دونوں پارٹیوں کے اتحاد کے اعلان میں نظر آئی۔ ممبئی مہاپالیکا کے ساتھ ساتھ قریب سات مہاپالیکاؤں میں مہاراشٹر نو نرمان سینا اور شیوسینا (اُدھو ٹھاکرے گروپ) مل کر الیکشن لڑیں گے۔ اگرچہ نشستوں کی تقسیم ابھی واضح نہیں، مگر اتحاد کی بساط بچھ چکی ہے۔ ماضی میں دونوں کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا، مگر فی الحال یہ سیاسی اختلافات تاریخ بن چکے ہیں۔ بی جے پی کے لیے یہ اتحاد وقتی طور پر چونکا دینے والا سہی، لیکن ممبئی مہانگرپالیکا میں اس سے نئے سیاسی مساوات قائم ہوں گے۔
مہایوتی میں بھارتیہ جنتا پارٹی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ اسمبلی کے بعد مقامی خود حکومتی اداروں میں بھی کامیابی نے پارٹی کے حوصلے بلند کیے ہیں۔ تاہم شندے سینا اور اجیت پوارگروپ کے کئی رہنماؤں کی بی جے پی میں شمولیت سے اتحادیوں کے درمیان کھچاؤ پیدا ہوا ہے۔ تھانے، کلیان اور نوی ممبئی میں شندے سینا اور بی جے پی کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کوکن میں رانے برادران کی سیاسی کشمکش اسی کا عکس ہے۔ دوسری طرف اجیت پوار نے پمپری،چنچوڑ اور پونے میں بی جے پی کے کئی کارپوریٹروں کو اپنی طرف کرلیا، جبکہ سولاپور سمیت دیگر علاقوں میں بی جے پی نے نیشنلسٹ کانگریس کے رہنماؤں کو شامل کرکے جوابی وار کیا ہے۔ اس سب کے باعث مذاکرات شکوک و شبہات کے سائے میں جاری ہیں۔
اسمبلی انتخابات کے دوران ونچت بہوجن اگھاڑی نے مہاوکاس اگھاڑی کے ساتھ آنے کی کوشش کی تھی۔ اُدھو ٹھاکرے نے ونچیت کو قریب لانے کی سعی کی، مگر اُس وقت بات نہ بن سکی۔ اب ممبئی مہاپالیکا کے لیے انڈین نیشنل کانگریس نے پہلے ہی اکیلے لڑنے کا اعلان کردیا ہے، تاہم اُدھو سینا کی جانب سے کانگریس کو منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ مناسب نشستیں نہ ملنے کی ناراضگی کے باعث شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس ٹھاکرے برادران سے دوری اختیار کرے گی یا نہیں۔ شرد پوار کی نیشنلسٹ، کانگریس، راسپ اورونچیت پر مشتمل نیا اتحاد ممبئی مہاپالیکا میں ممکنہ طور پر سامنے آ سکتا ہے۔ ونچیت نے کانگریس کے سامنے 43 نشستوں کی تجویز رکھی ہے۔ اگر ممبئی میں بات بنی تو ریاست کی دیگر مہاپالیکاؤں میں بھی کانگریس،ونچت کا اتحاد دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
پمپری،چنچوڑ اور پونے مہاپالیکا میں بی جے پی نے اکیلے لڑنے کا اعلان کرکے اجیت پوارکو سیاسی جھٹکا دیا۔ اقتدار بچانے کے لیے اب دونوں نیشنلسٹ دھڑوں کے ایک ہونے کی کوششیں آخری مرحلے میں ہیں۔ اجیت پوار کی نیشنلسٹ اور شرد پوار کی نیشنلسٹ کے باضابطہ اعلان کا انتظار ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہاں مہاوکاس اگھاڑی اور مہایوتی کے خلاف متحدہ نیشنلسٹ محاذ بن سکتا ہے۔ دو برس قبل کی تقسیم کو بھلا کر دونوں دھڑوں کا ایک ہونا پونے والوں کے لیے ایک نیا اور حیران کن سیاسی منظرنامہ ہوگا۔
ناندیڑ میں بھی سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں کانگریس کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا ہے جب پارٹی کے کئی مقامی عہدیدار اور سابق منتخب نمائندے کانگریس کو چھوڑ کر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین میں شامل ہو رہے ہیں۔ اندرونی ناراضگی، ٹکٹ نہ ملنے کی شکایت اور قیادت سے عدم اطمینان کے باعث یہ رہنما ایک ایک کر کے کانگریس سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ ناندیڑ میں AIMIM کی بڑھتی سرگرمیوں اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے نے کانگریس کے ووٹ بینک کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کا اثر آنے والے مہاپالیکا اور مقامی ادارہ جاتی انتخابات میں واضح طور پر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ناندیڑ میں کانگریس کی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے اور AIMIM ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر سکتی ہے، جس سے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ اور پیچیدہ ہو جائے گا۔
یہ تو ریاست کے چند بڑے مراکز کی مجموعی تصویر ہے۔ کئی مقامات پر مقامی اتحاد اور محاذ بندیاں مزید چونکا دینے والے نتائج لا سکتی ہیں۔ آخرکار سیاست کی تمام راہیں اقتدار کی طرف جاتی ہیں،اور اسی راستے میں نظریات اور موقف اکثر ثانوی ہو جاتے ہیں۔ یہی اقتدار کی سیاست کا اٹل سچ ہے۔



