اہم خبریں

دہلی عدالت کا بڑا فیصلہ: ممبئی وگجرات بم دھماکہ مقدمات میں عبدالسبحان قریشی اورعریض خان بے قصور قرار؛ برسوں بعد عدالت نے کہا، ثبوت کے بغیرسزا نہیں

نئی دہلی: (کاوش جمیل نیوز) :دہلی کی عدالت نے ممبئی اور گجرات بم دھماکہ مقدمات سے جڑے ایک اہم کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس اورقابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے عبدالسبحان قریشی اور عریض خان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بری کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، ملزمان پر یہ الزام تھا کہ وہ کالعدم دہشت گرد تنظیم Indian Mujahideen اور سیمی سے وابستہ تھے اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے، تاہم استغاثہ اس الزام کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے واضح کیا کہ چارچ شیٹ میں شامل مواد، پولیس کو دیے گئے بیانات اور دیگر دستاویزات محض الزامات پر مبنی ہیں، جن کی تائید کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق، ملزمان کا کسی کالعدم تنظیم کا رکن ہونا یا ان تنظیموں کو دوبارہ منظم کرنے کا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس معاملے کی سماعت Patiala House Court میں ہوئی، جہاں ایڈیشنل سیشن جج امِت بنسل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس کی جانب سے پیش کی گئی چارچ شیٹ میں زیادہ تر گواہان محض ڈیوٹی آفیسر یا ریکارڈ درج کرنے والے ملازمین ہیں، جو کسی جرم کے ثبوت کے لیے کافی نہیں سمجھے جا سکتے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس کے سامنے دیا گیا بیان اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوتا جب تک اس کی تائید آزاد اور ٹھوس شواہد سے نہ ہو۔ ایسے میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزمان واقعی ملک مخالف یا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل تھے۔ واضح رہے کہ عبدالسبحان قریشی کو 23 جنوری 2018 کو مشرقی دہلی کے غازی پور علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ عریض خان باتلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد ملک سے فرار ہو گیا تھا، جسے بعد ازاں 14 فروری 2018 کو بھارت-نیپال سرحد سے گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ 12 ستمبر 2014 کو راجستھان کے بجنور ضلع میں ایک حادثاتی دھماکہ ہوا تھا، جس کے بعد دہلی اور اتر پردیش کے نیپال سرحدی علاقوں میں چھاپے مارے گئے تھے۔ پولیس کو شبہ تھا کہ اس واقعے میں قریشی اور عریض خان کا ہاتھ ہے، جس کے تحت ان پر یو اے پی اے کے تحت دفعات 18 اور آئی پی سی 120-B لگائی گئی تھیں۔
عدالت نے 20 دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران دونوں ملزمان کو اس کیس میں عدالتی حراست سے فوری رہا کرنے کے احکامات دیے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ملزمان کے خلاف دیگر مقدمات زیرِ سماعت ہیں اور ان معاملات میں عدالتی کارروائی بدستور جاری رہے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!