امراوتی کے ولگاؤں سے اتحاد کا پیغام، شادی کا دعوت نامہ ہوا وائرل؛ “حضرت ٹیپوسلطان اورچھترپتی شیواجی مہاراج دونوں ہماری تحریک” شادی کارڈ نے جیتا سب کا دل

امراوتی: (کاوش جمیل نیوز) :موجودہ دورمیں جہاں سوشل میڈیا اور سیاست کی وجہ سے معاشرے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات بار بار دیکھنے کو ملتے ہیں، وہیں امراوتی ضلع کے ولگاؤں سے سماجی ہم آہنگی کی ایک منفرد خبر سامنے آئی ہے۔ یہاں ایک مسلم خاندان نے اپنے بیٹے کے شادی کے دعوت نامے میں چھترپتی شیواجی مہاراج اور ٹیپو سلطان دونوں تاریخی شخصیات کو بطور “تحریک” (Inspirational Figures) ذکر کر کے ایک نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ولگاؤں کے اس خاندان میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، لیکن اس شادی سے زیادہ اس کے دعوت نامے کی چرچا ہو رہی ہے۔ اس کارڈ میں ہندو اور مسلم دونوں مذاہب کی معزز شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے: “ہندو-مسلم اتحاد کو فروغ دینے کے لیے یہ ہمارا ایک چھوٹا سا قدم ہے۔
اگرچہ اس دعوت نامے پر کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر تنقید بھی کی ہے، لیکن متعلقہ خاندان نے اپنی پوزیشن واضح انداز میں پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: “مہاراشٹر میں جو لوگ ہندو-مسلم اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، ان کے لیے یہ دعوت نامہ ایک مضبوط جواب ہے۔ ہم ہمیشہ سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا کام کرتے آئے ہیں۔ تنقید کرنے والے جتنی چاہیں تنقید کریں، ہم اس پر توجہ نہیں دیتے۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ دعوت نامہ مراٹھی زبان میں چھاپا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس خاندان نے اسی طرح مراٹھی میں دعوت نامہ شائع کر کے لوگوں کے دل جیتے تھے۔ ان کا ماننا ہے: “ہم نے دعوت نامے میں وہی تاریخ بیان کی ہے جو حقیقت پر مبنی ہے۔ تمام عظیم شخصیات ہماری تحریک ہیں اور انہی کے خیالات سے معاشرہ متحد ہو سکتا ہے.
آج کے تیز رفتار اور تنازعات سے بھرے ماحول میں ایک عام خاندان کا اٹھایا گیا یہ قدم کئی لوگوں کے لیے قابلِ تعریف بن گیا ہے۔ مذہب کی دیواروں کو پار کرکے عظیم شخصیات کے نظریات کا احترام کرنا ہی دراصل ایک ترقی پسند مہاراشٹر کی پہچان ہے۔ ولگاؤں کی یہ “اتحاد والی شادی” اب صرف دو خاندانوں کو جوڑنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ دو برادریوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔




