بانیِ تعلیمِ جدید اور معمارِ قوم: مولانا ابوالکلام آزاد؛ یومِ ولادت پر ایک خراجِ تحسین: سپاہیِ آزادی سے پہلے وزیرِ تعلیم تک کا سفر

ازقلم ۔ واجد اسلم،اورنگ آباد
9767977488
ہر سال 11 نومبر کو، مجاہدِ آزادی، نامور عالم اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم، مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد کی یومِ ولادت کے موقع پر پورے ہندوستان میں قومی یومِ تعلیم منایا جاتا ہے۔ یہ دن ایک ایسے عظیم رہنما کی خدمات کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے ایک متحد اور تعلیم یافتہ ہندوستان کا خواب دیکھا اور اس کی بنیادیں مضبوط کیں۔ ان کی زندگی، ان کی جوانی، جدوجہدِ آزادی میں ان کا کردار، اور آزادی کے بعد ان کی تعلیمی خدمات ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔
پیدائش سے لے کر جوانی تک: علم اور بیداری کا سفر
مولانا آزاد کی پیدائش 11 نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ (سعودی عرب) میں ہوئی۔ ان کا خاندانی نام محی الدین احمد تھا، مگر وہ دنیا میں ابوالکلام آزاد کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے والد مولانا خیر الدین ایک نامور عالم تھے، اور والدہ شیخ محمد ظاہر وتری کی بیٹی تھیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر روایتی اسلامی طریقہ کار کے مطابق ہوئی، جہاں انہوں نے عربی، فارسی، اردو اور اسلامی علوم میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔ وہ فطری ذہانت اور علم کے شوق کے حامل تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے کم عمری میں ہی دینی اور ادبی حلقوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ صرف 12 سال کی عمر میں انہوں نے ایک لائبریری، ایک ریڈنگ روم، اور ایک مباحثہ سوسائٹی قائم کر دی تھی۔ بعد ازاں، انہوں نے جدید مغربی علوم، عالمی تاریخ اور سیاست کا مطالعہ بھی خود سے کیا۔ انہوں نے اپنے قلمی نام “آزاد” کو مذہب کے تنگ نظریاتی نقطہ نظر سے اپنی ذہنی آزادی کی علامت کے طور پر اپنایا۔
جدوجہدِ آزادی میں مولانا کا کلیدی کردار
مولانا آزاد نے بہت کم عمری میں ہی برطانوی راج کے خلاف ہندوستانی قوم پرستی کے مقصد کو اپنا لیا۔
صحافت کے ذریعہ جدوجہد: انہوں نے ایک صحافی کے طور پر شہرت حاصل کی، اور اپنے اخبارات “الہلال” (1912ء) اور بعد میں “البلاغ” کے ذریعے برطانوی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دیا۔ “الہلال” کے ذریعے ان کا مقصد مسلمانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور فرقہ وارانہ سیاست کے بجائے آزادی کی جدوجہد پر توجہ دلانا تھا۔ برطانوی حکومت نے ان اخبارات کو ضبط کر لیا اور ان کی اشاعت پر پابندی لگا دی۔
خلافت اورعدم تعاون تحریک: وہ خلافت تحریک اور مہاتما گاندھی کی عدم تعاون تحریک میں ایک فعال اور مرکزی رہنما تھے۔ انہوں نے عدم تشدد کی شہری نافرمانی کو سیاسی اہداف کے حصول کا ذریعہ مانا۔ قید و بند کی صعوبتیں: آزادی کی جدوجہد کے دوران مولانا کو متعدد بار قید کیا گیا۔ ان کے مشہور قید خانوں میں رانچی کی نظر بندی (1916ء)، عدم تعاون تحریک کے دوران قید اور قلعہ احمد نگر (1942ء سے 1945ء تک)، جہاں انہیں “ہندوستان چھوڑو” تحریک کے دوران کانگریس کی پوری قیادت کے ساتھ قید کیا گیا، شامل ہیں۔ وہ 1923ء اور پھر 1940ء سے 1945ء تک انڈین نیشنل کانگریس کے صدر رہے، اور یہ دوسرا دور وہ تھا جب کانگریس کی پوری قیادت جیل میں تھی۔ تقسیم کی شدید مخالفت: وہ ہندو-مسلم اتحاد کے پرزور وکیل اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے۔ انہوں نے دو قومی نظریے کی کھل کر مخالفت کی اور ہندوستانی تقسیم کے سخت مخالف رہے۔
تاریخی خطاب: جامع مسجد سے مسلمانوں کے نام پیغام
ہندوستان کی تقسیم اور آزادی کے بعد جب لاکھوں مسلمان خوف اور ہجرت کے عالم میں تھے، تو مولانا آزاد نے ستمبر 1947ء میں دہلی کی جامع مسجد کے تاریخی منبر سے ایک لازوال اور تاریخی خطاب کیا، جو مایوسی کے ماحول میں مسلمانوں کے لیے ایک معیارِ استقامت ثابت ہوا۔
“میرے بھائیو! میں نے ہمیشہ سیاست کو ذاتیات سے الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح آج سے کچھ عرصے پہلے تمہارا جوش و خروش بے جا تھا، اسی طرح آج تمہارا یہ خوف و ہراس بھی بے جا ہے۔۔۔ ڈرو نہیں، گھبراؤ نہیں! یہ تمہارے دلوں کا ایک عارضی میل ہے، اس کو دلوں سے نکال دو! اور دیکھو کہ یہ شاندار مسجد آج بھی تمہارے سامنے ہے۔۔۔ آج بھی تمہارے پاس دنیا کی بہترین اور کامیاب ترین قوم بننے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو دنیا کی دوسری کامیاب ترین قوموں کے پاس ہے!”
یہ خطاب ملتِ اسلامیہ ہند کو ہندوستان میں رہنے، جڑیں مضبوط کرنے اور ملک کی ترقی میں حصہ لینے کا ایک حوصلہ مندانہ مشورہ تھا۔
: آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم
آزادی کے بعد مولانا آزاد نے جواہر لال نہرو کی
کابینہ میں 1947ء سے 1958ء تک پہلے وزیرِ تعلیم کا قلمدان سنبھالا۔ انہوں نے جدید ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی اور تعلیم کو قومی تعمیر کا سب سے اہم ستون قرار دیا۔
تعلیمی اداروں کا قیام: انہوں نے تعلیم کو ہر ہندوستانی شہری کا حق قرار دیا اور 14 سال تک کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی وکالت کی۔ ان کی کوششوں سے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR)، اور ہندوستان کے اہم اعلیٰ تعلیمی ادارے جیسے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs) کی بنیادیں رکھی گئیں۔
ممبر آف پارلیمنٹ: ہندوستان کی آزادی کے بعد، مولانا آزاد اتر پردیش سے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور وہیں سے مرکزی حکومت میں وزیر تعلیم کی کرسی پر فائز ہوئے۔
مولانا کا پیغامِ تعلیم: مسلمانوں کو نصیحت
مولانا آزاد نے ہندوستان کے مسلمانوں کو واضح طور پر تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز مذہب کی تنگ نظری کو چھوڑ کر جدید اور عصری تعلیم کے حصول میں مضمر ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ماضی کی شان پر بھروسہ کرنے کے بجائے حال کی عملی زندگی میں اترنے اور تعلیمی میدان میں دوسری قوموں کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔
“یہ قوم کی ترقی کا سوال ہے، قوم اس وقت زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ علم کی دولت حاصل نہ کرے۔”
انہوں نے خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور بنیادی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا تاکہ مسلمان جہالت کی تاریکی سے باہر نکل سکیں۔
مولانا آزاد کی اہم تصانیف اور میراث
مولانا ایک عظیم مصنف، شاعر، اور مفسر بھی تھے۔
تصنیف/اخبار
| الہلال (Al-Hilal) | ہفتہ وار اخبار، 1912ء میں جاری کیا، قومی اتحاد اور برطانوی مخالف جذبات کو فروغ دیا گیا۔ |
البلاغ (Al-Balagh) | ہفتہ وار اخبار، “الہلال” کی ضبطی کے بعد 1915ء میں شائع کیا گیا۔ |
خطوط کا مجموعہ، قلعہ احمد نگر کی قید کے دوران لکھے گئے،
ادبی شاہکار۔ خودنوشت سوانح عمری کا کچھ حصہ ابتدائی زندگی اور خاندانی حالات کا بیان۔ ترجمان القرآن’: تفسیرِ قرآن ان کا سب سے بڑا علمی کام، قرآن کی عصری تفسیر۔ |
انڈیا ونس فریڈم (India Wins Freedom)| سیاسی سوانح عمری ہندوستان کی آزادی کے متعلق ان کے تجربات اور سیاسی خیالات پر مبنی ایک بہترین کتاب لکھی۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا انتقال 22 فروری 1958ء کو ہوا، لیکن ان کا نام اور کام ہندوستانی تاریخ اور تعلیمی نظام میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1992ء میں بھارت رتن کے اعزاکیاز سے نوازا گیا۔ وہ نہ صرف ایک سپاہیِ آزادی تھے، بلکہ وہ دورِ حاضر میں تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے اور اسے ہر ہندوستانی تک پہنچانے والے پہلے معمار بھی تھے۔



