مہاراشٹر

مدرسہ عربیہ فیض العلوم چندن جھیرہ جالنہ میں 44 سالہ عظیم الشان سیمینار ابنائے فیض کا کامیاب انعقاد

جالنہ: (بذریعہ ای میل) : گزشتہ کل بروز سنیچر کو مدرسہ عربیہ فیض العلوم چندن جھیرہ جالنہ میں ایک علمی، فکری، دعوتی، تربیتی واصلاحی تاریخی یک روزہ سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی صدارت مفکر قوم وملت حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی دامت برکاتہم ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے فرمائی، اور مقرر خصوصی کے طور پر مقرر شعلہ بیاں حضرت مولانا محمد خالد صاحب ندوی غازی پوری دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے شرکت کی۔
پروگرام کا نظام العمل اس طور پر تھا کہ پہلی (استقبالیہ) نشست صبح ساڑھے 9 تا ساڑھے 12 بجے منعقد ہوئی، نشست کا آغاز محمد فرحان درجہ حفظ کی قرات اور مذکر سوداگر درجہ حفظ کی نعت سے ہوا، پھر خطبہ استقبالیہ کنوینیر سیمینار مولانا عبد الروف خان ندوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور مدرسہ کے مہتمم مفتی احسان الحق مظاہری، صدر مدرس مولانا غلام احمد ندوی، استاذ مدرسہ مولانا سرور بیگ قاسمی اور مدرسہ کے سابق طالب علم مولانا عبد الروف صاحب ندوی عمر کھیڑ نے علمی فکری ودعوتی عناوین پر پر مغز محاضرات پیش کیے، اسی طرح ثناخوان مصطفی مدرسہ کے سابق طالب علم مولانا قاری محمد بشیر ندوی نے نعتیہ کلام پیش کیا، اس نشست کی نظامت استاذ مدرسہ مولانا مرتضی ندوی نے کی۔
دوسری نشست برائے کارگزاری بعد ظہر تا عصر منعقد ہوئی، اس نشست میں قرات محمد ابراہیم ثانویہ خامسہ اور نعت محمد عریش درجہ حفظ نے پیش کی، اس میں مختلف علاقوں کے ابنائے فیض نے اپنے اپنے علاقوں کی دینی، علمی و دعوتی خدمات کی کارگزاریاں، تاثرات اور عزائم پیش کیے، بعدہ کنوینر سیمینار نے ہدایات ارشاد فرمائی، اس نشست کی نظامت استاذ مدرسہ مولانا سرور بیگ قاسمی نے کی۔
آخری واختتامی نشست بعد نماز مغرب منعقد ہوئی، اس نشست کا آغاز محمد سہیل عالیہ اولی کی قرات اور محمد امن درجہ حفظ کی نعت سے ہوا، اس کے بعد صدر مدرس مولانا غلام احمد ندوی نے تعارفی کلمات پیش کیے، بعدہ ثناخوان مصطفی حافظ قاری محمد مصطفی مفتاحی اورنگ آباد نے نعتیہ کلام پیش کیا، پھر مقرر شعلہ بیاں حضرت مولانا محمد خالد ندوی غازی پوری دامت برکاتہم نے اپنے مختلف انداز میں خطاب کرتے ہوئے آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ کی روشنی میں ابنائے فیض وعلماء کی ذمہ داری پر روشنی ڈالی اور انھیں حالات کے پیش نظر ملت اسلامیہ کی صحیح رہنمائی ورہبری کا فریضہ انجام دینے پر ابھارا۔ ان کے فورا بعد صدر سیمینار حضرت مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی دامت برکاتہم کا پر مغز موثر وسبق آموز خطاب ہوا جس میں حضرت نے علماء کو اپنے مقام ومنصب کے پیش نظر امت کی قیادت کرنے، دین اسلام کی تعلیمات سے آراستہ کرنے، بلا تفریق مسلک وملت سارے انسانوں کو انسانیت کا پیغام پہنچانے اور ملت کی دینی و عصری علوم کے لیے مدارس و مکاتب کے ساتھ ساتھ اسلامک ایجوکیشنل اسکولس کے قائم کرنے کی طرف توجہ مبذول کرائی، اور ان سے اس سلسلے میں فکرمند ہونے کے لیے عزائم بھی لیے، اس نشست کی نظامت استاذ مدرسہ مولانا محمد مرتضی ندوی نے بحسن وخوبی انجام دی۔ پھر صدر جلسہ کی دعا پر اس عظیم الشان سیمینار کا اختتام عمل میں آیا۔
واضح رہے کہ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے تمام ہی اساتذہ کرام و طلباء کرام کی مسلسل کوششوں و محنتوں کو دخل ہے، اس یک روزہ سیمینار میں اول تا آخر تمام ہی شرکاء کے لیے طعام و قیام کا معقول انتظام کیا گیا، انھیں علمی فکری گائڈ لائن کے لیے کتابیں اور دیگر اشیاء کے ساتھ ایک فائل بھی دی گئی اور مدرسہ کی ترقی کے لیے ان کے تاثرات و عزائم بھی ایک فٹ بیک فارم کے ذریعے لیے گئے۔ اس طرح کی اطلاع شعبہ نشر و اشاعت سے استاذ مدرسہ مولانا محمد شفیق خان ندوی نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے دی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!