
اسپیشل رپورٹ
کاوشِ جمیل
اجیت اننت راؤ پوار مہاراشٹر کی جدید سیاست کے اُن کرداروں میں شامل رہے جنہوں نے اقتدار، تنظیم اور فیصلہ سازی کو سیاست کا بنیادی ستون سمجھا۔ 22 جولائی 1959 کو ضلع پونے میں پیدا ہونے والے اجیت پوار ایک ایسے سیاسی ماحول میں پروان چڑھے جہاں اقتدار کی حرکیات، انتخابی حکمتِ عملیاں اور عوامی سیاست روزمرہ گفتگو کا حصہ تھیں۔ شرد پوار جیسے قدآور قومی رہنما کے بھتیجے ہونے کے باعث سیاست ان کے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ وراثت تھی، تاہم انہوں نے اس وراثت کو اپنی الگ شناخت، انداز اور طاقتور گرفت کے ساتھ آگے بڑھایا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد اجیت پوار کی عملی وابستگی زرعی شعبے، کوآپریٹو اداروں اور شکر صنعت سے رہی۔ یہی تجربہ ان کی سیاست کی بنیاد بنا۔ دیہی مہاراشٹر کے مسائل—پانی کی قلت، زرعی لاگت، کسانوں کے قرض، شکر ملوں کی سیاست اور کوآپریٹو بینکاری،ان کی سیاسی ترجیحات میں ہمیشہ نمایاں رہے۔ اسی پس منظر نے مغربی مہاراشٹر، خصوصاً بارامتی، کو ان کا مضبوط سیاسی قلعہ بنایا۔
1991 میں بارامتی سے لوک سبھا کا انتخاب جیت کر انہوں نے قومی سیاست میں قدم رکھا۔ یہ کامیابی محض ایک انتخابی فتح نہیں تھی بلکہ ایک ایسے رہنما کے ابھرنے کا اعلان تھی جو آگے چل کر ریاستی سیاست میں طاقت کا مرکز بننے والا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ریاستی سیاست کو ترجیح دی اور مہاراشٹر اسمبلی کے رکن بنے۔ بارامتی میں مسلسل عوامی رابطہ، ترقیاتی دعوے اور تنظیمی گرفت ان کی سیاست کا مستقل ہتھیار رہے۔
1999 میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد اجیت پوار کابینہ کا حصہ بنے۔ یہاں سے ان کی شناخت ایک ایسے منتظم کے طور پر بنی جو فیصلے لینے میں تاخیر نہیں کرتا، بیوروکریسی پر مضبوط گرفت رکھتا ہے اور فائلوں کو تیزی سے آگے بڑھاتا ہے۔ ان کا اندازِ سیاست نرم گفتاری سے زیادہ عملیت پسندی اور سخت فیصلوں پر مبنی تھا۔ حامیوں کے نزدیک یہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی، جب کہ ناقدین اسی کو سخت گیری اور طاقت کے بے جا استعمال سے تعبیر کرتے رہے۔
2010 میں نائب وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد اجیت پوار کا شمار مہاراشٹر کے طاقتور ترین سیاست دانوں میں ہونے لگا۔ آبپاشی منصوبے، زرعی پالیسیاں، مالی نظم و نسق اور ترقیاتی فیصلے ان کے مرکزی میدان رہے۔ کئی بڑے منصوبے ان کے نام سے جڑے، مگر اسی دور میں ان پر الزامات اور تنازعات بھی ابھرے، جنہوں نے ان کی سیاست کو متنازع بنایا۔ اس کے باوجود وہ اقتدار کے ایوانوں میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، جو ان کی سیاسی مہارت اور تنظیمی قوت کی علامت تھی۔
2019 میں مہاراشٹر کی سیاست ایک غیر معمولی بحران سے گزری جب حکومت سازی کے دوران اچانک سیاسی رخ بدلا گیا۔ یہ واقعہ اجیت پوار کی سیاسی زندگی کے سب سے بحث طلب ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ کوشش زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی، مگر اس نے یہ واضح کر دیا کہ وہ اقتدار کی سیاست میں بڑے رسک لینے سے نہیں گھبراتے اور بدلتے حالات میں تیزی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بعد ازاں وہ دوبارہ نائب وزیرِ اعلیٰ بنے، پھر سیاسی حالات کی تبدیلی کے ساتھ اپوزیشن میں گئے اور قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر حکومت پر جارحانہ تنقید کی۔ 2023 میں پارٹی کے اندر سیاسی بغاوت اور نئے اتحاد کا فیصلہ ان کی سیاست کا ایک اور جرات مندانہ مگر متنازع موڑ تھا۔ اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست کا پاور بیلنس بدل دیا اور اجیت پوار ایک بار پھر اقتدار کے مرکز میں آ گئے۔
ان کی پوری سیاسی زندگی میں ایک حقیقت نمایاں رہی کہ وہ ہمیشہ طاقت کے قریب رہے۔ حکومت کسی کی بھی ہو، ان کا اثر و رسوخ کم نہیں ہوا۔ ان کے حامی انہیں “دادا” کہہ کر ایک ایسے لیڈر کے طور پر یاد کرتے ہیں جو کام کرانے کی صلاحیت رکھتا تھا، جب کہ ناقدین انہیں موقع شناسی اور طاقت پر حد سے زیادہ یقین رکھنے والا سیاست دان قرار دیتے ہیں۔ یہی تضاد ان کی سیاست کی اصل پہچان بنا۔
اجیت پوار کی سوانحِ حیات مہاراشٹر کی سیاست کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے، جہاں نظریات، مفادات، اتحاد، بغاوت، انتظام اور عوامی سیاست ایک دوسرے میں گندھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کا سیاسی سفر ریاست کی جدید تاریخ کا ایک اہم، متنازع مگر اثر انگیز باب ہے، جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔



